کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خوبصورت لباس کی رخصت، لیکن اس سلسلے میں تواضع کے مستحب ہونے¤اور شہرت اور اسبال کی کراہت کے ابواب¤خوبصورت لباس اور اس میں تواضع کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 8096
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا وَرَأْسِي دَهِينًا وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ سَوْطِهِ أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا ذَاكَ الْجَمَالُ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص دوزخ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ایک دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ایک دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ پسند ہے کہ میرا لباس دھلا ہوا ہو، میرے سر میں تیل لگا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیا ہو، انھوں نے مزید اشیاء کا بھی ذکر کیا، حتیٰ کہ اپنے کوڑے کے دستے کا بھی تذکرہ کیا، اے اللہ کے رسول! کیا یہ چیزیں تکبر میں شامل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو جمال اور خوبصورتی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ خود بھی جمیل ہے اور جمال کو پسند بھی کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ آدمی حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا معنی درست ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ایک آدمی نے کہا کہ اگر آدمی یہ پسند کرتا ہو کہ اس کے کپڑے اور اور جوتے اچھے ہوں تو اس کے جواب میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی الفاظ ارشاد فرمائے تھے کہ اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 8097
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ أَيَّهَا شَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے تواضع کرتے ہوئے قدرت رکھتے ہوئے (شاندار) لباس چھوڑ دیا ،اللہ تعالیٰ اسے مخلوق کے روبرو بلائیں گے اور اسے اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی پوشاکوں میں جو چاہے پہن لے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث پر عمل کرنے کے لیے اللہ تعالی کے ساتھ گہرے تعلق کی ضرورت ہے، وگرنہ عام آدمی ایسا کرنے میں لذت اور حلاوت محسوس نہیں کرے گا۔