کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر، یا کتا، یا جنابت والا آدمی ہو
حدیث نمبر: 8063
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَتْ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَةٌ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ إِنِّي كُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَتَنَحْنَحَ وَإِنِّي جِئْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا حَسَنٍ حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكَ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَيَّ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ قَالَ لَا قُلْتُ فَمَا لَكَ لَا تُكَلِّمُنِي فِيمَا مَضَى حَتَّى كَلَّمْتَنِي اللَّيْلَةَ قَالَ سَمِعْتُ فِي الْحُجْرَةِ حَرَكَةً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَنَا جِبْرِيلُ قُلْتُ ادْخُلْ قَالَ لَا اخْرُجْ إِلَيَّ فَلَمَّا خَرَجْتُ قَالَ إِنَّ فِي بَيْتِكَ شَيْئًا لَا يَدْخُلُهُ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهِ قُلْتُ مَا أَعْلَمُهُ يَا جِبْرِيلُ قَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ فَفَتَحْتُ الْبَيْتَ فَلَمْ أَجِدْ فِيهِ شَيْئًا غَيْرَ جَرْوِ كَلْبٍ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ الْحَسَنُ قُلْتُ مَا وَجَدْتُ إِلَّا جَرْوًا قَالَ إِنَّهَا ثَلَاثٌ لَنْ يَلِجَ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهَا أَبَدًا وَاحِدٌ مِنْهَا كَلْبٌ أَوْ جَنَابَةٌ أَوْ صُورَةُ رُوحٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نجی حضرمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لوگوں میں سے جو شرف مجھے حاصل تھا، وہ کسی اور کو نہیں تھا، میں ہر سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضری دیتا تھا، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہتا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھنکارتے تھے، میں ایک رات کو آیا اور سلام کہتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ پر سلام ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو حسن! ذرا ٹھہر جاؤ، میں جب تک باہر نہیں آتا، اندر نہ آنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو کسی نے غضب ناک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا بات ہے کہ اس سے پہلے آپ مجھ سے بات نہیں کرتے تھے، بلکہ صرف اشارہ دیتے تھے،آج رات آپ نے بات کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل بات یہ ہے کہ میں نے حجرہ میں حرکت سی سنی، پس میں نے کہا: کون ہے؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں، میں نے کہا: داخل ہو جاؤ، انھوں نے کہا:جی نہیں، میں نہیں آؤں گا، آپ خود باہر آجائیں، جب میں باہر آیا تو انھوں نے کہا: آپ کے کمرہ میں ایک ایسی چیز ہے، جب تک وہ اس میں ہے، میں نہیں داخل ہو سکتا، میں نے کہا: اے جبریل! مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز ہے، انھوں نے کہا: جاؤ اور دیکھو، پس میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ گھر میں ایک کتیا کا بچہ تھا، جس کے ساتھ حسن کھیلتے تھے، میں نے کہا کہ گھر میں صرف کتیا کا ایک بچہ ہے، انھوں نے کہا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب تک وہ ہوں گی، اس جگہ پر فرشتہ داخل نہ ہوگا،کتا، جنبی آدمی اور ذی روح کی تصویر۔
حدیث نمبر: 8064
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي تَنَحْنَحَ فَأَتَيْتُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا أَحْدَثَ الْمَلَكُ اللَّيْلَةَ كُنْتُ أُصَلِّي فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فِي الدَّارِ فَخَرَجْتُ فَإِذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ مَا زِلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ أَنْتَظِرُكَ إِنَّ فِي بَيْتِكَ كَلْبًا فَلَمْ أَسْتَطِعْ الدُّخُولَ وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ وَلَا تِمْثَالٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں رات دن میں میرا دو مرتبہ آنا جانا تھا، میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوتا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھنکارتے تھے، ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے کہ فرشتہ نے ایک نیا حکم دے دیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہاتھا، میں نے گھر میں حرکت سی سنی، جب میں باہر آیا تو وہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے کہا: میں اس رات آپ کے انتظار میں تھا، آپ کے گھر میں ایک کتا تھا، اس لئے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا، ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ، جنبی اور تصویر ہو۔
وضاحت:
فوائد: … جنبی آدمی کی وجہ سے رحمت کے فرشتوں کا گھر میں داخل نہ ہونا، اس بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، نیز بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسلِ جنابت کو صبح تک مؤخر بھی کر دیتے تھے، اگرایسی روایت کسی محقق کے نزدیک صحیح ہو تو اس سے مراد وہ شخص ہو گا جو غسل جنابت لیٹ کرنے کو اپنی عادت بنا لیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ جنبی لیا جائے، جو رات کو وضو کر کے نہیں سوتا، کیونکہ امام نسائی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت پر یہ باب قائم کیا ہے: باب فی الجنب اذا لم یتوضأ (اس اس جنبی کا بیان جو وضو نہیں کرتا)۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حدیث نمبر: 8065
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا بَوْلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے، انھوں نے مجھے سلام تو کہا، لیکن اندر نہ آئے، میں نے ان سے کہا: آپ کو اندر آنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ انھوں نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر اور پیشاب ہو۔
وضاحت:
فوائد: … پیشاب کے بارے میں یہ روایت تو ضعیف ہے، البتہ درج ذیل روایات پر غور کریں:
حدیث نمبر: 8066
وَعَنْ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ أَوْ كَلْبٌ وَكَانَ الْكَلْبُ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْبَيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) جبریل علیہ السلام ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: بیشک ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر یا کتا ہو۔ یہ جو گھر میں کتا تھا، یہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا تھا۔
حدیث نمبر: 8067
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ فَقَالَ أَمَّا هُمْ فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَهَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرًا فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت بیت اللہ میں داخل ہوئے تواس میں ابراہیم علیہ السلام اور مریم رحمہ اللہ علیہا کی تصویریں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! انہوں نے سنا ہوا ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جسم میں تصویر ہو، یہ ابراہیم علیہ السلام کو تصویر میں پیش کیا گیا ہے،ان کو کیا ہوا کہ یہ تیروں سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں (یعنی یہ تیروں سے قسمت آزمائی نہیں کرتے تھے)۔
حدیث نمبر: 8068
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا، مورتیوں کی تصویر ہو۔
حدیث نمبر: 8069
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ يُقْطَعْ فَيُصَيَّرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ يُقْطَعْ فَيُجْعَلَ مِنْهُ وِسَادَتَانِ تُوطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَيُخْرَجَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا الْكَلْبُ جَرْوٌ كَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: میں رات آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا تھا، مجھے اس گھر میں جس میں آپ تشریف فرما تھے، داخل ہونے میں رکاوٹ یہ تھی کہ گھر میں ایک آدمی کی مورتی تھی اور گھر میں ایک باریک پردہ تھا، سو آپ حکم دیں کہ تصویروں کے سر کاٹ دیئے جائیں، تاکہ وہ درخت کی مانند ہو جائیں اور پردے کے بارے میں حکم دیں، ان کو کاٹ کر اس سے دو تکیے بنا لے جائیں، جن کو روندا جائے اور کتے کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو نکال دیا جائے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی کیا، وہ کتے کا بچہ دراصل سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا تھا، جو سامان والی چارپائی کے نیچے پڑا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … تصویر اور کتے کی وجہ سے داخل نہ ہونے والے فرشتے وہ ہوتے ہیں، جو رحمت اور برکت والے ہوتے ہیں۔