کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب¤بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 8129
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زُوِّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعْرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار ہوئی اور بیماری میں اس کے بال گر گئے، انہوں نے چاہا کہ وہ مصنوعی بال لگوا لیں، لیکن جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بال ملانے کے متعلق سوال کیا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال ملانے والی اور بال ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر لعنت کی۔
حدیث نمبر: 8130
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 8131
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَسَقَطَ شَعْرُهَا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، لیکن اس کے بال گرنے لگے، پھر جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بال ملانے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال ملانے والی عورت اور اس عورت پر لعنت کی جس کے بال ملائے گئے۔
حدیث نمبر: 8132
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْقَاشِرَةَ وَالْمَقْشُورَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُتَّصِلَةَ زَادَتْ فِي رِوَايَةٍ وَالنَّامِصَةَ وَالْمُتَنَمِّصَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان خواتین پر لعنت کی ہے: زعفران کے ساتھ چہرہ رنگنے والی اور اس کے ساتھ رنگوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی، بال ملانے والی اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی اور چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی۔
وضاحت:
فوائد: … قاشرہ: جلد کا چھلکا اتارنے والی، مراد وہ عورت جو زعفران لے کر چہرہ صاف کرتی ہے اور اس کا رنگ لگاتی ہے، اور مقشورہ وہ خاتون جس کے ساتھ یہ عمل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 8133
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ قَالَ فَبَلَغَ امْرَأَةً فِي الْبَيْتِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ فَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ بَلَى قَالَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَتْ إِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا فَجَاءَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَالَ لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا قَالَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أُمِّ يَعْقُوبَ سَمِعَهُ مِنْهَا فَاخْتَرْتُ حَدِيثَ مَنْصُورٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے گودنے والی، گدوانے والی، بال اکھڑوانے والی اور حسن اختیار کرنے کے لئے دانتوں میں فاصلہ بنانے والیوں، جو کہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بدل دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب پر لعنت کی ہے، جب یہ بات گھر میں موجودایک ام یعقوب نامی عورت تک پہنچی تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے اس قسم کی عورتوں پر لعنت کی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں، جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے تو دو گتوں میں موجود اول تا آخر قرآن پاک پڑھا ہے، اس میں تو ان پرلعنت کا ذکر نہیں ہے، انہوں نے کہا: اگر تم نے قرآن پاک پڑھا ہوتا تو اس میں ضرور پاتی، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} … رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ ؟ اس عورت نے کہا: جی کیوں نہیں، پڑھی ہے،پس سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کام سے منع کیا ہے۔ اس عورت نے کہا: میرا خیال ہے کہ تمہارے گھر والے بھی یہ کام کرتے ہیں۔انھوں نے کہا: جاؤ اور دیکھ لو، اس نے دیکھا تو اس کاخیال پورا نہ ہوا، وہاں اس طرح کی کوئی چیز نہ تھی، وہ آئی اور اس نے کہا: تمہارے گھر میں تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم ہمارے گھر یہ چیزیں دیکھتیں تو ہمارے گھر والے اور میں اکٹھے نہ رہتے۔
وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سنتوں کو بھی کتاب اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے، جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہوتا تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 8134
عَنْ مَسْرُوقٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ الْوَاصِلَةِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ أَشَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَمْ سَمِعْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ تَصَفَّحْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ الَّذِي تَقُولُ قَالَ فَهَلْ وَجَدْتِ فِيهِ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ نَعَمْ وَفِي آخِرِهِ قَالَ مَا حَفِظْتِ إِذًا وَصِيَّةَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس نے کہا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ بال ملانے والی کو روکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، روکتا ہوں! اس نے کہا: کیا تم اس چیز کو اللہ تعالیٰٰ کی کتاب میں پاتے ہو یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا:میں اللہ کی کتاب میں بھی پاتا ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی سنا ہے، اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم!