کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7859
۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اَتَانِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اللَّیْلَۃَ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ اَحْسِبُہُ یَعْنِیْ فِی النَّوْمِ فَقَال: یَا مُحَمَّدُ! ھَلْ تَدْرِیْ فِیمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَوَضَعَ یَدَہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتّٰی وَجَدْتُ بَرْدَہَا بَیْنَ ثَدْیَیَّ أَوْ قَالَ نَحْرِی فَعَلِمْتُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ یَا مُحَمَّدُ ہَلْ تَدْرِی فِیمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی قَالَ قُلْتُ نَعَمْ یَخْتَصِمُونَ فِی الْکَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ قَالَ وَمَا الْکَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ قَالَ الْمَکْثُ فِی الْمَسَاجِدِ وَالْمَشْیُ عَلَی الْأَقْدَامِ إِلَی الْجَمَاعَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوء ِ فِی الْمَکَارِہِ وَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ عَاشَ بِخَیْرٍ وَمَاتَ بِخَیْرٍ وَکَانَ مِنْ خَطِیئَتِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ وَقُلْ یَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّیْتَ اللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً أَنْ تَقْبِضَنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ قَالَ وَالدَّرَجَاتُ بَذْلُ الطَّعَامِ وَإِفْشَائُ السَّلَامِ وَالصَّلَاۃُ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا پروردگار انتہائی خوبصورت شکل میں میرے خواب میں میرے پاس آیا، میرا خیال ہے کہ یہ نیند کا واقعہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! آپ جانتے ہیں یہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میری کمر پر رکھایہاں تک کہ میں نے اپنی چھاتی میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی، مجھے زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا علم ہو گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد ! کیا آپ جانتے ہیں مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی وہ کفاروں اور درجات میں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کفارے اور درجات کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا: کفارات یہ ہیں: مساجد میں ٹھہرنا، جماعتوں کے لیے قدموں پر چل کر جانا، تنگی کے باوجود وضو پورا کرنا، جس نے یہ اعمال کیے، وہ زندہ بھی خیر سے رہا اور اس کی موت بھی خیر پر آئی اور وہ اپنی خطاؤں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اے محمد ! جب آپ نماز ادا کرلیں تو یہ دعا پڑھا کرو: اللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً أَنْ تَقْبِضَنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ (اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کو کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں سے فتنہ کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔) اوردرجات یہ ہیں: کھانا کھلانا، سلام کہنا اور رات جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھنا۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے ربّ کو دیکھنے کا یہ واقعہ خواب میں پیش آیا، جیسا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فَنَعِسْتُ فِی صَلَاتِیْ حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ، فَإِذَا اَنَا بِرَبِّیْ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ۔)) … پس میں نماز میں اونگھنے لگ گیا، یہاں تک کہ میں بوجھل ہو گیا، پس اچانک میں اپنے رب کے ساتھ تھا اور اللہ تعالی انتہائی خوبصورت شکل میں تھے۔ (ترمذی) اور اس حدیث کے شروع میں بھی نیند کا ذکر ہے۔