کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خوشبو، سرمہ اور ان سے متعلقہ امور کے ابواب¤خوشبو کے مستحب ہونے اور عمدہ ترین خوشبو کا بیان
حدیث نمبر: 8155
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرُدَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خوشبو لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو واپس نہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 8156
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طِيبٌ قَطُّ فَرَدَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایسی کوئی صورت نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خوشبو پیش کی گئی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ردّ کر دیا ہو۔
حدیث نمبر: 8157
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے میرے نزدیک پسندیدہ چیزیں بیویاں اور خوشبو ہے اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … خوشبو اور نماز کا معاملہ تو واضح ہے۔
حدیث نمبر: 8158
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کستوری کا ذکر کیا گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
حدیث نمبر: 8159
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کونسی خوشبو لگاتی تھیں؟ انھوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی۔
حدیث نمبر: 8160
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: گویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت احرام میں ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … محرم کے لیے خوشبو کا حکم، دیکھیں حدیث نمبر (۴۱۵۶)