حدیث نمبر: 8177
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقٌ بِالْمَاءِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ قَالَ زَكَرِيَّا قَالَ مُصْعَبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرت سے ہیں، مونچھیں کٹوانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر اس کو جھاڑنا، ناخن تراشنا اور انگلیوں کے جوڑوں اور پوروں کو اچھی طرح دھونا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجاء کرنا۔ مصعب راوی کہتے ہیں: میں دسویں چیز بھول گیا ہوں، لگتا ہے کہ وہ کلی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … بَرَاجِم: اس کی واحد بُرْجُمَۃ ہے، اس سے مراد وہ تمام جگہیں ہیں، جہاں میل کچیل جمع ہوتا ہے اور توجہ نہ کی جائے تو پانی وہاں نہیں پہنچتا، مثلا: انگلیوں کی گرہیں اور پورے، جسم کے دیگر جوڑ اور ہتھیلی کی لکیریں وغیرہ۔
حدیث نمبر: 8178
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظَافِرِ وَتَنْفُ الْإِبِطِ وَالِاسْتِحْدَادُ وَالْخِتَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور ختنہ کروانا۔
حدیث نمبر: 8179
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْفِطْرَةِ حَلْقُ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمُ الْأَظَافِرِ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَقَالَ إِسْحَاقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّةً وَقَصُّ الشَّوَارِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیر ناف بال مونڈنا، ناخن تراشنا اور مونچھیں کاٹنافطرت سے ہیں۔
حدیث نمبر: 8180
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ أَوِ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَالسِّوَاكُ وَتَقْلِيمُ الْأَظَافِرِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَالِاسْتِحْدَادُ وَالِاخْتِنَانُ وَالِانْتِضَاحُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ امور فطرت سے ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈال کر اس کو جھاڑنا، مونچھیں کاٹنا، مسواک کرنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں اور پوروں کو دھونا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، ختنہ کروانا اور وضوء کے بعد شرمگاہ پر پانی چھڑکنا۔
حدیث نمبر: 8181
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مونچھیں کٹانے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے چالیس دن کی مدت متعین کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں زیادہ سے زیادہ دنوں کا تعین کیا گیا ہے، نظافت کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی جلدی اس صفائی کا اہتمام کر لیا کرے۔
حدیث نمبر: 8182
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخِتَانُ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ مَكْرُمَةٌ لِلنِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ملیح اپنے باپ اسامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ختنہ مردوں کے لئے تو سنت ہے اور عورتوں کے لئے عزت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ذہن نشین کر لیں کہ ختنہ کی وجہ سے لذت کی حس میںکمی آ جاتی ہے، اور یہی ہماری شریعت میں مطلوب ہے کہ لذت کو بھی کم کیا جائے اور نسل کو بھی باقی رکھا جائے، یہی افراط و تفریط کے درمیان اعتدال والی راہ ہے اور ختنہ کی وجہ سے ہم بستری کا سلسلہ بھی کم وقت میںختم ہو جاتا ہے اور اس میں عورت کے لیے بھی آسانی ہے۔
حدیث نمبر: 8183
عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ أَسْلَمْتُ فَقَالَ أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ يَقُولُ احْلِقْ قَالَ وَأَخْبَرَنِي آخَرُ مَعَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِآخَرَ أَلْقِ عَنْكَ شَعَرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو کلیب جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں مسلمان ہو چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کفر کے بال اتار پھینک۔ دوسرے راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کفر کے بال منڈوا دے۔ مجھے ایک اور آدمی نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دوسرے بندے سے فرمایا: کفر کے بالوں کو اتار پھینک اور ختنہ کر۔
وضاحت:
فوائد: … شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں: اللہ تعالی بہتر جانتے ہیں، بہرحال ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ نہیں کہ مسلمان ہونے والا ہر شخص اپنے سر کے بال منڈوا دے۔ یہاں شعر الکفر کہہ کر بالوں کی کفر کی طرف اضافت کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالوں کا کوئی خاص ڈیزائن تھا، جسے کافروں کی علامت سمجھا جاتا تھا، یہ علامتیں مختلف علاقوں میں مختلف ہوتی ہیں، … …۔ نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ختنہ اسلام کی علامت ہے اور اسلام قبول کرنے والے پر ختنہ کروانا واجب ہے۔ (عون المعبود: ۱/ ۲۰۸)
حدیث نمبر: 8184
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ بَعْدَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام نے اسی (۸۰) برس کی عمر کے بعد ختنہ کیا اور تیشے کے ساتھ ختنہ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … بہتر یہی ہے کہ چھوٹی عمر میں ختنہ کروا لیا جائے، اگر کسی عذر یا علم نہ ہونے کی وجہ سے یا کفر وغیرہ کی وجہ سے ختنہ نہ کیا جا سکے تو بعد میں جب اور جیسے ممکن ہو گا، ختنہ کیا جائے گا۔