کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
حدیث نمبر: 8198
عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرو اور یہودیوں کی مشابہت اختیاور نہ کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8198
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 137 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1415»
حدیث نمبر: 8199
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کو تبدیل کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8199
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1752 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10477»
حدیث نمبر: 8200
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْأَمْرُ بِالْأَصْبَاغِ فَأَحْلَكُهَا أَحَبُّ إِلَيْنَا قَالَ مَعْمَرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ (مسند أحمد:)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے سخت سیاہ رنگ سب سے زیادہ پسند ہے، امام زہری خود سیاہ رنگ لگاتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سر اور داڑھی کے بالوں کو رنگنے کی اصل وجہ اور علت یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اہل کتاب کے مخالفت کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے تھے، اس علت اور وجہ کی بنا پر بالوںکو رنگنا مستحب اور مؤکد ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8200
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 137 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8083 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
حدیث نمبر: 8201
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم (پودا) کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … وسمہ: یمن میں پائی جانے والی ایک بوٹی ہے، یہ سرخی مائل سیاہ رنگ نکالتی ہے، جبکہ مہندی کا رنگ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8201
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 726، والبيھقي في دلائل النبوة : 1/ 238 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17636»
حدیث نمبر: 8202
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَجْتُ فَرَأَيْتُ رَجُلًا جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ أَبِي تَدْرِي مَنْ هَذَا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ إِذَا رَجُلٌ ذُو وَفْرَةٍ بِهِ رَدْعٌ وَفِي رِوَايَةٍ رِدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور میں نے کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو دیکھا، میرے ابا جان نے مجھ سے کہا:کیا تجھے معلوم ہے یہ کون آدمی ہے؟ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جب ہم آپ تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کان تک تھے اور بالوں پر مہندی کے نشانات تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سبز رنگ کی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، میں نے دیکھا کہ آپ کے سفید بال مہندی کی وجہ سے سرخ نظر آ رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … وفرہ ان بالوں کو کہتے ہیں، جو کان کی لو تک پہنچتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8202
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 721، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7112»
حدیث نمبر: 8203
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8203
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5897 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27249»
حدیث نمبر: 8204
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز، جس سے تم ان سفید بالوں کو تبدیل کرتے ہو، وہ مہندی اور وسمہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8204
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21821»
حدیث نمبر: 8205
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَأَخِي مَخْضُوبٌ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هَذَا خِضَابُ الْإِسْلَامِ وَقَالَ لِأَخِي رَافِعٍ هَذَا خِضَابُ الْإِيمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے بالوں کو مہندی کے ساتھ اورمیرے بھائی نے زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا۔ مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اسلامی رنگ ہے، اور میرے بھائی رافع سے کہا: یہ ایمانی رنگ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ زرد رنگ مہندی سے افضل ہے، کیونکہ ایمان کا مرتبہ اسلام سے زیادہ ہے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8205
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حبيب بن عبد الله الازدي، وضعف ابنه عبد الصمد بن حبيب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20936»
حدیث نمبر: 8206
عَنْ حُمَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا نَحْوًا مِنْ سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ عِشْرِينَ شَعْرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَشِنْ بِالشَّيْبِ فَقِيلَ لِأَنَسٍ أَشَيْنٌ هُوَ قَالَ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ وَلَكِنْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں کو رنگتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک کے شروع میں سترہ یا بیس سے زیادہ سفید بال نظر نہیں آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑھاپے کے سفید بالوں کے عیب سے پاک رہے ہیں۔ کسی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا بڑھاپے کے سفید بال عیب ہیں؟ انھوں نے کہا: بس تم اس کو پسند نہیں کرتے، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ سے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہندی سے بالوں کو رنگ کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سفید بال مسلمان کے لیے نور اور وقار ہیں، عیب ہونے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بال کالے رہیں اور سفید نہ ہوں، یا سفید بالوں کا سفید باقی رہنا عیب ہے، یعنی مہندی وغیرہ کے ذریعے ان کی سفیدی کو تبدیل کر دینا چاہیے، تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو جائے، جیسا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جن کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سفیدی کو بدل دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8206
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5894، ومسلم: 2341 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12859»
حدیث نمبر: 8207
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَنْحَرِ وَرَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ يَقْسِمُ أَضَاحِيَّ فَلَمْ يُصِبْهُ مِنْهَا شَيْءٌ وَلَا صَاحِبَهُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ قَالَ فَإِنَّهُ لَعِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ يَعْنِي شَعْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قربان گاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، قریش کا ایک اور آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کے جانور تقسیم کر رہے تھے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کا جانور لیا اور نہ اس آدمی نے لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا اور بال ایک کپڑے میں جمع کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھی کو وہ بال دئیے، اس نے انہیں کچھ آدمیوں میں تقسیم کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ناخن بھی ترشوا کر اپنے ساتھی کو دئیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ بال ابھی تک ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ میں رنگے ہوئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8207
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة: 2932، والحاكم: 1/ 475 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16588»
حدیث نمبر: 8208
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْنِي طَارِقَ بْنَ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ خِضَابُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَرْسَ وَالزَّعْفَرَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہمارا خضاب ورس بوٹی اور زعفران ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8208
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 2975، والطبراني في الكبير : 8176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15977»
حدیث نمبر: 8209
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ غُرَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ بُنَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا خَضَبَ عُثْمَانُ قَطُّ تَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنا نہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کبھی بالوں کو رنگ نہیں لگایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8209
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ام غراب طلحة لايعرف حالھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 538»
حدیث نمبر: 8210
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَفِي الْعَنْفَقَةِ وَفِي الرَّأْسِ وَفِي الصُّدْغَيْنِ شَيْئًا لَا يُكَادُ يُرَى وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہندی اور کتم وغیرہ لگانا یا نہ لگانا، اوپر دونوں قسم کی روایات گزری ہیں، مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، یعنی جن صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی وغیرہ نہیں لگاتے تھے، ان کی بات کو ان کے علم پر ہی محمول کریں گے،یعنی ان کو رنگنے کا علم نہ ہو سکا، بہرحال ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رنگنے اور نہ رنگنے، دونوں کا ثبوت ملتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8210
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13296»