کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
حدیث نمبر: 8262
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ مَسْجِدَ قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالُ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَدَخَلَ مَعَهُ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ قَالَ يُشِيرُ بِيَدِهِ قَالَ سُفْيَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ لِرَجُلٍ سَلْ زَيْدًا أَسَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهِبْتُ أَنَا أَنْ أَسْأَلَهُ فَقَالَ يَا أَبَا أُسَامَةَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد قباء میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انصاری لوگوں میں سے کچھ آدمی داخل ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب سلام کہا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے، سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے کہا: زید سے پوچھو کہ کیا تم نے عبداللہ بن وہب سے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں ان سے سوال کرتا ہوں، انھوں نے کہا: ا ے ابو اسامہ ! کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انہیں دیکھا ہے اور ان سے کلام کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8263
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ صُهَيْبٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً وَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ صحابی ٔ رسول سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کر کے مجھے جواب دیا، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انھوں نے انگلی سے اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … علامہ سندھی حنفی نے کہا: یُشِیْرُ بِیَدِہ کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے سلام کا جواب دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی،بلکہ اس کو مکروہ بھی نہیں کہنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 8264
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا۔
وضاحت:
فوائد: … نمازی کو سلام کہنا اور اس کا اشارہ کر کے جواب دینا، اس کا حکم کیا ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۱۹۳۸)والا باب اور مفید بحث کا مطالعہ کریں۔
حدیث نمبر: 8265
عَنِ ابْنِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى رَحْلِهِ وَدَخَلْتُ أَنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَخَرَجَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَطَهَّرَ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بِخَيْرِ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اقْرَأْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى تَخْتِمَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل دیئے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں مسجد میں داخل ہو ا اور غمگین ہو کر بیٹھ رہا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طہارت حاصل کر لی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں سلاموں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ، َعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ ! میں تمہیں قرآن پاک کی بہترین سورت بتاؤں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بتائیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھو، یہاں تک کہ اس کو ختم کر دو۔
وضاحت:
فوائد: … سلام کا جواب دینے کے لیے وضو ضروری نہیں تھا، البتہ مستحب ضرور ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے، سلام بھی اللہ تعالی کے ذکر کی ایک صورت ہے۔