حدیث نمبر: 7924
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَجَدَّ ثَوْبًا فَلَبِسَهُ فَقَالَ حِينَ يَبْلُغُ تَرْقُوَتَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ قَالَ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ تَعَالَى وَفِي جِوَارِ اللَّهِ وَفِي كَنَفِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا حَيًّا وَمَيِّتًا حَيًّا وَمَيِّتًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نیا لباس زیب تن کرے اور پہنتے ہوئے جب وہ کپڑا ہنسلی کی ہڈی تک پہنچے تووہ یہ دعا پڑھے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی وَأَتَجَمَّلُ بِہِ فِی حَیَاتِیْ (ساری تعریف اس اللہ کے لئے، جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس کے ساتھ میں اپنی شرمگاہ چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت اختیار کرتا ہوں۔) پھر پرانے لباس کا صدقہ کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ، اس کی پناہ اور اس کی حفاظت میں آ جاتا ہے، وہ زندہ ہو یا میت، وہ بقید حیات ہو یا بقید ممات، وہ زندہ ہو یا میت، (وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ جائے گا)۔
حدیث نمبر: 7925
عَنْ أَبِي مَطَرٍ الْبَصْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو مطر بصری ، جنھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک کپڑا تین درہم سے خریدا، جب انھوں نے وہ پہنا تو یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی (ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے شاندار لباس کے ذریعہ لوگوں میں زینت دی اور اس کے ذریعہ میں اپنی شرمگاہ ڈھانپتا ہوں۔) اور پھر کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔
حدیث نمبر: 7926
عَنْ أَبِي مَطَرٍ أَيْضًا أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ يَقُولُ وَلَبِسَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي فَقِيلَ هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو مطرسے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ابھی تک وہ نو عمر لڑکا ہی تھا، انہوں نے تین درہم سے قمیص خریدی، جب اسے گٹوں سے ٹخنوں تک پہن لیا تو یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی (ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے شاندار لباس کے ذریعہ لوگوں میں زینت دی اور اس کے ذریعہ میں اپنی شرمگاہ ڈھانپتا ہوں۔) جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ دعا اپنی طرف سے پڑھ رہے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لباس پہنتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی۔
حدیث نمبر: 7927
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصًا أَوْ عِمَامَةً ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا لباس پہنتے تو اس کا نام لیتے کہ وہ قمیص ہے یا پگڑی اورپھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہٖ اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہٖ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہُ، وَاَعَوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لئے ہے، تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا، (اب) میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور اس کی برائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ )
وضاحت:
فوائد: … کسی انداز میں اس لباس کانام لیا جا سکتا ہے، مثلا: ھٰذَا قَمِیْصٌ، ھٰذِہٖ عَمَامَۃٌ، ھٰذَا رِدَائٌ، رَزَقَنِیَ اللّٰہُ قَمِیْصًا، اَعْطَانِیَ اللّٰہُ ھٰذِہِ الْعَمَامَۃَ، یا اس قسم کا کوئی جملہ۔