کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 8044
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِآذَرْبَيْجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا أُصْبُعَيْنِ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَمَا عَتَّمْنَا إِلَّا أَنَّهُ الْأَعْلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عثمان ہندی کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے ایک تحریر آئی، ہم آذربائیجان یا شام میں سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اس تحریر میں لکھا تھا: أَمَّا بَعْدُ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، مگر دو انگلیوں کے برابر اجازت ہے۔ ابو عثمان کہتے ہیں: ہم یہی سمجھے کہ (دو انگلیوں سے مراد یہی ہے کہ) ریشم کی اتنی دھاریاں یا نشانات جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 8045
عَنْ قَتَادَةَ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَشْيَاءَ يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا هَكَذَا وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَرَأَيْتُ أَنَّهَا أَزْرَارُ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْنَا الطَّيَالِسَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف کچھ احکام تحریر کر کے بھیجے، جو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کئے تھے، اس میں یہ بھی تحریر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی آدمی دنیا میں ریشم پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو، مگر دو انگلیوں کے برابر۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا، ابو عثمان کہتے ہیں: جب ہم نے طیالسی لباس دیکھا تو ہم نے اندازہ کیا کہ اسی مقدار کے طیالسی لباس کے بٹن ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عجموں کے ایک لباس کو طیالسہ کہتے ہیں، اس لباس کے ریشمی بٹن کی مقدار دو انگلیوں کے برابر تھی۔
حدیث نمبر: 8046
عَنْ قَتَادَةَ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِآذَرْبَيْجَانَ يَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ وَلُبْسَ الْحَرِيرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَقَالَ إِلَّا هَكَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) ابو عثمان کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر آئی، جبکہ ہم آذر بائیجان میں تھے، اس میں لکھا ہوا تھا: اے عتبہ بن فرقد! نعمت پروری، مشرکوں کی وضع قطع اور ریشم کے لباس سے بچو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ریشم پہننے سے منع کیا ہے، مگر اتنی اجازت ہے، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر وضاحت کی۔
حدیث نمبر: 8047
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفْلَةَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ وَأَشَارَ بِكَفِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں:سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ مقام پر خطبہ دیا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، مگردو یا تین یا چار انگلیوں کے مقدار کے برابر، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 8048
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنْ قَزٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا السَّدَى وَالْعَلَمُ فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے، جو سارے کا سارا ریشم کا بنا ہوا ہو، اگر کپڑے کا بانا ریشم کا ہو یا نقش و نگار ریشم کا ہو تو ہم اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ذاتی رائے ہے، چارانگلیوں سے زیادہ ریشم نہیں ہونا چاہیے۔
حدیث نمبر: 8049
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ ان سے یہ بات پوچھوں کہ آپ کی طرف سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہو: کپڑے میں علامات اور نقش و نگار لگانے کو، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کو اور رجب کے سارے روزے رکھنے کو۔ انہوں نے جواباً کہا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ میں سارے ماہِ رجب کے روزے نہ رکھوں، تو پھر اس کا روزہ کیسے ہوگا جو ہمیشہ کے روزے رکھے، جو تم نے کپڑے میں علامات کا ذکرکیا ہے کہ میں اس سے منع کرتا ہوں اس بارے میں گزارش ہے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر کپڑے پر ریشم کے ذریعے نقش و نگار کیا جائے اور اس ریشم کی مقدار چار انگلیوں سے زائد ہو تو اس کپڑے کا استعمال حرام ہو گا۔
حدیث نمبر: 8050
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ أَيْضًا عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً عَلَيْهَا لِبْنَةٌ شِبْرٌ مِنْ دِيبَاجٍ كِسْرَوَانِيٍّ وَفَرْجَاهَا مَكْفُوفَانِ بِهِ قَالَتْ هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَةُ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا يَسْتَشْفِي بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے طیالسی جبہ نکالا، اس کے دامن میں فارسی ریشم کا ٹکڑا لگا ہوا تھا اور اس کے چاک بھی ریشم کے تھے۔ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ تھا،جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنا کرتے تھے، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا تھا، ہم اسے مریض کے لئے پانی میں ڈال کر اس کی برکت سے شفاء طلب کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8051
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ أَيْضًا قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا أَسْمَاءُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جُبَّةً مَزْرُورَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ فِي هَذِهِ كَانَ يَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک جبہ رکھا، جس میں ریشم کے بٹن تھے، انھوں نے کہا: یہ وہ جبہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن سے بھی ملاقات کرتے تھے، (یعنی امن و جنگ دونوں حالتوں میں پہنتے تھے۔)
وضاحت:
فوائد: … اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ زینت یا کسی عام ضرورت کے لیے چار انگلیوں کے بقدر ریشم استعمال کیا جا سکتا ہے، اگر ریشم کے بٹن بنائے جائیں یا بٹنوں پر ریشم چڑھایا جائے تو بھی اسی مقدار کا پابند رہنا چاہیے۔