کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 7943
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ قَالُوا أَمَّا هَذَا فَلَا قَالَ أَمَّا إِنَّهَا مَعَهُنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو شیخ ہنائی کہتے ہیں:میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت موجود تھی، سیدنا امیر معایہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونا پہننے سے منع کیا ہے، مگر تھوڑا تھوڑا استعمال کر سکتے ہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ پھر انھوں نے کہا: میں تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چیتوں کے چمڑے بچھانے سے منع فرمایا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کرکہتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: نہیں، ایسی بات تو کوئی نہیں ہے، لیکن انھوں نے کہا: خبردار یہ بھی ان کے ساتھ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تھوڑا تھوڑا سونا عربی میں لفظ مُقَطَّع استعمال کیا گیا ہے، یعنی قلیل ہو اور مختلف جگہوں پر ہو، مثلا: تلوار کے دستے پر نقش و نگار کی صورت میں ہو یا نقاط کی صورت میںہو، پورے دستے پر سونا نہ چڑھایا جائے، اسی طرح چاندی کی انگوٹھی پر سونے کے نشانات ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7943
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 1794 وأخرجه مختصرا النسائي: 8/ 161، وابن ماجه: 3656 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16958»
حدیث نمبر: 7944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ يُقَالُ لَهُ فَلَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُجِيبٍ قَالَ لَقِيَ أَبُو ذَرٍّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَجَعَلَ أُرَاهُ قَبِيعَةَ سَيْفِهِ فِضَّةً فَنَهَاهُ وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ إِنْسَانٍ أَوْ قَالَ أَحَدٍ تَرَكَ صَفْرَاءَ أَوْ بَيْضَاءَ إِلَّا كُوِيَ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو مجیب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کی مٹھی چاندی سے بنا رکھی تھی، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان بھی چاندی یا سونا چھوڑ کر جائے گا تو اس کو اس کے ساتھ داغا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سونے اور چاندی کا کاروبار کرنا، ان کو اپنے پاس رکھنا، عورت کا دونوں کا زیور پہننا اور مرد کے لیے چاندی کا استعمال کرنا، یہ سب امور جائز اور حلال ہیں، اس حدیث میں دراصل دنیوی زینت و آرائش سے نفرت دلائی جا رہی ہے، کیونکہ زیادہ تر دنیوی مال و دولت خرابی کا ہی باعث بنتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7944
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح بالشاھد، وھذا اسناد ضعيف لجھالة فلان بن عبد الواحد الثقفي، ولجھالة ابي مجيب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21812»
حدیث نمبر: 7945
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثَةٍ نَهَانِي عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں سے روکا ہے، ریشمی لباس سے، ریشمی گدیلوں سے اور اس سے کہ میں رکوع میں قرآن مجید کی تلاوت کروں۔
وضاحت:
فوائد: … قس مصر کی ایک بستی ہے، اس میں جو ریشمی لباس تیار کیا جاتا تھا، اس کو قسی کہتے تھے، مراد ریشمی لباس ہے، وہ جہاں مرضی بنایا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7945
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 480 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1004 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1004»
حدیث نمبر: 7946
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالرَّجُلُ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشمی لباس، ریشمی گدیلے، معصفر کپڑے اور اس سے منع کیا ہے کہ آدمی رکوع و سجود کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کرے۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے معصفر کی وضاحت ہو چکی ہے، مرد کے لیے ریشم استعمال کرنا جائز نہیں ہے، وہ لباس کی صورت میں ہو یا گدیلے کی صورت میں یا زین یا زین پوش کی صورت میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7946
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 831»
حدیث نمبر: 7947
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِيثَرَةِ وَعَنِ الْقَسِّيَّةِ قُلْنَا لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ شَيْءٍ الْمِيثَرَةُ قَالَ شَيْءٌ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى رِحَالِهِنَّ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْقَسِّيَّةُ قَالَ ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ قَالَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میثرہ اور قسی سے منع فرمایا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے امیر المومنین! میثرہ کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ (ریشمی گدیلے) ہوتے ہیں، جو عورتیں اپنی رہائش گاہوں میں اپنے خاوندوں کے لیے بناتی ہیں، ہم نے کہا: قسی کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ شام کی طرف سے ہمارے ہاں ایک پھول دار (ریشمی) کپڑا لایا جاتا ہے، اس میں نارنگی کی مانند بیل بوٹے بنائے جاتے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں: جب میں نے سبن علاقہ کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں جان گیا کہ وہ یہی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7947
