کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مردوں کے لئے مکروہ خوشبو کا بیان
حدیث نمبر: 8161
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ عَلَى رُءُوسِهِمْ وَيَدْعُو لَهُمْ فَجِئْتُ بِي إِلَيْهِ وَإِنِّي مُطَيَّبٌ بِالْخَلُوقِ فَلَمْ يَمْسَحْ عَلَى رَأْسِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ أُمِّي خَلَّقَتْنِي بِالْخَلُوقِ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ کے پاس لانا شروع ہوئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لئے دعا فرماتے تھے، مجھے بھی لایا گیا، جبکہ مجھے خلوق خوشبو لگائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ نہ پھیرا، وجہ یہ تھی کہ میری ماں نے مجھے خلوق خوشبو لگارکھی تھی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور مجھے ہاتھ نہ لگایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8161
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله الھمداني، أخرجه ابوداود: 4181 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16492»
حدیث نمبر: 8162
عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِي حَاجَةٌ فَرَأَى عَلَيَّ خَلُوقًا فَقَالَ اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ فَذَهَبْتُ فَوَقَعْتُ فِي بِئْرٍ فَأَخَذْتُ مِشْقَةً فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ حَاجَتُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حبیبہ اس آدمی سے بیان کرتے ہیں جس نے چار سال صحابیت کا شرف حاصل کیا ، وہ کہتے ہیں: مجھے ایک کام تھا، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں نے خلوق خوشبو لگارکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اس کو دھو ڈالو۔ پس میں نے اس کو دھویا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: جاؤ اور اس کو دھو کر آؤ۔ پس میں اب کی بار گیا اور ایک کنوئیں میں اترا، السی سے بنی ہوئی ایک چیز لی اور جہاں جہاں خلوق لگی تھی، میں نے اس کے ساتھ اسے صاف کیا اور پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لوٹا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اپنی ضرورت بیان کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8162
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17138»
حدیث نمبر: 8163
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةَ رَجُلٍ فِي جَسَدِهِ شَيْءٌ مِنَ الْخَلُوقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز قبول نہیں کرتے، جس نے اپنے جسم پر خلوق لگائی ہوئی ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8163
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لجھالة جدّ الربيع بن انس، وجاء عند ابي داود عن جديه ودكلاھما مجھول، والربيع بن انس صدوق سييء الحفظ، أخرجه ابوداود: 4178 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19842»
حدیث نمبر: 8164
عَنْ ابْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيُبَارِكُ عَلَيْنَا قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَسَحَ وُجُوهَ الَّذِينَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي وَتَرَكَنِي وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ دَخَلْتُ عَلَى أُخْتٍ لِي فَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ فَقِيلَ لِي إِنَّمَا تَرَكَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِوَجْهِكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى بِئْرٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ إِنِّي حَضَرْتُ صَلَاةً أُخْرَى فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ وَجْهِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ وَقَالَ عَادَ بِخَيْرٍ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم چھوٹے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے موقع پر ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے اور ہمارے لئے برکت کی دعاء کرتے تھے، ایک دن آپ تشریف لائے تو میرے دائیں بائیں جو بچے تھے، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور مجھے چھوڑ دیا، وجہ یہ تھی کہ میں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا، اس نے مجھے زرد رنگ لگا دیا تھا، مجھ سے کسی نے کہا: تیرے چہرے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ تیرے چہرے پر یہ رنگ لگا ہوا ہے، پس میں ایک کنویں کیا طرف گیا، اس میں اترا اور غسل کیا، پھر میں دوسری نماز میں حاضر ہواتو میرے پاس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے اور میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعاء کی اور فرمایا: یعلی بہترین دین کے ساتھ لوٹا ہے اور اس کی توبہ سے آسمان بھی روشن ہوگیا ہے ( یعنی آسمان کے فرشتے خوش ہوئے ہیں۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8164
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن يعلي: اما ان يكون عبد الله واما عثمان، وعبد الله بن يعلي، قال البخاري: فيه نظر، وأما عثمان فھو مجھول، ويونس بن خباب قد ضُعِّف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17693»
حدیث نمبر: 8164M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ اغْتَسَلْتُ وَتَخَلَّقْتُ بِخَلُوقٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فَلَمَّا دَنَا مِنِّي جَعَلَ يُجَافِي يَدَهُ عَنِ الْخَلُوقِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ يَا يَعْلَى مَا حَمَلَكَ عَلَى الْخَلُوقِ أَتَزَوَّجْتَ قُلْتُ لَا قَالَ لِي اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ قَالَ فَمَرَرْتُ عَلَى رَكِيَّةٍ فَجَعَلْتُ أَقَعُ فِيهَا ثُمَّ جَعَلْتُ أَتَدَلَّكُ بِالتُّرَابِ حَتَّى ذَهَبَ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے غسل کیا اور خلوق خوشبو لگا لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے، جب میرے قریب آئے تو آپ نے خلوق سے اپنے ہاتھ کو نہ لگنے دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: اے یعلی! یہ خلوق کیوں لگائی ہے؟ کیا شادی کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں، شادی تو نہیںکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جا اور اسے دھو دے۔ پس میں ایک کنوئیں کی طرف گیا، اس میں اترا اور مٹی سے مل مل کر خلوق کو دھو ڈالا، یہاں تک کہ اس کے نشانات ختم ہو گئے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: یعلی بہترین دین کے ساتھ لوٹا ہے اور اس کی توبہ سے آسمان بھی روشن ہوگیا ہے ( یعنی آسمان کے فرشتے خوش ہوئے ہیں۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8164M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عمر بن عبد الله بن يعلي و أبوه ضعيفان، أخرجه ابن خزيمة: 2675 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17698»
حدیث نمبر: 8165
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ قَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میرے اوپر زعفران کی زردی کا داغ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے دھو، پھر اس کو دھو، پھر اس کو دھو اور اس کے بعد یہ نہیں لگانی۔ پس میں نے اس کو دھویا اور پھر وہ دوبارہ نہیں لگائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8165
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 685 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17695»
حدیث نمبر: 8166
وَفِي لَفْظٍ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ قَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (ایک روایت میں ہے:) اور مجھ پر زعفران کی وجہ سے زردی کا نشان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو دھو، پھر دھو اور پھر دھو اور دوبارہ نہیں لگانی۔ وہ کہتے ہیں:پس میں نے اس کو دھویا اور پھر دوبارہ کبھی نہیں لگائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8166
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الاحاديث السابقة ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17695»