کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صاف ستھرا رہنے کا، اچھے لباس کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار کرنے کا¤اور مستحب ملبوسات کا بیان
حدیث نمبر: 7898
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ وَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثِيَابَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس سر کے بالوں کو سنوارنے کے اسباب نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور آدمی کو دیکھا، اس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعے یہ اپنا لباس دھو سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد، أخرجه ابوداود: 4062 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14911»
حدیث نمبر: 7899
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کے پاس آنے والے ہو، پس اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسرے لوگوں سے ملتے وقت اچھی ہیئت اختیار کرنی چاہیے، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ جمعہ کے روز اور مختلف وفود سے ملاقات کے وقت پہننے کے لیے فلاں ریشمی پوشاک خرید لیں، آگے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم ہونے کی وجہ تردید کی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مقصد کی تردید نہیں کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7899
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17770»
حدیث نمبر: 7900
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ أَوْ شَمْلَتَانِ وَفِي رِوَايَةٍ فَرَآنِي رَثَّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ قُلْتُ نَعَمْ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ مَالِهِ مِنْ خَيْلِهِ وَإِبِلِهِ وَغَنَمِهِ وَرَقِيقِهِ فَقَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيَرَ عَلَيْكَ نِعْمَتَهُ فَرُحْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ وَفِي لَفْظٍ فَغَدَوْتُ عَلَيْهِ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے اپنے اوپر ایک یا دو چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور میری حالت پراگندہ سی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی بالکل، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطاء کر رکھا ہے، گھوڑے ہیں، اونٹ ہیں، بکریاں ہیں اور غلام ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اس کی نعمت کے اثرات تجھ پر نظر آنے چاہئیں۔ میں یہ سن کر پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کا حلہ پہن رکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7900
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مطولا ومختصرا ابوداود: 4063، والنسائي: 8/ 180، 181، 196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17361»
حدیث نمبر: 7901
عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعَطَارِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ لَمْ نَرَهُ عَلَيْهِ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَا بَعْدَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ نِعْمَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى خَلْقِهِ وَفِي لَفْظٍ عَلَى عَبْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو رجاء عطاردی کہتے ہیں ہمارے سامنے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اون اور ریشم سے بنی چادر زیب ِ تن کر رکھی تھی، ہم نے اس سے پہلے اور اس کے بعد ایسی چادر نہیں دیکھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کر رکھی ہوں، تو وہ اللہ یہ بھی پسند کرتا ہے کہ اپنی مخلوق پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ اس چادر میں ریشم کی اتنی معمولی مقدار ہو، جتنی کی شرعاً جائز ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7901
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني: 18/ 218، والبيھقي: 3/ 271 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20176»
حدیث نمبر: 7902
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس زیب تن بھی کیا کرو اور اس میں مردوں کو کفن بھی دیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7902
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي:4/ 34، وابن ماجه: 3567، والترمذي: 2810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20402»
حدیث نمبر: 7903
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: تم اپنے کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7903
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه ابوداود: 3878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2219»
حدیث نمبر: 7904
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا أَبْيَضَ فَقَالَ أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ أَمْ غَسِيلٌ فَقَالَ فَلَا أَدْرِي مَا رَدَّ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا أَظُنُّهُ قَالَ وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر سفید رنگ کا کپڑا دیکھ کر پوچھا: یہ نیا ہے یا دھویا ہوا ہے۔ ابن عمر کہتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ سیدنا عمر نے کیا جواب دیا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ دعا دی: اِلْبَسْ جَدِیْدًا وَعِشْ حَمِیْدًا وَمُتْ شَہِیْدًا : (تم نیا لباس پہنو، قابل تعریف حالت میں زندگی گزارواور شہادت کی موت پاؤ)۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا بھی دی تھی: اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنی حیثیت کے مطابق لباس اور وضع قطع کا خیال رکھنا چاہیے، یہ اللہ تعالی کی نعمت اور اس پر شکر ادا کرنے کا تقاضا ہے، ہاں اس وجہ سے فخرو مباہات، نمود و نمائش، ریاکاری اور تکبر سے بچنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 7904
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3558 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5620»