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2078 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1124»
حدیث نمبر: 7948
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيَّةِ وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْمُفْدَمِ قَالَ يَزِيدُ وَالْمِيثَرَةُ جُلُودُ السِّبَاعِ وَالْقَسِّيَّةُ ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ مِنْ إِبْرَيْسَمٍ يُجَاءُ بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالْمُفْدَمُ الْمُشَبَّعُ بِالْعُصْفُرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشمی گدیلوں، ریشمی لباس، سونے کا چھلہ اور انتہائی سرخ لباس سے منع فرمایا ہے۔یزید راوی کہتے ہیں: میثرہ سے مراد درندوں کے چمڑے ہیں، قسی عمدہ ریشم سے تیار کیا جانے والا ایک پھول دار لباس ہوتا ہے، یہ مصر سے لایا جاتا ہے اور عصفر بوٹی سے خوب رنگے ہوئے لباس کو مُفْدَم کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یزید راوی نے مِیْثَرَۃ کے معانی درندوں کے چمڑے کے کیے ہیں، لیکن امام نووی نے کہا: یہ باطل تفسیر ہے اور محدثین کے اجماع کے مخالف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7948
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، قوله نھي عن حلقة الذھب والمفدم أخرجه ابن ماجه: 3643، 3601 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5751»
حدیث نمبر: 7949
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَرْكَبُهَا وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ ایسے گدیلے رکھ کر سوار ہو تا ہوں، نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں، جس کے کناے ریشم کے ہوں اور نہ ریشمی لباس پہنوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … ہم نے الْاُرْجُوَانِ کے معانی سرخ کے کیے ہیں، دراصل یہ لفظ ارغوان سے معرب ہے، یہ سرخ رنگ کا پھول ہوتا ہے، گدیلوں کو ارغوان کہنے کا مطلب رنگ میں تشبیہ دینا ہے، یعنی سرخ رنگ کے گدیلے، پہلے گزر چکا ہے کہ میثرۃ (گدیلا) سے روکنے کی وجہ ریشم تھا جو اس کی بنتی میں استعمال ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7949
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14738»
حدیث نمبر: 7950
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَخِي يَحْيَى بْنِ سِيرِينَ فَقَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ هَذَا نَعَمْ وَكِفَافِ الدِّيبَاجِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں سے، ریشمی کپڑے پہننے سے اور سونے کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔ محمد بن سیریں کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات اپنے بھائی یحییٰ بن سیرین سے ذکر کی تو انھوں نے کہا: کیا تو نے یہ سنا نہیں ہے؟ جی ہاں اور ریشم سے بنے ہوئے کناروں والا لباس پہننا بھی منع ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7950
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 4050، والنسائي: 8/ 170 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 981»
حدیث نمبر: 7951
عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانَا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَنَهَانَا عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَعَنِ الْحَرِيرِ وَالْحَلَقِ الذَّهَبِ ثُمَّ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا لِيَرَى النَّاسُ عَلَيَّ كِسْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي بِنَزْعِهِمَا فَأَرْسَلَ بِإِحْدَاهُمَا إِلَى فَاطِمَةَ وَشَقَّ الْأُخْرَى بَيْنَ نِسَائِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مالک بن عمیر کہتے ہیں:میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے، سلام کہا اور پھر کھڑے ہو کر کہا: اے امیر المومنین! جس چیز سے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، آپ اس سے ہمیں بھی منع کر دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کدو سے بنے ہوئے برتن، سبز مٹکے، تارکول والے برتن اور تنا کرید کر بنائے ہوئے لکڑی کے برتن سے منع فرمایاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ریشمی لباس، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلے، ریشم، سونے کی انگوٹھی اور چھلے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی نے کہا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشم کا ایک جوڑا دیا، میں وہ پہن کر باہر آیا تا کہ لوگ میرے اوپر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہنا ہوالباس دیکھیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر یہ دیکھ کر مجھے اتارنے کا حکم دیا، پس اس کا ایک حصہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے بھیج دیا اور دوسرا حصہ اپنی دیگر عورتوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7951
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3697، والنسائي: 8/ 166 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 963»
حدیث نمبر: 7952
