حدیث نمبر: 8193
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ أَوْ حُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپے کے سفید بالوں کو مت اکھاڑو، کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے، جو بھی مسلمان اسلام میں بوڑھا ہو جاتا ہے، تو اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے یا اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلشَّیْبُ نُوْرٌ فِیْ وَجْہِ الْمُسْلِمِ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَنْتَفِ نُوْرَہٗ۔)) … سفید بال مسلمان کے چہرے کا نور ہیں، جو چاہتا ہے، وہ اپنا نور اکھاڑتا رہے۔ (شعب الایمان للبیہقی: ۲/۲۵۰/۲، صحیحہ: ۱۲۴۴)
حدیث نمبر: 8194
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةٌ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں آخری الفاظ یوں ہیں: اور اس کے ذریعہ سے برائی مٹا دی جاتی ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بزرگ کی تعظیم نہ کرے اور ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے۔
حدیث نمبر: 8195
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ شَعْرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔
حدیث نمبر: 8196
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں بمشکل بیس بال سفید تھے۔ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی اور کتم (ایک پودا جو سیاہ رنگ کے طور پر استعمال ہوتا ہے) ملا کر لگاتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صرف مہندی لگا کر بالوں کو رنگا تھا۔
حدیث نمبر: 8197
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے تو یہ بڑھاپے کی سفیدی روز قیامت اس کے لئے نور بن جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں): عرف کا لحاظ رکھیں تو اس کا معنی جہاد ہو گا، یعنی جس نے سیاہ بالوں کی عمر سے جہاد شروع کیا اور بالوں کے سفید ہو جانے تک یہ عمل جاری رکھا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو، کیونکہ احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں، وہ تو اس کے بغیر بھی فضیلت والا ہے۔ واللہ اعلم۔وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا ان کی بنا پر نور حاصل ہو گا۔