کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 8185
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَارِبِهِ فَلَيْسَ مِنَّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی مونچھیں نہیں کاٹتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8185
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2761، والنسائي: 1/ 15، 8/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19488»
حدیث نمبر: 8186
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ شَارِبَهُ وَكَانَ أَبُوكُمْ إِبْرَاهِيمُ مِنْ قَبْلِهِ يَقُصُّ شَارِبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھیں کاٹا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے تمہارے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی مونچھیں کاٹا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8186
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سماك بن حرب حسن الحديث، الا في روايته عن عكرمة اضطراب، أخرجه الترمذي: 2760 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2738»
حدیث نمبر: 8187
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں اچھی طرح منڈواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8187
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5893، ومسلم: 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4654»
حدیث نمبر: 8188
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مِنْ هَذَا وَدَعُوا هَذَا يَعْنِي شَارِبَهُ الْأَعْلَى يَأْخُذُ مِنْهُ يَعْنِي الْعَنْفَقَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے بال کاٹا کرو اور اس کو چھوڑدو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اوپر والے ہونٹ کے بال کاٹے جائیں اور نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان والے بال چھوڑ دیئے جائیں (کیونکہ وہ داڑھی کا حصہ ہوتے ہیں، ان بالوں کو داڑھی بچہ کہتے ہیں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8188
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، لضعف ثوير بن ابي فاخته، قال الدار قطني: متروك، أخرجه الطبراني في الكبير : 5326، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5326»
حدیث نمبر: 8189
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جُزُّوا وَفِي لَفْظٍ قُصُّوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8189
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 260 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8764»
حدیث نمبر: 8190
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْفُوا اللِّحَى وَخُذُوا الشَّوَارِبَ وَغَيِّرُوا شَيْبَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داڑھیاں بڑھاؤ، مونچھیں کٹاؤ اور اپنے سفید بالوں کو تبدیل کرو اور اس طرح یہودو نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8190
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، انظر لشطره الاول الحديثَ السابق، والشطر الثاني أخرجه الترمذي: 1752 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8657»
حدیث نمبر: 8191
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کتاب اپنی داڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی مونچھیں کٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8191
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 7924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22639»
حدیث نمبر: 8192
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بِتُّ وَفِي رِوَايَةٍ ضِفْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ فَجَاءَ بِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ وَقَالَ مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ قَالَ وَكَانَ شَارِبِي وَفِي فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ أَوْ قَالَ أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بطور مہمان ٹھہرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے پہلو کے گوشت کے متعلق حکم دیا تو اسے بھونا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری لی اور میرے لئے اس گوشت سے کاٹنے لگ گئے، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری وہیں رکھ دی اور فرمایا: بلال کے ہاتھ خاک آلود ہوں (ذرا اور ٹھہر جاتا تو کیا ہو جاتا) سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیچے مسواک رکھ کر انہیں کاٹ دیا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو مسواک پر کاٹتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس کاطریقہ یہ ہو گا کہ ہونٹ کے پاس بالوں کے نیچے مسواک رکھ کر قینچی سے بال کاٹ لیے جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8192
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 188 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18425»