حدیث نمبر: 7928
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهَا فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ قَذَفَهَا وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اون کی سیاہ رنگ کی چادر بنائی، پھر انھوں نے اس چادر کی سیاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفیدی کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر پہن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اون کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتار کر پھینک دیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکیزہ اور اچھی خوشبو پسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7929
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ تھا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اوپر دو سبز چادریں تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ کالے اور سبز رنگ کا لباس پہننا درست ہے۔
حدیث نمبر: 7930
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی زعفران لگائے۔
حدیث نمبر: 7931
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ أَنَّ عَمَّارًا قَالَ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَضَمَّخُونِي بِالزَّعْفَرَانِ فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي فَقَالَ اغْسِلْ هَذَا قَالَ فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي وَقَالَ اغْسِلْ هَذَا عَنْكَ فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِزَعْفَرَانٍ وَلَا الْجُنُبَ وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آیا، جبکہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے، گھر والوں نے زعفران لگا دیا، جب میں صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا اور نہ ہی مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اسے دھو دے۔ میں گیا اور اس کو دھویا، لیکن ابھی تک زعفران کا کچھ حصہ مجھ پر باقی تھا، بہرحال میں پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ سلام کا جواب دیا اور نہ مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اس کو دھو۔ پس میں چلا گیا اور اس کو دھو کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور مرحبا کہا اور فرمایا: فرشتے نہ کافرکے جنازہ پر حاضرہوتے ہیں، نہ اس آدمی کے پاس آتے ہیں، جو زعفران سے لت پت ہو اور نہ جنابت والے شخص کے پاس آتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ جب وہ سوئے یا کھانا پینا چاہے تو وہ وضو کر لے۔
حدیث نمبر: 7932
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَصْبَغُ ثِيَابَهُ وَيَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ قِيلَ لَهُ لِمَ تَصْبُغُ ثِيَابَكَ وَتَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ قَالَ لِأَنِّي رَأَيْتُهُ أَحَبَّ الْأَصْبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَّهِنُ بِهِ وَيَصْبَغُ بِهِ ثِيَابَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمااپنے لباس کو زعفران کے ساتھ رنگتے اور زعفران بطور تیل بھی ملتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کپڑے زعفران کے ساتھ کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کو بطور تیل کیوں استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام رنگوں میں سب سے پیارا رنگ زعفران تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کپڑوں پر لگاتے تھے اور بطورِ تیل بھی استعمال کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … بطورِ تیل لگانے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ذریعے بالوں کو رنگتے تھے، ابوداود کی روایت میںوضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داڑھی مبارک رنگتے تھے۔
حدیث نمبر: 7933
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الثَّوْبِ الْمَصْبُوغِ مَا لَمْ يَكُنْ بِهِ نَفْضٌ وَلَا رِدْعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے کی رخصت دی ہے، جب تک کہ اس کا رنگ جسم پر نہ چڑھے اور نہ ہی جسم پر داغ لگے۔
وضاحت:
فوائد: … زعفران: ایک خوشبودار مشہور پودا، جس کے باریک زرد سرخی مائل ریشے ہوتے ہیں۔