حدیث نمبر: 7958
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ خَرَجْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى بَعْضِ هَذَا السَّوَادِ فَاسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ قَالَ فَرَمَاهُ بِهِ فِي وَجْهِهِ قَالَ قُلْنَا اسْكُتُوا اسْكُتُوا وَإِنَّا إِنْ سَأَلْنَاهُ لَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ فَسَكَتْنَا قَالَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ رَمَيْتُ بِهِ فِي وَجْهِهِ قَالَ قُلْنَا لَا قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ قَالَ فَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ قَالَ مُعَاذٌ لَا تَشْرَبُوا فِي الذَّهَبِ وَلَا فِي الْفِضَّةِ وَلَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ فَإِنَّهُمَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن بن ابولیلیٰ کہتے ہیں:میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی زمین کی طرف گیا، انہوں نے پینے کے لئے پانی مانگا، کسان چاندی کے برتن میں ان کے پاس پانی لایا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پر دے مارا، ہم نے کہا: خاموش رہو، خاموش رہو، اب اگر ہم نے ان سے کچھ اس بارے میں پوچھا تو وہ کچھ نہیں بتائیں گے، ہم خاموش رہے، کچھ دیر بعد انھوں نے خود کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں پھینکا؟ ہم نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: میں نے اسے اس سے پہلے بھی روکا تھا کہ چاندی کے برتن میں پانی پینا منع ہے اور بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے برتنوں میں نہ پیو۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو، حریر اور دیباج نہ پہنو، یہ چیزیں دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں تمہارے لیے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معصیت پر ناگواری کا کیسا اظہار کیا، سچی محبت کا نتیجہ اور اخلاص کے جذبے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 7959
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاندی کے برتنوں میں پیتاہے، وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کے گھونٹ بھرتا ہے۔
حدیث نمبر: 7960
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ كَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے والے کے بارے میں فرمایا: گویا کہ وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کے گھونٹ بھرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سونے کے زیورات عورت کے لیے جائز ہیں، لیکن جہاں تک سونے اور چاندی کے برتنوں کی حرمت کا تعلق ہے تو اس میں خواتین و حضرات کا معاملہ یکساں ہے، یہ برتن مردوں کے لیے بھی حرام ہیں اور عورتوں کے لیے بھی۔