میں نے اول تا آخر قرآن پاک کو بغور پڑھا ہے، لیکن اس میں تو یہ موجود نہیں۔ انھوں نے کہا: کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} … رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ ؟ اس نے کہا: جی ہاں، پڑھی ہے۔ اس حدیث کے آخر میں ہے: اگر میں جس چیز سے منع کرتا ہوں، خود اس کو کروں تو پھر میں نے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (سیدنا شعیب علیہ السلام ) کی نصیحت کو یاد نہیں رکھا، انھوں نے کہا تھا، (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أُرِیدُ أَنْ أُخَالِفَکُمْ إِلٰی مَا أَنْہَاکُمْ عَنْہُ} … میرا یہ ارادہ نہیں ہے کہ میں جس چیز سے تمہیں منع کرتا ہوں، خود اس کی مخالفت کروں۔
حدیث نمبر: 8135
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال لگانے والی، بال لگوانے والی،عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
وضاحت:
فوائد: … جو لباس اور وضع قطع مرد و زن میں سے ایک کے ساتھ خاص ہو، وہ دوسرے کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے، مثلا مردوں کا عورتوں کی طرح لمبے بال رکھنا، لباس میں عورتوں کے رنگ منتخب کرنا، مردوں کا کنگن اور بالیاں پہننا۔
حدیث نمبر: 8136
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنے بالوں کے ساتھ کوئی چیز ملائے۔
حدیث نمبر: 8137
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَتَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ لمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیا یہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت میں کمر بستہ ہوجاتے۔
وضاحت:
فوائد: … وقار، احترام، اکرام اور نکاح کے حرام ہونے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ماؤں کی طرح ہیں، چونکہ نکاح کا حکم تو مردوں کے لیے ہے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آپ کو خواتین کی بہن ظاہر کر رہی ہیں، یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال امہات المؤمنین کا یہ حکم نسب کی وجہ سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 8138
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سُوءٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزُّورِ وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الزَّوَرَ قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ فَقَالَ أَلَا وَهَذَا الزُّورُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ قَالَ قَتَادَةُ هُوَ مَا تُكْثِرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ایک دن کہا: تم نے بری عادت ایجاد کرلی ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، ایک آدمی ایک لاٹھی لایا، اس کے سرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا لٹک رہا تھا، اس نے کہا: خبردار! یہی جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد کپڑے کے وہ ٹکڑے ہیں، جن کے ساتھ عورتیں اپنے بال زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … خاتون کا اپنے بالوں میں کوئی ایسی چیز داخل کرنا یا ملانا منع ہے، جس سے اس کا مقصود یہ ہو کہ اس کے بال زیادہ نظر آئیں، یہ جھوٹ اور خلافِ فطرت چیز ہو گی، البتہ بالوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پراندہ وغیرہ لگانا جائز ہے، چھوٹا ہو یا بڑا، لیکن شرط یہی ہو کہ عورت کا مقصد یہ ہو کہ بال قابو میں رہیں، یا اس کا مقصد زینت ہو، ضروری یہ ہے کہ اس میں بھی کوئی جعل سازی اور دھوکا دہی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8139
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر یا مدینہ منورہ کے منبر پر خطبہ دیا اور بالوں کا ایک گچھا نکالا اور اس کے بارے میں کہا: مجھے اتنا پتہ نہیں تھا کہ یہودیوں کے علاوہ بھی کوئی یہ کام کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جھوٹ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 8140
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعَرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَقَالَ إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید بن عبدالرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، جبکہ ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، انھوں نے کہا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کو اس وقت عذاب دیا گیا، جس وقت ان کی عورتوں نے اس قسم کے بالوں کے گچھے استعمال کرنا شروع کیے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت اور ان کے آخری حج کی بات ہے، اس موقع پر وہ مدینہ منورہ میں بھی حاضر ہوئے تھے، دوران خطبہ کوئی چیز لوگوں کو دکھانے کے لیے ہاتھ میں پکڑی جا سکتی ہے، نیز بنو اسرائیل یا دیگر اقوام کی ہلاکت و تباہی کے واقعات عبرت کے لیے بیان کیے جا سکتے ہیں، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی کا نتیجہ کس قدر خطرناک اور تباہ کن ہوتا ہے۔