کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
حدیث نمبر: 7934
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ قَالَ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ لَا تَلْبَسْهَا وَفِي لَفْظٍ قَالَ الْقِهَا فَإِنَّهَا ثِيَابُ الْكُفَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر دو معصفر رنگ کے کپڑے دیکھے تو فرمایا: یہ کافروں کا لباس ہے، یہ لباس نہ پہنا کر۔ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دے، یہ کافروں کا لباس ہے۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کافروں کا لباس پہنے یا ان کی وضع قطع اور عادات و اطوار کو اپنائے، کافی ساری احادیث میں اس موضوع کو بیان کیا گیا ہے، … …۔ لیکن اب تو بعض بلادِ اسلامیہ میں کفار کے ملبوسات اور ان کی عادات عام ہو چکی ہیں، بلکہ بعض یا تمام اسلامی ممالک کے فوجیوں پر کافروں کی تہذیب کے بعض امور فرض کر دیے گئے ہیں، مثلا ہیٹ (یعنی انگریزی ٹوپی)۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ لوگوں میں یہ شعور ہی نہیں رہا کہ وہ شریعت ِ اسلامیہ کی مخالفت کر رہے ہیں یا موافقت۔ فانا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ (صحیحہ: ۱۷۰۴)
حدیث نمبر: 7935
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِعُصْفُرٍ فَقَالَ مَا هَذِهِ فَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَهَا فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَلَفَفْتُهَا ثُمَّ أَلْقَيْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ عَرَفْتُ مَا كَرِهْتَ مِنْهَا فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَأَلْقَيْتُهَا فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ وَذَكَرَ أَنَّهُ حِينَ هَبَطَ بِهِمْ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ صَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَدْرٍ اتَّخَذَهُ قِبْلَةً فَأَقْبَلَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا وَيَدْنُو مِنَ الْجَدْرِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَصِقَ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ خَلْفِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع) اذاخر گھاٹی سے اتر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا، میرے اوپر ایک چادر تھی جو عصفر بوٹی سے رنگی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں پہچان گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ناپسند کر رہے ہیں، میں وہاں سے نکل کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا، انہوں نے تنور جلا رکھاتھا، میں نے وہ چادر لپیٹی اور اسے تنور میں پھینک دیا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چادر کا کیا بنا؟ میں نے کہا: مجھے آپ کی ناپسندیدگی کا علم ہو گیا تھا، سو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ تنور جلا رہے تھے، میں نے وہ چادر اس میں پھینک دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے وہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو پہنا دینا تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذاخر گھاٹی سے نیچے اترے تو ہمیں نماز پڑھائی، سامنے ایک دیوار تھی، اس کو سترہ بنا لیا، ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بچنے کے لیے دیوار کے قریب ہوتے گئے، یہاں تک کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ مبارک کو دیکھا، وہ دیوار کے ساتھ مل گیا اور جانور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔
حدیث نمبر: 7936
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَاحَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ حَاجًّا وَدَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَتُهُ فَبَاتَ مَعَهَا حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ رَدْعُ الطِّيبِ وَمِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ مُفْدَمَةٌ فَأَدْرَكَ النَّاسَ بِمَلَلٍ قَبْلَ أَنْ يَرُوحُوا فَلَمَّا رَآهُ عُثْمَانُ انْتَهَرَهُ وَأَفَّفَ وَقَالَ أَتَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَهُ وَلَا إِيَّاكَ إِنَّمَا نَهَانِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کے لئے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے، اور محمد بن جعفر بن ابی طالب کے پاس ان کی بیوی داخل ہوئی، انہوں نے اس کے ساتھ رات گزاری، جب صبح ہوئی تو یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان پر عورتوں والی خوشبو کا داغ تھا اورخوب سرخ چادر تھی، جس کو عصفر بوٹی میں رنگا گیا تھا، انھوں نے ملل مقام پر لوگوں کو پا لیا، وہ وہاں سے ابھی تک سفر کے لئے چلے نہ تھے، جب انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ڈانٹا اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا: کیا تم معصفر کپڑا پہنتے ہو، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رنگ کے لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ محمد بن جعفر کو اور نہ ہی سیدنا عثمان کو منع کیا، بلکہ صرف مجھے منع کیا تھا۔
حدیث نمبر: 7937
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً فَكَرِهَهَا قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ قَالَ وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی پرزرد رنگ کا لباس دیکھا تو اسے ناپسند کیا اور فرمایا: اگر تم اس کو حکم دو کہ یہ اس زردی کو دھو دے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کم ہی کسی سے براہ راست بات کرتے تھے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 7938
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنِ الْمُعَصْفَرِ وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تم کو منع کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حکم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص نہیں تھا، ان کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ کو ہوبہو نقل کرنا ہے۔