کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 8077
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا وَلَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَبَلَّ عُمَرُ ثَوْبًا وَمَحَاهَا فَدَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِيهَا مِنْهَا شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں تصویروں سے اور اس سے منع فرمایا کہ آدمی تصویریں بنائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور اس میں موجود ہر تصویر کو مٹا دیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ بطحاء میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک بیت اللہ میں داخل نہ ہوئے، جب تک اس میں موجود تمام تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔ایک روایت میں ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑا بھگویا اور ان تمام تصویروں کو مٹا ڈالا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس میں ایک تصویر بھی باقی نہیں تھی۔
حدیث نمبر: 8078
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَعَثَ عَامِلَ شُرْطَتِهِ فَقَالَ لَهُ أَتَدْرِي عَلَى مَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْحِتَ كُلَّ يَعْنِي صُورَةً وَأَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پولیس کا ایک عامل بھیجا اور اس سے کہا: کیا تجھے یہ پتہ ہے میں تجھے کس مہم پر بھیج رہا ہوں؟ اس کام پر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ میں ہر تصویر کو مٹا دوں اور ہر قبر کو برابر کردوں۔
وضاحت:
فوائد: … قبر سے متعلقہ مسئلہ کتاب الجنائز میںگزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 8079
عَنْ سَفِينَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَنَعُوا لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَجَاءَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَإِذَا قِرَامٌ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ اتْبَعْهُ فَقُلْ لَهُ مَا رَجَعَكَ قَالَ فَتَبِعَهُ فَقَالَ مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کامیزبان بنا،انھوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دعوت دے دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائیں (تو بہتر ہو گا)، سو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، آپ ابھی دروازے کی چوکھٹ پر ہی تھے کہ گھر کے کونے میں لٹکایا ہوا ایک پردہ دیکھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پر دہ دیکھا، تو واپس تشریف لے گئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مل کر پوچھو کہ آپ کس چیز کی وجہ سے واپس جا رہے ہیں، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ واپس کیوں تشریف لے جا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یا نبی کے لئے مناسب نہیں کہ اس طرح کے مزین گھر میں داخل ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ضرورت کے مطابق پردہ لگانا جائز ہے، اصل وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آل کو سادگی پر برقرار رکھنا چاہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تھا کہ یہ دنیوی زینت و آرائش سے دور رہیں۔
حدیث نمبر: 8080
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ مَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَلِتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذَّبُونَ بِهَا يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک چھوٹا سا تکیہ خریدا، اس میں تصوریں تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہ ہوئے، میں آپ کے چہرۂ مبارک سے ناراضگی بھانپ گئی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس تکیے کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے یہ خریدا ہے تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان تصویر والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویریں بنائی تھیں، اب ان کو زندہ کرو، اور جس گھر میں یہ تصویر ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 8081
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا قَالَ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً فَقَالَ مَا لَكِ فَقَالَتْ جَاءَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا فَقَالَ وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ قَالَ فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ فَقَالَ قُلْ لَهَا تُرْسِلُ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر پردہ پایا، پس اس وجہ سے وہ اندر داخل نہ ہوئے، حالانکہ ایسا کم ہی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئیں اور سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر نہ جائیں، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان دیکھا اور پوچھا: کیا بات ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف تشریف تو لائے لیکن میرے پاس گھر میں داخل نہیں ہوئے، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ پر یہ بات بہت گراں گزری ہے کہ آپ تشریف لے بھی گئے، لیکن گھر میں داخل نہ ہوئے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میرا نقش و نگار سے کیا واسطہ ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچایا، انھوں نے کہا: تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو کہ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ سے کہو کہ یہ کپڑا بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہیںچاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کادل دنیوی نعمتوں میں لگ جائے، یہی وجہ ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے غلام اور خادم کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خادم کی بجائے رات کو سوتے وقت تسبیحات کا ایک عمل بتا دیا۔
حدیث نمبر: 8082
