کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تہبند اور قمیص اور ان سے متعلقہ آداب کا بیان
حدیث نمبر: 7905
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ فَأَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ إِلَى مَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ فَمَا كَانَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کا تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے، اس سے نیچے بھی کر سکتا ہے، لیکن ٹخنوں سے اوپر اوپر تک، ٹخنوں کا جو حصہ تہبند میں آیئے گا، وہ آگ میں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … مردوں کے لباس میں ٹخنوں کو ازار، شلوار اور پینٹ میں چھپانے کی قطعا اجازت نہیں ہے، اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت وعید بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 6648، وابوعوانة: 5/ 484، والنسائي في الكبري : 9712 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10562»
حدیث نمبر: 7906
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تہبند کا حکم دیا ہے، وہی قمیص کے بارے میں حکم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7906
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 4095، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5891»
حدیث نمبر: 7907
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لباس میں سب سے زیادہ پسندیدہ لباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں قمیص کا پہننا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … قمیص بہت باپردہ اور خوبصورت لباس ہے، ایک دفعہ پہن کر آدمی بے فکر ہو جاتا ہے، یہ لباس نہ دوڑنے سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ اس سے کوئی کام کرنے میں حرج محسوس ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7907
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، والدة عبد الله ن بريدة لم نقف لھا علي ترجمة، أخرجه ابوداود: 4026، والترمذي: 1763 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27230»
حدیث نمبر: 7908
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ وَفِي رِوَايَةٍ بِمَيَامِنِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لباس پہنو یا وضوء کرو تو دائیں جانب سے ابتدا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ قمیص، بنیان، جرسی اور شلوار وغیرہ پہنتے وقت دائیں بازو یا ٹانگ سے ابتداء کی جائے، لیکن اتارتے وقت بائیں طرف سے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7908
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداوود: 4141، وابن ماجه: 402 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8637»
حدیث نمبر: 7909
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں سے منع فرمایا: بولی بکّل مارنے سے اور آدمی کے کپڑے کے ساتھ اس طرح گوٹھ مارنے سے کہ اس کی شرمگاہ پر اس میں سے کچھ نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اِشْتِمَالُ الصَّمَّائ سے کیا مراد ہے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: اہلِ لغت کہتے ہیں: کسی شخص کا ایک کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح لپیٹنا کہ نہ تو وہ اس سے کسی جانب کو بلند کرتا ہو اور نہ ہی اتنی جگہ باقی ہو کہ اس کا ہاتھ نکل سکے۔ ابن قتیبہ نے کہا: صمّائ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس کی صورت تمام سوراخوں کو بند کر دیتی ہے، اس طرح وہ سخت چٹان کی طرح ہو جاتی ہے، جس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7909
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مقطعا مسلم: 1511، 1545 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9425»
حدیث نمبر: 7910
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلُ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ وَلَا يَحْتَبِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کپڑے میں بولی بکّل نہ مارو اور تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے، نہ ایک جوتے میں چلے اور نہ ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھے۔
وضاحت:
فوائد: … اشتمال الصمائ اور گوٹھ مارنے کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ بائیں ہاتھ سے کھانے اور ایک جوتے میں چلنے سے منع کیا گیا، کیونکہ یہ دونوں شیطان کی عادتیں ہیں:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7910
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري : 9799، وابويعلي: 2254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14917»