کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جوا اور نرد (چوسر) جیسے کھیل کھیلنے کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 7887
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلْفِهِ وَاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم اٹھائے اور اپنی قسم میں کہے: مجھے لات کی قسم! تو وہ (اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے) کہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ ہم جوا کھیلیں وہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … عربوں کی زبانوں پر کچھ کلمات بلا قصد جاری ہو جاتے تھے، ابتدائے اسلام میں بھی ایسے ہو جاتا تھا کہ ممنوعہ کلمات ان کی زبان پر آ جاتے تھے، لات و عزی کی قسموں کاتعلق بھی ان ہی کلمات سے ہے، یا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہالت یا بھول کر لات و عزی کی قسم کھالے، وگرنہ جو آدمی جان بوجھ کر تعظیماً لات وغیرہ کی قسم کھاتا ہے، وہ کافر ہے، اس کے کفر میں کسی کو اختلاف نہیں، وہ خارج از اسلام ہو گا،دیکھیں حدیث نمبر (۵۲۹۲) والے باب کی احادیث اور ان کے فوائد۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7887
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6107، 6301، ومسلم: 1647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8087)(7887) أخرجه البخاري: 6107، 6301، ومسلم: 1647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8073»
حدیث نمبر: 7888
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ وَفِي رِوَايَةٍ بِالْكِعَابِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جونرد شیر کے ساتھ کھیلا، ایک روایت میں ہے: جو نرد کھیل کے نگینوں کے ساتھ کھیلا، اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نَرْد کا ترجمہ لُعْبَۃ الطَّاوِلَۃ کیا گیا ہے، یعنی لکڑی کے تختے پر کھیل، جس سے چوسر، کیرم بورڈ اور لڈو وغیرہ کی قسم کے کھیل مراد لیے جا سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7888
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 737، والحاكم: 1/ 50، وابويعلي: 7289، والبيھقي: 10/ 215 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19750»
حدیث نمبر: 7889
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَلِّبُ كَعَبَاتِهَا أَحَدٌ يَنْتَظِرُ مَا تَأْتِي بِهِ إِلَّا عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نرد کھیل کے نگینوں کو پلٹتا ہے اور یہ انتظار کرتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7889
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19883»
حدیث نمبر: 7890
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَهَاتَانِ الْكَعْبَتَانِ الْمَوْسُومَتَانِ اللَّتَانِ تُزْجَرَانِ زَجْرًا فَإِنَّهُمَا مَيْسِرُ الْعَجَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو قسم کے نگینوں سے بچو، جو علامت شدہ ہوتے ہیں،انہیں روکا جاتا ہے، یہ عجمی لوگوں کا جوا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7890
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابراهيم الھجري لين الحديث، وعلي بن عاصم صدوق يخطيء ويصر علي الخطأ، وصوب الدارقطني وقفه، أخرجه الطبراني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4263»
حدیث نمبر: 7891
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نردشیر کے ساتھ کھیلتا ہے، وہ گویا اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈالتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7891
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23444»
حدیث نمبر: 7892
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَطَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن خطمی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نرد شیر کھیل کھیل کر نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور خنزیر کے خون کے ساتھ وضو کر کے نماز پڑھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں نرد شیر (چوسر) کے کھیل سے منع کیا گیا ہے، جبکہ اس باب کی احادیث کا مقصود یہ نہیں ہے کہ اس باب میں صرف یہ کھیل منع ہے، کھیل کے ناموں اور طریقوں میں بڑا فرق اور اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے ہم شرعی مزاج اور مقصود کو دیکھ کر ہر کھیل کے جواز یا عدم جواز کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللهو واللعب / حدیث: 7892
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، موسي بن عبد الرحمن الخطمي مجھول واختلف عليه في اسناده، أخرجه ابويعلي: 1104، والبيھقي: 10/ 215، والطبراني: 22/ 748 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23526»