حدیث نمبر: 8005
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ بِسِوَارٍ مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی خواہش ہو کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کا طوق پہنائے، تو پھر وہ اسے سونے کا ہار پہنا دے،جس کی خواہش ہو کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کا کنگن پہنائے تو وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے اور جس کی آرزو ہو کہ کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کی انگوٹھی پہنائے تو وہ اسے سونے کی انگوٹھی پہنا دے، چاندی اختیاور کرو، اس سے شوق پورا کرو، اسی سے اپنی خواہشات پوری کر لو۔
حدیث نمبر: 8006
عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَعَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 8007
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ الضَّبُعِ عِنْدِي أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الضَّبُعِ إِنَّ الدُّنْيَا سَتُصَبُّ عَلَيْكُمْ صَبًّا فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا تَلْبَسُ الذَّهَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زید بن وھب ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! قحط سالی نے ہمارا ستیاناس کر دیا ہے، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قحط سالی کے علاوہ ایک اور چیز ہے، جس کا مجھے تمہارے بارے میں بہت زیادہ ڈر ہے، وہ یہ ہے کہ تم پر دنیا کھول دی جائے گی، اے کاش! میری امت سونا نہ پہنے۔
حدیث نمبر: 8008
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ يَعْنِي السَّنَةَ قَالَ غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمْ صَبًّا فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ وَفِي رِوَايَةٍ لَا يَتَحَلَّوْنَ الذَّهَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قحط سالی نے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کا اتنا خوف نہیں، جتنا اس سے زیادہ ایک اور چیز کا ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا تم پر بارش کی مانند برسے گی، کاش! میری امت سونا نہ پہنے۔
حدیث نمبر: 8009
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ لَبِسَ الذَّهَبَ مِنْ أُمَّتِي فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ذَهَبَ الْجَنَّةِ وَمَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ مِنْ أُمَّتِي فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ حَرِيرَ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس نے سونا پہنا اور وہ اس حالت میں مرا کہ وہ اسے پہنا کرتا ہو تواللہ تعالیٰ اس پر جنت کا سونا حرام کردے گا اور میری امت میں سے جس نے ریشم پہنا اور وہ اسی حالت میں مر گیا کہ وہ اس کو پہنا کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پرجنت کا ریشم حرام کر دے گا۔
حدیث نمبر: 8010
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ وَفِي لَفْظٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ نہ ریشم پہنے اور نہ سونا۔
حدیث نمبر: 8011
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَا يُكْسَاهُ فِي الْآخِرَةِ وَفِي لَفْظٍ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے اپنے خطبے میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، اس کو آخرت میں یہ نہیں پہنایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 8012
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 8013
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا مَنْ لَا يَرْجُو أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ قَالَ الْحَسَنُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْلُغُهُمْ هَذَا عَنْ نَبِيِّهِمْ فَيَجْعَلُونَ حَرِيرًا فِي ثِيَابِهِمْ وَفِي بُيُوتِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جو آخرت میں اسے پہننے کی امید نہ رکھتا ہو، بس ریشم صرف وہی پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ حسن بصری کہتے ہیں: ان لوگوں کا کیا حال ہو گا، جن تک ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان پہنچ چکا ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے لباس اور گھروں میں ریشم استعمال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8014
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَّبَّعُ الْحَرِيرَ مِنَ الثِّيَابِ فَيَنْزِعُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ریشم کے کپڑوں کی تاڑ میں رہتے اور ان کو اتروا دیتے۔
حدیث نمبر: 8015
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اس کو آخرت میں ہر گز نہیں پہنے گا۔
حدیث نمبر: 8016
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ فَأَمَرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ لِبَاسُهَا لَنَا فِي الْدُّنْيَا وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ فَقَالَ يَكْرَهُهَا وَآخَذُهَا فَقَالَ إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک راہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باریک ریشم کا جبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہنا، پھر آپ گھر میں آئے اور اس کو اتار دیا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا کہ ایک وفد آیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشورہ دیا کہ وفد کی آمد پر وہی جبہ پہن لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لباس دنیا میں ہمارے لئے درست نہیں، یہ ہمارے لئے آخرت میں ہوگا، لیکن اے عمر! تم یہ لے لو۔ انہوں نے عرض کی: آپ اسے ناپسند کرتے ہیں اور میں لے لوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس لیے نہیں دے رہا کہ تم اس کو پہن لو، میں تو اس لئے دے رہا ہوں کہ تم اسے فارس کے علاقے کی طرف بھیج دو اور اس کے عوض مال حاصل کر لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نجاشی کی طرف بھیج دیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ان صحابہ کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا، جو ہجرت کر کے اس کے پاس گئے تھے۔
