کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت¤اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8098
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الْدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا،اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ذلت کا لباس پہنائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُہْرَۃٍ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8098
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4029، 4030،و ابن ماجه: 3607 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5664»
حدیث نمبر: 8099
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ خُسِفَ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتا جا رہاتھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین دھنستا چلا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8099
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5790 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5340»
حدیث نمبر: 8100
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8100
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2088، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7618»
حدیث نمبر: 8101
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي مَجْلِسِ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ فَمَرَّ فَتًى مُسْبِلًا إِزَارَهُ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَعَاہُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ بَنِي بَكْرٍ فَقَالَ: تُحِبُّ أَنْ يَنْظُرَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اِرْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ يَقُولُ: ((مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الْخُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مسلم بن یناق کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ کے بیٹوں کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قریشی نوجوان کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے اپنا تہبند نیچے لٹکایا ہواتھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلایا اور کہا: تیرا کس قبیلہ سے تعلق ہے؟ اس نے کہا: بنو بکر سے، انھوں نے کہا:کیا تو پسند کرتا ہے کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ تجھے دیکھے؟ اس نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: تو پھر اپنا تہبند اوپر کر لو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس نے تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پرکھینچا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5783، ومسلم: 2085، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5327»
حدیث نمبر: 8102
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ فَجَعَلَ يَمِيسُ فِيهَا حَتَّى قَامَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ عِنْدَكَ فِي حُلَّتِي هَذِهِ مِنْ فُتْيَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَقَالَ حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ بُرْدَيْنِ فَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَبَلَعَتْهُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ اذْهَبْ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حسن کہتے ہیں:ایک دفعہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سے بات چیت کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ اپنی مجلس میں تھے، اس پر ایک حلہ تھا اور وہ اس میں اترا کے چل رہا تھا، یہاں تک کہ وہ سیدنا بو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر رکا اوراس نے کہا: اے ابو ہریرہ! میری اس پوشاک کے بارے میں آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: مجھے میرے صادق و مصدوق خلیل ابو قاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ تم سے پہلے ایک آدمی دو چادروں میں اترا کر چلتا ہواجا رہاتھا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہوئے اور زمین کو حکم دیا، پس اس نے اسے نگل لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔ اے آدمی توبھی قیامت کے دن تک چلتا جا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10459»
حدیث نمبر: 8103
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8103
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البزار: 2952 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11373»
حدیث نمبر: 8104
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ هُبَيْبِ بْنِ مُغْفِلٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى مُحَمَّدًا الْقُرَشِيَّ قَامَ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَفِي لَفْظٍ يَجُرُّ رِدَاءَهُ خَلْفَهُ وَيَطَؤُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ هُبَيْبٌ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَطِئَهُ خُيَلَاءَ وَطِئَهُ فِي النَّارِ وَفِي لَفْظٍ مَنْ وَطِيَ عَلَى إِزَارِهِ خُيَلَاءَ وَطِيَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہبیب بن مغفل انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے محمد قریشی کو دیکھا، وہ کھڑاہوا اور اپنا تہبند اپنے پیچھے گھسیٹ رہا تھا اور وہ اس کو روند رہا تھا، سیدنا ہبیب رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے کو روندا تو وہ اس کو دوزخ کی آگ میں بھی روندے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8104
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 1542، والطبراني في الكبير : 22/ 544، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18247»
حدیث نمبر: 8105
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو قاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف نہیں دیکھے گا، جس نے تکبر سے اپنے تہبند کو گھسیٹا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8105
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5788، ومسلم: 2078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9004 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8992»
حدیث نمبر: 8106
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ قُرْصٍ أَوْ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ الْيَوْمَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ فَقُلْتُ لِأَبِي قَتَادَةَ فَكَيْفَ لَوْ أَدْرَكَ زَمَانَنَا هَذَا فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ لَكَانَ لِذَلِكَ أَقْوَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن قرص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم آج ایسے اعمال کرتے ہو، جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، جبکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ان کو تباہ کن اور مہلک اعمال تصور کرتے تھے۔ میں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ ہمارا زمانہ پا لیتے تو پھر کیا ہوتا؟ انھوں نے کہا: تو پھر وہ اور سخت بات کہتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8106
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الدارمي: 2/ 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21031»
حدیث نمبر: 8107
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ أُمُورًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُوبِقَاتِ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ صَدَقَ وَأَرَى جَرَّ الْإِزَارِ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبادہ بن قرط رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسے ایسے امور سر انجام دے رہے ہو کہ وہ تمہاری نگاہوں میں تو بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، لیکن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ان کو تباہ کن گناہ سمجھتے تھے۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: انھوں نے یہ بات سچی بیان کی ہے اور میرا خیال ہے کہ تہبند لٹکانا بھی اسی کی ایک مثال ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8107
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21030»
حدیث نمبر: 8108
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَّ قَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عطاء بن یسار ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہاتھا، جبکہ اس کا ازار اس کے ٹخنوں سے نیچے تک لٹک رہا تھا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو جا اور وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تو جا اور پھر وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہے کہ آپ نے اس کو وضو کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو خاموش ہو گئے، لیکن پھر فرمایا: اس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8108
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي جعفر الانصاري المدني، أخرجه ابوداود: 638، 4086 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16745»
حدیث نمبر: 8109
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف نہیں دیکھتا جس نے تہبند لٹکایا ہوا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8109
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 8/ 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2955»
حدیث نمبر: 8110
عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ يَا خُرَيْمُ لَوْلَا خُلَّتَانِ فِيكَ قُلْتُ وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِسْبَالُكَ إِزَارَكَ وَإِرْخَاؤُكَ شَعْرَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے خریم! تو بڑا اچھا آدمی ہے، کاش اگر تجھ میں دو عادتیں نہ ہوتیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اور بال زیادہ لمبے رکھنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8110
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه، أخرجه الطبراني في الكبير : 4157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19246»