کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ چھینکنے والا، اس کے ارد گرد والے اور پھر وہ کون کون سے ذکر کرے
حدیث نمبر: 8241
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہے اور ارد گرد والے یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہیں اور پھر چھینکنے والا یہ کہے: یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے اور تمہاری حالت درست رکھے)۔
حدیث نمبر: 8242
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَحَدُهُمَا ذِي الْجَنَاحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ حَمِدَ اللَّهَ فَيُقَالُ لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَيَقُولُ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ذو الجناحین سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چھینکتے اور الحمد اللہ کہتے تو جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا جاتا: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کرے)۔
حدیث نمبر: 8243
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ رَحِمَكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكَ قَالَ حَجَّاجٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ کہے تو اس کو جواب دینے والا کہے: رَحِمَکَ اللّٰہُ اور اس کے جواب میں چھینکنے والا پھر کہے: (اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے)۔
حدیث نمبر: 8244
عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ آخَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ثُمَّ سَارَ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ قَالَ مَا أَرَدْتُ أَنْ تَذْكُرَ أُمِّي قَالَ لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَهَا كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ثُمَّ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيُقَلْ لَهُ يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ أَوْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ شَكَّ يَحْيَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلْيَقُلْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ہلال بن یساف، خالد بن عرفطہ کی آل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا سالم بن عبید کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا، سالم بن عبید نے اسے یوں جواب دیا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو، پھر وہ چلے اور اس چھینکنے والے سے کہا: شاید تو ناراض ہوگیا ہو؟ اس نے کہا:میرا یہ ارادہ تو نہیں تھا کہ تم یہاں میری ماں کا ذکر کرو (یہ تم نے نامناسب کام کیا ہے)، انھوں نے کہا: لیکن یہ کہے بغیر تو کوئی چارۂ کار نہ تھا، کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ یا الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، سننے والا اس کو یوں جواب دے: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، اور وہ چھینکنے والا پھر کہے: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِی وَلَکُمْ (اللہ تعالیٰ میری اور تمہاری بخشش فرمائے)۔
حدیث نمبر: 8245
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَ الْقَوْمُ مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَهُمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینکا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ کہو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہو۔ چھینکنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میں ان کے لئے کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے)۔
حدیث نمبر: 8246
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ شعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس امید میں چھینکتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لئے یَرْحَمُکُمُ اللّٰہُ کہیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا جواب یوں دیتے: یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے)۔
وضاحت:
فوائد: … رحمت کی دعا مسلمان کے ساتھ خاص ہے، البتہ ہر غیر مسلم کے لیے ہدایت کی دعا کی جا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 8247
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ مَزْكُومٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور (الحمد للہ کہا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ، اتنے میں وہ دوسری بار چھینکا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو زکام والا آدمی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت بعض سنن میں بھی ہے، سنن ابن ماجہ کا سیاق مکمل ہے، جو کہ درج ذیل ہے: