کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: چھینک، اس کے آداب اور چھینکنے والے کی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 8236
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ وَضَعَ ثَوْبَهُ أَوْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ مِنْ صَوْتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھینکتے تو اپنا کپڑا یا اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ لیتے اور آواز کو پست کر لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود کی روایت کے الفاظ زیادہ بامعنی اور واضح ہیں، وہ الفاظ یہ ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذَا عَطَسَ وَضَعَ یَدَہٗ أَوْ ثَوْبَہٗ عَلٰی فِیْہِ وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ بِہَا صَوْتَہٗ۔ … جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھینکتے تو اپنا ہاتھ یا کپڑا اپنے منہ پر رکھتے اور اس کے ذریعے اپنی آواز کو پست کر لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8236
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 5029، والترمذي: 2745 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9660»
حدیث نمبر: 8237
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ الشَّرِيفُ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ قَالَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ وَإِنَّكَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینکا،ان میں سے ایک دوسرے کی بہ نسبت زیادہ شرف والا تھا، شرافت والے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کی چھینک کاجواب نہ دیا اور دوسرے نے چھینکا اوراس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کا جواب دیا، اس شرافت والے نے کہا: میں نے بھی آپ کے قریب چھینکا ہے، لیکن آپ نے میرا جواب نہیں دیا اور اس نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا جواب دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے چھینک کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، پس میں نے بھی اس کا ذکر کیا اور تو اللہ تعالیٰ کو بھول گیا، پس میں نے بھی تجھے بھلا دیا۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن الفاظ کے ساتھ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہنے والے کو سمجھا رہے ہیں کہ اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہہ کر اللہ تعالی کو بھلایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کے حق میں دعائیہ کلمات نہ کہہ کر اس کو بھلا دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8237
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد : 932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8328»
حدیث نمبر: 8238
وَعَنْهُ أَيْضًا يَرْفَعُهُ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کسی کو چھینک آئے تو وہ ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8238
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه عبد الرزاق: 3325، والبيھقي: 2/ 289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11911»
حدیث نمبر: 8239
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعَطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے، تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8239
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3289، 6223 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9526»
حدیث نمبر: 8240
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يَعْنِي وَالِدَهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا قَالَتْ عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا فَقَالَ إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ تَعَالَى فَلَمْ أُشَمِّتْهُ وَإِنَّهَا عَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ تَعَالَى فَشَمَّتُّهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تُشَمِّتُوهُ فَقَالَتْ أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ ام فضل کی بیٹی ام کلثوم کے گھر میں تھے (یہ ان کی بیوی تھی)، میں نے چھینکا تو والد صاحب نے میرا کوئی جواب نہ دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو انھوں نے ان کا جواب دیا، جب میں اپنی ماں کے پاس واپس آیا تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا، جب میرے والد میری ماں کے پاس آئے تو میری والدہ نے کہا: میرے بیٹے نے چھینکا تو تم نے جواب نہیں دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو تم نے جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا:جی ہاں، تمہارے بیٹے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہیں کہا، اس لئے میں نے بھی جواب نہیں دیا اور اس خاتون نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، تو میں نے بھی اس کا جواب دیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو تم اس کا جواب دو اور اگر وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے تو پھر تم جواب نہ دو۔ انھوں نے کہا: پھر تو تم نے اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔
وضاحت:
فوائد: … چھینکنے کے آداب اور اس کے اذکار کا بیان ہو رہا ہے، تمام احادیث کا مفہوم واضح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8240
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2992 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19932»