حدیث نمبر: 8017
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ حَرِيرٍ وَهُوَ الْقَبَاءُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا وَقَالَ إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم کے چاک والی قباء پہن رکھی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو اسے بڑی سختی سے اتارا اور فرمایا: یہ پرہیز گاروں کے لائق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 8018
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَمْنَعُ أَهْلَ الْحِلْيَةِ وَالْحَرِيرِ وَيَقُولُ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الْدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیورات اور ریشم والوں کو یہ چیزیں پہننے سے منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر تم جنت کا زیور اور اس کا ریشم چاہتے ہو تو انہیں دنیا میں نہ پہنا کرو۔
حدیث نمبر: 8019
عَنْ جَوَيْرِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ حَرِيرًا أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي لَفْظٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ أَوْ ثَوْبًا مِنْ نَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ریشم پہنے گا، اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت دوزخ کی آگ سے لباس پہنائے گا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اسے آگ یا ذلت کا لباس پہنائے گا۔
حدیث نمبر: 8020
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ أَوْ دِيبَاجٍ شَكَّ فِيهِ سَعِيدٌ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ فَلَبِسَهَا فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دومہ کے رئیس اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باریک ریشم یا مطلق ریشم کا جبہ دیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب ریشم پہننا ابھی تک حرام نہ ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پہنا اور لوگ اسے دیکھ کر بہت تعجب کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کا رومال اس سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 8021
عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يَكْفِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُمْ يَا عُقْبَةُ فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ہشام بن ابو رقیہ کہتے ہیں: میں نے مسلمہ بن مخلد سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انھوں نے کہا: لوگو! کیا تمہارے پاس یمن کی چادریں اور السی کے کپڑے نہیں، کیا وہ ریشم سے کفایت نہیں کرتے،یہ تمہارے اندر ایک آدمی موجود ہے، یہ تمہیں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے آگاہ کرتا ہے، اے عقبہ! ذرا کھڑے ہو جاؤ، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … عَصَب (یمنی چادریں): ان سے مراد وہ کپڑا ہے، جس کا دھاگہ بٹ کر اس کو رنگا جاتا ہے اور پھر اس سے کپڑے بنے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8022
عَنْ أَبِي يُونُسَ حَاتِمِ بْنِ مُسْلِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يَقُولُ رَأَيْتُ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمِنًى عَلَيْهَا دِرْعُ حَرِيرٍ فَقَالَتْ مَا تَقُولُ فِي الْحَرِيرِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو یونس حاتم بن مسلم کہتے ہیں: میں نے قریش کے ایک آدمی سے سنا، اس نے کہا: میں نے ایک عورت کو دیکھا، وہ منیٰ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، اس نے ریشم کی قمیص زیب ِ تن کی ہوئی تھی، اس نے کہا: تم ریشم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 8023
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانَ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ قَالَ يُرِيدُ أَنْ يَضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعِ ابْنِ رَاعٍ قَالَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ وَأَنْهَاكَ عَنْ اثْنَتَيْنِ آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً إِلَّا قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ قَالَ قُلْتُ أَوْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدٍ نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ قَالَ لَا قَالَ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ قَالَ لَا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْكِبْرُ قَالَ سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماکہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، کسی بستی کا باسی سیجان کا جبہ، جس کے بٹن ریشمی تھے، زیبِ تن کر کے آیا اور کہا: خبردار! تمھارے اس ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے گھڑسواروں کے مقام کو کم اور چرواہوں کی عزتوں کو بلند کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جبہ کے گریبان سے پکڑا اور فرمایا: کیا میں تجھ پر ان لوگوں کا لباس نہیں دیکھ رہا، جو بیوقوف ہیں۔ پھر فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تیرے سامنے ایک وصیت بیان کرتا ہوں، میں تجھے دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے منع کرتا ہوں۔ میں تجھے لا الہ الا اللہ کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو (ترازو کے) ایک پلڑے میں اور لا الہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو لا الہ الا اللہ بھاری ہو جائے گا۔ اور ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک بند کڑے کی شکل اختیار کر لیں تو اس کو بھی لا الہ الا اللہ توڑ دے گا ، اور (دوسری چیز) سبحان اللہ وبحمدہ ہے، یہ کلمات ہر چیز کی نماز ہیں اور ان ہی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کر تا ہوں۔ میں نے یا کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم شرک کو تو پہنچانتے ہیں، تکبر کسے کہتے ہیں؟ کیا تکبر یہ ہے کہ آدمی کے جوتے اور ان کے تسمے اچھے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ کسی نے کہا: تو کیا تکبر یہ ہے کہ آدمی کے دوست و یار ہوں، جو اس کے پاس بیٹھتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حق کو جھٹلا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا (تکبر کہلاتا ہے)۔
حدیث نمبر: 8024
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ قَالَ فَلَقِيَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَسْتَنْفِعَ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ریشم کا جبہ بھیجا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے اور کہا: آپ نے ریشم کا جبہ میری طرف بھیجا ہے، حالانکہ آپ نے تو اس کے بارے میں ایسے ایسے فرمایا تھا، (یعنی مذمت کی تھی)؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس لئے تو نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو، میں نے تو اس لئے بھیجا ہے کہ تم اسے فروخت کر لو یا کوئی اور فائدہ حاصل کر لو۔
حدیث نمبر: 8025
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا میرے اوپر یمن کے دو جوڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ضمرہ! کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ یہ دو جوڑے تمہیں جنت میں داخل کریں گے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے لئے استغفار کریں تو میں بیٹھنے سے پہلے انہیں اتار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کو بخش دے۔ پس وہ جلدی جلدی گئے اور ان دونوں کو اتار دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ظاہر یہی ہے کہ یہ دو جوڑے ریشمی تھے۔
حدیث نمبر: 8026
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدِّيبَاجِ قَالَ فَقَالَ الْحَسَنُ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَبِنَتُهَا دِيبَاجٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبِنَةٌ مِنْ نَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سلیمان تیمی کہتے ہیں: حسن بصری نے مجھے ابو عثمان نہدی والی حدیث سنائی، انہوں نے سیدنا عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ریشم کے بارے میں بیان کی، حسن کہتے ہیں: قبیلہ میں سے ایک آدمی نے مجھے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا، جبکہ اس نے ایک جبہ زیب ِ تن کیا ہوا تھا، اس کا گریبان ریشم کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گریبان آگ کا ہے۔
حدیث نمبر: 8027
عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عُطَارِدَ بْنَ حَاجِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مَعَهُ ثَوْبُ دِيبَاجٍ كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَهُ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عطارد بن حاجب آئے اوران کے پاس ریشم کی چادر تھی، یہ فارس کے حکمران نے ان کو دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری خواہش ہے آپ اسے خرید لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لباس تو وہ شخص پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8028
عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً فَظَنَّ أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهَا حَرِيرٌ فَتَنَحَّى يَمْشِي الْقَهْقَرَى حَتَّى بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ وَخَالِدٌ يُكَلِّمُ رَجُلًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ فَقَالَ لَهُ يَا أَخِي مَا ظَنَنْتَ أَظَنَنْتَ أَنَّهَا حَرِيرٌ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِيرِ مَنْ يَرْجُو أَيَّامَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ يَا أَبَا أُمَامَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ غُفْرًا أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ كُنَّا فِي قَوْمٍ مَا كَذَبُونَا وَلَا كُذِّبْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حبیب بن عبیدر حبی کہتے ہیں: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ ، خالد بن یزید کے پاس گئے،انہوں نے ان کے لیے تکیہ رکھا، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ یہ ریشم کا ہے، وہ پچھلے پاؤں ہٹ کر اس سے علیحدہ ہو گئے، یہاں تک کہ مجلس کے آخر تک پہنچ گئے، جبکہ خالد کسی آدمی سے بات کر رہے تھے، پھر جب وہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے تو ان سے کہا: اے میرے بھائی! آپ نے کیا سمجھا ہے؟ کیا آپ کا خیال ہے یہ ریشم سے ہے؟ تو خالد نے شبہ دور کیا۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی امید رکھتا ہو، وہ ریشم سے فائدہ نہ اٹھائے۔ خالد نے ابو امامہ سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ! معاف کرنا، خالد مجھے کہتا ہے کہ کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ سے سنی ہے، ہم ایسے لوگوں میں تھے کہ جنہوں نے ہمیں جو کچھ بیان کیا، انھوں نے اس میں جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہمیں جھٹلایا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی کی نعمتوں سے مراد اس کی مغفرت، رحمت، جنت میں داخل ہونا اور جنت کی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