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ قَالَ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فَأَتَاهَا فَإِذَا هُوَ بِمِسْحٍ عَلَى بَابِهَا وَرَأَى عَلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَرَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ فَاطِمَةُ ظَنَّتْ أَنَّهُ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ مَا رَأَى فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَنَزَعَتِ الْقَلْبَيْنِ مِنَ الصَّبِيَّيْنِ فَقَطَعَتْهُمَا فَبَكَى الصَّبِيَّانِ فَقَسَمَتْهُ بَيْنَهُمَا فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمَا فَقَالَ يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى بَنِي فُلَانٍ أَهْلُ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ وَاشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَلَا أُحِبُّ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو حسب ِ دستور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئے، اچانک نظر پڑی تو ان کے دروازے پر پردہ دیکھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انھوں نے چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے بغیر واپس تشریف لے گئے اور ان کے پاس داخل نہ ہوئے، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل نہیں ہوئے، انہوں نے وہ پردہ پھاڑ دیا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار لئے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بچے رونے لگے، انھوں نے دونوں میں ان کے حصے بانٹ دئیے، وہ دونوں روتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چاندی بچوں سے لے لی اور مجھ سے فرمایا: اے ثوبان! یہ بنو فلاں کے پاس لے جاؤ اور ان سے ان کے عوض فاطمہ کے لیے حیوان کے پٹھوں کا ہار اور عاج کے دو کنگن بچوں کے لئے خرید لاؤ، یہ میرے اہل بیت ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی نیکیوں کو دنیا میں ہی استعمال کر لیں۔
وضاحت:
فوائد: … عاج سے مراد سمندری کچھوے کی کمر کی ہڈیاں ہیں، نہ کہ ہاتھی دانت۔
حدیث نمبر: 8083
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ كَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَنْسَخَ إِلَيْهِ وَصِيَّةَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهَا السِّتْرُ الَّذِي يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهَا أَحْدَثَتْهُ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن علی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عمر بن عبد العزیز نے میری طرف یہ خط لکھا کہ میں ان کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت تحریر کر کے بھیجوں، پس ان کی وصیت میں وہ پردہ بھی تھا، جس کے بارے میں لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ انھوں نے اس کو لگایا تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس گئے تو اس پردے کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔
حدیث نمبر: 8084
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ فِيهَا تَمَاثِيلُ طَيْرٍ وَوَحْشٍ فَقُلْتُ أَلَيْسَ يُكْرَهُ هَذَا قَالَ لَا إِنَّمَا يُكْرَهُ مَا نُصِبَ نَصْبًا حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَقَالَ حَفْصٌ مَرَّةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ لیث کہتے ہیں: میں سالم بن عبداللہ کے پاس گیا، وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ اس تکیے میں پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصاویر تھیں، میں نے کہا: یہ تو مکروہ نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، مکروہ صورت وہ ہے، جس میں تصویریں سیدھی رکھی گئی ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تصاویربنائیں، اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ ان میں روح پھونکے، جبکہ وہ اس میں روح پھونک نہیں سکے گا۔
حدیث نمبر: 8085
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ فَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ حَوِّلِي هَذَا فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَكَانَتْ لَهُ قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمارا ایک پردہ تھا، اس میں پرندے کی تصویر تھی، جب اندر آنے والا آتا تو وہ اسے سامنے نظر آتا تھا، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اسے پھیر دو، میں جب بھی داخل ہوتا ہوں اور اس کو دیکھتاہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک چادر تھی، اس پر ریشم کے نشانات تھے، ہم وہ پہن لیتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: تصویر والے اس پردے کو تصویر کی حرمت سے پہلے پر محمول کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوتے اور اس کو دیکھتے تھے اور اس کو انکار نہیں کرتے تھے، (بعض میں اس طرح کی تصویریں حرام ہو گئیں)۔
حدیث نمبر: 8086
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتْرُكْ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا وَفِي لَفْظٍ ثَوْبًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسی چیزنہ رہنے دیتے تھے جس میں صلیب کا نشان ہو، مگر اس کو کاٹ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 8087
عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي دَقِرَةُ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَتْ كُنَّا نَطُوفُ بِالْبَيْتِ مَعَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَرَأَتْ عَلَى امْرَأَةٍ بُرْدًا فِيهِ تَصْلِيبٌ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ اطْرَحِيهِ اطْرَحِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَحْوَ هَذَا قَضَبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام عبدالرحمن دقرہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہی تھیں، انہوں نے ایک عورت پر ایسی چادر دیکھی، جس میں صلیب کا نشان تھا۔ سیدہ نے کہا:اس کو پھینک دو، اس کو پھینک دو،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو دیکھتے تو کاٹ دیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … صلیب کی تصویر کا حکم وہ نہیں ہے، جو ذی روح چیزوں کی تصاویر کا ہے، چونکہ صلیب کے پیچھے ایک غلط نظریہ ہے، اس لیے مسلمانوں کے گھروں میں اس کا نشان یا اس کی تصویر بھی نظر نہیں آنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 8088
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا فَإِنَّ تَصَاوِيرَهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر کے کونے میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ پردہ ہم سے دور کر دو، اس کی تصاویر نماز میں میرے سامنے آتی رہی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان تصاویر سے مراد نقش و نگار والی اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں ہیں۔
حدیث نمبر: 8089
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَرَّةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَهَتَكَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ أَوْ يُشَبِّهُونَ قَالَ سُفْيَانُ سَوَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے، جبکہ میں نے تصاویر والا ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ کا چہرہ غصے سے تبدیل ہوگیا اور اس پردے کو اپنے دست مبارک سے پھاڑ ڈالا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں روزِ قیامت لوگوں میں سب سے سخت عذاب ان کو ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے مشابہت اختیار کرتے ہیں (یعنی تصویریں بناتے ہیں)۔ امام سفیان نے کہا: دونوں الفاظ کا ایک ہی معنی ہے۔
حدیث نمبر: 8090
