کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: پگڑی، شلوار اور دھاری دار پوشاکیں پہننے کا بیان
حدیث نمبر: 7919
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7919
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14966»
حدیث نمبر: 7920
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر کالے رنگ کی پگڑی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر خطاب کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر پگڑی تھی اور اس کا ایک کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان لٹک رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7920
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18941»
حدیث نمبر: 7921
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثِيَابًا مِنْ هَجَرَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا فِي سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُونَ يَزِنُونَ بِالْأَجْرِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا مخرمہ عبدی رضی اللہ عنہ ہجر سے کپڑا لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت لے کر وزن کرنے والے بھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ بائع کو چاہیے کہ جب وہ کوئی چیز بیچے تو جس مقدار کا سودا ہوا ہو، اپنی رضامندی سے اس مقدار میں کچھ مقدار کا اضافہ کر دے، اس سے برکت ہو گی، ان شاء اللہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7921
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3336، وابن ماجه: 2220، 3579، والترمذي: 1305، والنسائي: 7/ 284 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19098 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19308»
حدیث نمبر: 7922
عَنْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ وَفِي رِوَايَةٍ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدناانس رضی اللہ عنہ سے کہا: کون سا لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا؟ انھوں نے کہا: دھاری دار۔
وضاحت:
فوائد: … عہد ِ نبوی میں یہ دھاری دارکپڑا یمن میں بنتا تھا، دھاری دار کپڑا جلدی میلا محسوس نہیںہوتا، نیز ایسا کپڑا دیکھنے میں بھلا محسوس ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7922
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5812، ومسلم: 2079 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12404»
حدیث نمبر: 7923
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ ذَلِكَ فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبَرَةِ لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع یعنی حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ آپ کا حق نہیں ہے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو منع نہیں کیا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ دھاری دار پوشاکوں سے منع کر دیں،کیونکہ ان کو پیشاب سے رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کا آپ کو اختیار نہیں ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا لباس زیب ِ تن کیا ہے اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں پہنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر پیشاب سے رنگنے کی بات درست ہو تو اس سے کپڑے کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ رنگے کے بعد جب اس کو دھویا جائے گا تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسا پیشاب کپڑے کے ساتھ تو نہیں لگا رہتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7923
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن الحسن البصري لم يلق عمر ولا أُبيا، لكن قد صح نھي عمر عن متعة الحج، وأما شطره الثاني فقد جاء من طرق عن عمر، وھي وان كانت منقطعة لكن بمجموعھا تدل علي ان لھا اصلا عن عمر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21607»