کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان¤آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
حدیث نمبر: 7978
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَكَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَعْدِهِ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ نقش تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اگلی احادیث میں آ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگوٹھی والے الفاظ نقش کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7978
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5866، ومسلم: 2091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6271»
حدیث نمبر: 7979
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قَالُوا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا قَالَ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب روم والوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے آپ سے کہا کہ وہ لوگ تو صرف وہی خط پڑھتے ہیں، جس پر مہر لگی ہوئی ہو، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، گویا کہ میں اب بھی اس انگوٹھی کی سفیدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں، اس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … انگوٹھی پر محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ کروانے کی وجہ مہر بنانا تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7979
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7162، ومسلم: 2092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12750»
حدیث نمبر: 7980
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا فَقَالَ إِنَّا قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں (محمد رسول اللہ کے الفاظ) کندہ کروائے ہیں، تم میں کوئی آدمی یہ نقش نہیں بنوا سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7980
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2092، وأخرجه بنحوه البخاري: 5874 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12012»
حدیث نمبر: 7981
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا نگینہ حبشی تھا، یعنی وہ نگینہ عقیق کا تھا، جو حبشہ سے لایا گیا تھا، عام طور پر اس وقت عقیق کی کانیں حبشہ اور یمن میں تھیں، یا ا س حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نگینے کا رنگ کالا تھا، یا وہ نگینہ حبشہ سے لائی ہوئی چاندی کا تھا یا حبشہ کی طرز کا بنایا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7981
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13391»
حدیث نمبر: 7982
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِضَّةً فَصُّهُ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی بھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کاتھا۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ نگینہ چاندی کا بھی ہو اور حبشہ میں بنایا گیا ہو، یا مختلف اوقات میں مختلف انگوٹھیاں ہوں، ایک انگوٹھی کا نگینہ حبشی ہو اور ایک کا چاندی کا، اس طرح سے درج بالا دو روایات میں اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7982
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5870 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13838»
حدیث نمبر: 7983
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی، لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہن لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
وضاحت:
فوائد: … قاضی عیاض نے کہا: تمام محدثین کا اتفاق ہے کہ اس حدیث میں ابن شہاب راوی کو وہم ہوا اور اس نے سونے کی انگوٹھی کی جگہ پر چاندی کی انگوٹھی کاذکر کر دیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایات سے معروف بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پھینک کر چاندی کی انگوٹھی بنوا لی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7983
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2093 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13172»