حدیث نمبر: 7875
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَكَ بِالدُّفِّ قَالَ إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِي وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي فَلَا تَفْعَلِي فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهِيَ تَضْرِبُ وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ أَنَا جَالِسٌ هَاهُنَا وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام لونڈی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ سے واپس لوٹے تھے، اس نے آکر کہا: میں نے نذرمان رکھی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی کے ساتھ واپس لوٹائے گا تو میں دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تونے یہ نذر مانی ہے تو اسے پورا کرلے اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو اس طرح نہ کر۔ پس اس نے دف بجایا، اتنے میں جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ بجاتی رہی، اور بھی لوگ آتے رہے اور وہ بجاتی رہی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو اس نے دف اپنے پیچھے رکھ دی اور کپڑا اوڑھ لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تجھ سے شیطان بھی ڈرتا ہے، میں بیٹھا ہوا تھا، یہ دف بجارہی تھی، یہ یہ افراد بھی آئے، لیکن یہ دف بجاتی رہی، جب تو داخل ہوا تو اس نے ایسے ایسے کر لیا۔
وضاحت:
فوائد: … عربوں کادف گول اور چھلنی کی شکل کا ہوتا ہے، اس کے چمڑے میں سوراخ نہیں ہوتے اور اس میں گھنٹیاں اور گھنگرو لگے ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7876
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس دو لونڈیاں دو دف بجارہی تھیں، انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، بیشک ہر قوم کی عید ہوتی ہے (جس پر وہ خوشی کرتی ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … ثابت ہوا کہ بچیاں دُف (ڈھولکی) بجا کر جائز کلام، وہ نظم ہو یا نثر، پڑھ سکتی ہیں، ہمیں بھی شادی بیاہ اور عید کے موقعوں پر ایسا ہی اندازِ خوشی اپنانا چاہئے، نہ کہ بے پردگی اور بے حیائی پر مشتمل باطل رسومات۔