حدیث نمبر: 8150
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدَّتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِمْ قَالَ وَقَدْ كَانَتْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي اخْتَضِبِي تَتْرُكُ إِحْدَاكُنَّ الْخِضَابَ حَتَّى تَكُونَ يَدُهَا كَيَدِ الرَّجُلِ قَالَتْ فَمَا تَرَكَتِ الْخِضَابَ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ كَانَتْ لَتَخْتَضِبُ وَإِنَّهَا لَابْنَةُ ثَمَانِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ضمرہ بن سعید اپنی دادی سے اور وہ اپنے خاندان کی ایک عورت سے بیان کرتی ہیں، اس خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی جانب نماز پڑھی تھی، یہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا: ہاتھ رنگا کرو، عورتیں مہندی کو چھوڑے رکھتی ہیں، یہاں تک کہ ان کا ہاتھ مرد کے ہاتھ کی طرح لگنے لگتا ہے۔ اس فرمان کے بعد اس خاتون نے مہندی کو ترک نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملی، یہ اس وقت بھی مہندی لگاتی تھی، جس وقت اس کی عمر اسی برس تھی۔
حدیث نمبر: 8151
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَدَّتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَوْ يَدُ امْرَأَةٍ فَقَالَتْ بَلِ امْرَأَةٌ فَقَالَ لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے پردہ کے پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب ہاتھ پھیلایا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا۔ اس نے کہا: جی میں عورت ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو عورت ہے تو مہندی سے اپنے ناخنوں کا رنگ تبدیل کر لیا ہوتا۔
حدیث نمبر: 8152
عَنْ كَرِيمَةَ ابْنَةِ هَمَّامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَأَخْلَوْهُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مَا تَقُولِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ كَانَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ لَوْنُهُ وَيَكْرَهُ رِيحَهُ وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ عَلَيْكُنَّ بَيْنَ كُلِّ حَيْضَتَيْنِ أَوْ عِنْدَ كُلِّ حَيْضَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں: میں مسجد حرام میں داخل ہوئی تو میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنہا پایا، ایک عورت نے ان سے سوال کیا: اے ام المومنین! مہندی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا:میرے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رنگ کو تو پسند کرتے تھے، لیکن اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے، بہرحال یہ حرام نہیں، پاکیزگی کی حالت میں یا حیض کے فارغ ہوتے وقت اس کا اہتمام کیا کرو۔
حدیث نمبر: 8153
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِيَّاكُنَّ وَقَشْرَ الْوَجْهِ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنِ الْخِضَابِ فَقَالَتْ لَا بَأْسَ بِالْخِضَابِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ لِأَنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم چہروں پر زعفران لگانے سے پرہیز کیا کرو، اتنے میں ایک عورت نے ان سے مہندی کے متعلق سوال کیا، انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن میں اسے پسند نہیں کرتی، کیونکہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بو کو نا پسند کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … قشر کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۱۳۲)
حدیث نمبر: 8154
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخْتَضِبُ وَتَتَطَيَّبُ فَتَرَكَتْهُ فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقُلْتُ لَهَا أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ فَقَالَتْ مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ قُلْتُ لَهَا مَا لَكِ قَالَتْ عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا وَفِي رِوَايَةٍ فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی مہندی اور خوشبو لگایا کرتی تھیں، لیکن پھر اس نے یہ چیزیں چھوڑ دیں، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہارا خاوند گھر پر موجود ہے یا غائب ہے؟ اس نے کہا: حاضر تو ہے، لیکن غائب کی مانند ہے۔ میں نے کہا: کیا مطلب؟ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ اس نے کہا: عثمان نہ دنیا چاہتے ہیں اورنہ عورتوں سے رغبت رکھتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے یہ بات آپ کوبتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: اے عثمان ! کیا تم اسی طرح ایمان رکھتے ہو، جس طرح ہم ایمان رکھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو پھر ہم میں تیرے لیے کوئی نمونہ اور اسوہ نہیں ہے، پس تو اس طرح کر، جیسے ہم کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بڑے عبادت گزار تھے، تہجد اور عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے بیوی سے بھی دور ہو گئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سمجھایا کہ عبادت کے علاوہ بھی ایسے حقوق ہیں کہ جن کی ادائیگی ضروری اور مسنون ہے، جیسے بیوی کا حق ہے۔