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ اتَّخَذْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ الصُّورُ وَفِي لَفْظٍ فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتِ الْأَجْنِحَةِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَتَكَهُ وَقَالَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک پردہ بنایا جس میں تصویریں تھیں، ایک روایت میں ہے: اس میں پروں والے گھوڑے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور اسے چاک کر دیا اور فرمایا: روزِ قیامت لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے مشابہ چیز بناتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8091
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَعَلْتُ عَلَى بَابِ بَيْتِي سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ نَظَرَ إِلَيْهِ فَهَتَكَهُ قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَقَطَعْتُ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے دروازہ پر پردہ لٹکایا، اس میں تصویریں تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہونے کے لئے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پردہ دیکھا اور پھر اس کو چاک کر دیا، میں نے وہ پکڑا اور اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر ٹیک لگاتے تھے۔
حدیث نمبر: 8092
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرَتْهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً فَقَالَ لَهَا اقْطَعِيهِ وِسَادَتَيْنِ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَكُنْتُ أَتَوَسَّدُهُمَا وَيَتَوَسَّدُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک باریک سی چادر خریدی، اس میں تصویریں تھیں، ان کا ارادہ تھا کہ اس سے دلہن خانہ بناؤں گی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو وہ پردہ دکھایا اور بتایا کہ وہ اس سے دلہن خانہ بنانا چاہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے دو تکیے بنا لو۔ وہ کہتی ہیں: پس میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ان تکیوں پر ٹیک لگاتے تھے۔
حدیث نمبر: 8093
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا وَيَذْكُرِ الصُّوَرَ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ قَالَ هَاشِمٌ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ وَكَذَا قَالَ يُونُسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زید بن خالد سے مروی ہے کہ صحابیٔ رسول سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر ہو۔ بسر کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہو گئے اور ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے اور دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ لگا ہوا تھا، اس میں تصویر تھی، میں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں گزشتہ دنوں میں تصویروں کی مذمت بیان نہیں کی تھی؟ لیکن اب ان کے دروازے پر پردہ تصویر والا ہے، عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار کی اجازت ہے؟ ہاشم نے کہا: کیا زید نے ہمیں گزشتہ دنوں بتایا نہیں تھا کہ تصویر نا جائز ہے تو عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار مستثنی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ (یہ جو کپڑے میں نقش و نگار کو مستثنی قرار دیا گیا ہے) اس سے مراد غیر ذی روح کی تصویر ہے، جیسے درخت وغیرہ۔ کیونکہ یہ حدیث قریب ہی گزری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تصویر والے کپڑے کو چاک کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 8094
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعُودُهُ قَالَ فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لِمَ تَنْتَزِعُهُ قَالَ لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ سَهْلٌ أَوَلَمْ يَقُلْ إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیاِ ان کی تیمارداری کیِ ان کے پاس سہل بن حنیف کو پایا، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک انسان کو بلایا اس نے ان کے نیچے سے چادر نکالی، سیدنا سہل نے ان سے کہا: اسے کیوں نکالتے ہو؟ کہا اس میں تصویریں ہیں اور تصویروں کے بارے میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے وہ تمہیں معلوم ہی ہے، سہل نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے میں تصویر کو مستثنیٰ کیا ہے، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میرا دل اسی طرح مطمئن ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سابق حدیث کے فوائد دیکھیں۔
حدیث نمبر: 8095
عَنْ شُعْبَةَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ وَعَلَيْهِ بُرْدُ إِسْتَبْرَقٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَظُنُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا حِينَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ قَالَ فَمَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ قَالَ أَلَا تَرَى قَدْ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ قَالَ انْزَعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ قَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ لَوْ ذَهَبْتَ بِهَا إِلَى السُّوقِ كَانَ أَنْفَقَ لَهَا مَعَ الرَّأْسِ قَالَ لَا فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُءُوسِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شعبہ سے مروی ہے کہ سیدنا مسوربن مخرمہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تکلیف کی وجہ سے ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، ان پر ریشم کی چادر تھی، میں (مسور) نے کہا، اے ابو عباس! یہ کپڑا کیوں؟ انھوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: یہ تو ریشم ہے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو پتہ نہیں تھا، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑائی اور تکبر کی وجہ سے ریشم سے منع کیا ہے اور ہم الحمد اللہ ایسے نہیں ہیں۔ میں نے کہا: تو آتش دان میں یہ تصویریں کیسی ہیں؟ انھوں نے کہا: تم دیکھ نہیں رہے کہ ہم ان کو آگ میں جلانے لگے ہیں۔ جب مسور نکل کر چلے گئے تو انھوں نے کہا: یہ کپڑا مجھ سے اتار دو اور ان تصوریروں کے سرکاٹ دو، لوگوں نے کہا: اے ابن عباس! اگر آپ اسے بازار میں لے جائیں تو یہ سروں سمیت جلدی اور اچھی قیمت میں فروخت ہو جائیں گے، انھوں نے کہا: نہیں، پھر ان تصویروں کے سر کاٹنے کا حکم دیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کپڑے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، جس کا بانا ریشم کا ہو یا اس پر نقش و نگار ریشم کا ہوا ہو، اگرچہ وہ چار انگلی سے زائد ہے، بہرحال یہ ان کی ذاتی رائے ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۸۰۴۸)