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھیاں، چاندی کے برتن، حریر، دیباج اور استبرق، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں اور قسی سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … باریک ریشم کو سندس، موٹے اور کھردرے ریشم کو استبرق کہتے ہیں، جب ریشم میں سونے کی تاریں بنی جائیں، تب بھی اسے استبرق کہتے ہیں، مقصد یہ ہے کہ ہر قسم کا ریشم مردوں پر حرام ہے، باریک ہو یا موٹا، نرم ہو یا سخت۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7952
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بتمامه ومختصرا البخاري: 5838، 5849، 6654، ومسلم: 2066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18847»
حدیث نمبر: 7953
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَكَسَانِي حُلَّةً مِنْ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ يَا عَلِيُّ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَرَجَعْتُ بِهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَعْطَيْتُهَا نَاحِيَتَهَا فَأَخَذَتْ بِهَا لِتَطْوِيَهَا مَعِي فَشَقَقْتُهَا بِثِنْتَيْنِ قَالَ فَقَالَتْ تَرِبَتْ يَدَاكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ مَاذَا صَنَعْتَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِهَا فَالْبَسِي وَاكْسِي نِسَاءَكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے، ریشمی لباس اور معصفر لباس سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایاہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشمی دھاری دار ایک پوشاک مجھے دی، جب میں اسے پہن کرنکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے تو نہیں دی، میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور چادر کے دو ٹکڑے کر دئیے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن ابی طالب! آپ نے یہ کیا کیا؟ میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ پہننے سے منع فرمایا ہے، تم پہن لو اور دیگر عورتوں کو پہنا دو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ایک اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے کہ جو چیز معاشرے کے بعض افراد کے لیے جائز ہو یا جس چیز میں مفید پہلو بھی موجود ہو، وہ ایک دوسرے کو تحفہ بھی دی جا سکتی ہے اور اس کا کاروبار بھی کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7953
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 329، وابوعوانة: 2/ 174، وأخرجه مختصرا مسلم: 480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 710»
حدیث نمبر: 7954
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … درندوں کے چمڑوں سے ممانعت کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں: یہ اسراف اور تکبر والے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ ان کے چمڑے استعمال کرتے ہیں یا ان چمڑوں کی نجاست کی وجہ سے ان سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7954
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4132، والترمذي: 1770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20982»
حدیث نمبر: 7955
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْمِيثَرَةِ وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْجِعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی گدیلے اورریشمی لباس اور جَو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبیذ بالاتفاق جائز ہے، نبیذ کی بعض اقسام میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے ایسی بعض اقسام کو ناپسند کیا گیا ہے، وگرنہ جب تک نبیذ میں نشہ پیدا نہ ہو، اس وقت تک اس کو پینا جائز ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7955
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2808، والنسائي: 8/165 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1102»
حدیث نمبر: 7956
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَآنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام حریر، دیباج اور سونے اور چاندی کے برتنوں سے منع کیا اور فرمایا: یہ دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7956
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5632، 5831، ومسلم: 2067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23658»
حدیث نمبر: 7957
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَمْسٍ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْءٌ رَقِيقٌ مِنْ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ أَوْ يُرْبَطُ بِهِ قَالَ لَا اجْعَلِيهِ فِضَّةً وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پانچ چیزوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں منع فرمایاہے: ریشم اور سونا پہننے سے، سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلے سے اور ریشمی لباس پہننے سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! باریک سی سونے کی زنجیر، جس کے ساتھ کنگن باندھا جاتا ہے، وہ بھی جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اسے چاندی سے بناؤ یا زعفران سے زرد کر لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7957
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف خصيف بن عبد الرحمن الجزري، أخرجه ابويعلي: 4789 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26436»