کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خوابوں کا بیان
حدیث نمبر: 7845
۔قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْیَا رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الَّتِی ذَکَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَکَرَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ أَنَّہُ وُضِعَ فِی یَدَیَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَفَظِعْتُہُمَا فَکَرِہْتُہُمَا وَأُذِنَ لِی فَنَفَخْتُہُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُہُ کَذَّابَیْنِ یَخْرُجَانِ۔)) قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ أَحَدُہُمَا الْعَنْسِیُّ الَّذِی قَتَلَہُ فَیْرُوزُ بِالْیَمَنِ وَالْآخَرُ مُسَیْلِمَۃُ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں دو کنگن سونے کے رکھ دئیے گئے ہیں، میں ان کی وجہ سے گھبرا گیا اور میں نے انہیں ناپسند کیا، مجھے اجازت ملی کہ میں ان پر پھونک ماروں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے ، میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ یہ نمودار ہونے والے دو جھوٹے نبی ہوں گے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: ایک ان میں سے اسود عنسی ہے، جسے فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پھونک مارنے سے مراد ان جھوٹے مدعیان نبوت کی ہلاکت تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7845
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4379، 7033، وأما قول ابن عباس فيه: ذُكر لي فقد جاء من غير ھذا الطريق ان الذي حدثه بذالك وھو ابو ھريرة فقد أخرجه البخاري: 3621، 4374، ومسلم: 2274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2373 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7846
۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِیتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِی یَدَیَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَکَبُرَا عَلَیَّ وَأَہَمَّانِی فَأُوحِیَ إِلَیَّ أَنْ انْفُخْہُمَا فَنَفَخْتُہُمَا فَذَہَبَا فَأَوَّلْتُہُمَا الْکَذَّابَیْنِ اللَّذَیْنِ أَنَا بَیْنَہُمَا صَاحِبُ صَنْعَائَ وَصَاحِبُ الْیَمَامَۃِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے، جو مجھ پہ بڑے گراں گزرے اور انہوں نے مجھے بہت غمگین کیا، میری طرف وحی کی گئی کہ آپ ان پر پھونک مار دیں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے، میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد وہ دو کذاب ہیں کہ میں جن کے درمیان ہوں، ایک صنعاء والا یعنی اسود عنسی ہے اور دوسرا صاحب ِ یمامہ یعنی مسیلمہ کذاب۔
وضاحت:
فوائد: … زمین کے خزانوں سے مراد قیصر و کسری کی سلطنتیں اور مال و دولت کے خزانے ہیں، یہ خزانے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو مل گئے تھے اور صنعاء اور یمامہ میں دو جھوٹوں نے نبوت کا دعوی بھی کیا تھا، لیکن ہلاکت ان کا مقدر بنی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7846
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4375، 7037، ومسلم: 2274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8249 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7847
۔عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7847
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 7848
۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَتَاہُ فِیمَا یَرَی النَّائِمُ مَلَکَانِ فَقَعَدَ أَحَدُہُمَا عِنْدَ رِجْلَیْہِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِہِ فَقَالَ الَّذِی عِنْدَ رِجْلَیْہِ لِلَّذِی عِنْدَ رَأْسِہِ اضْرِبْ مَثَلَ ہٰذَا وَمَثَلَ أُمَّتِہِ فَقَالَ إِنَّ مَثَلَہُ وَمَثَلَ أُمَّتِہِ کَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ انْتَہَوْا إِلٰی رَأْسِ مَفَازَۃٍ فَلَمْ یَکُنْ مَعَہُمْ مِنَ الزَّادِ مَا یَقْطَعُونَ بِہِ الْمَفَازَۃَ وَلَا مَا یَرْجِعُونَ بِہِ فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذٰلِکَ إِذْ أَتَاہُمْ رَجُلٌ فِی حُلَّۃٍ حِبَرَۃٍ فَقَالَ أَرَأَیْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِکُمْ رِیَاضًا مُعْشِبَۃً وَحِیَاضًا رُوَائً أَتَتَّبِعُونِی فَقَالُوا نَعَمْ قَالَ فَانْطَلَقَ بِہِمْ فَأَوْرَدَہُمْ رِیَاضًا مُعْشِبَۃً وَحِیَاضًا رُوَائً فَأَکَلُوا وَشَرِبُوا وَسَمِنُوا فَقَالَ لَہُمْ أَلَمْ أَلْقَکُمْ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ فَجَعَلْتُمْ لِی إِنْ وَرَدْتُ بِکُمْ رِیَاضًا مُعْشِبَۃً وَحِیَاضًا رُوَائً أَنْ تَتَّبِعُونِی فَقَالُوا بَلٰی قَالَ فَإِنَّ بَیْنَ أَیْدِیکُمْ رِیَاضًا أَعْشَبَ مِنْ ہٰذِہِ وَحِیَاضًا ہِیَ أَرْوٰی مِنْ ہٰذِہِ فَاتَّبِعُونِی قَالَ فَقَالَتْ طَائِفَۃٌ صَدَقَ وَاللّٰہِ لَنَتَّبِعَنَّہُ وَقَالَتْ طَائِفَۃٌ قَدْ رَضِینَا بِہٰذَا نُقِیمُ عَلَیْہِ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خواب دیکھا کہ دو فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاؤں کی جانب اور دوسرا سر کی جانب بیٹھ گیا، جو پائنتی کی جانب بیٹھا تھا، اس نے اس فرشتہ سے کہا جو سرہانے بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی مثال بیان کرو، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی مثال اس قوم کی مانند ہے، جو ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے، اس کے پاس نہ تو توشہ سفر ہے کہ اس جنگل کو طے کر سکے اور نہ ہی واپس لوٹنے کی گنجائش ہے، یہ قوم اسی حالت میں تھی کہ اس کے پاس ایک آدمی آتا ہے، جو دھاری دار جوڑ ا زیب تن کئے ہے اور وہ کہتا ہے: کیا میں تمہیں سر سبز و شاداب باغیچے میں لے چلوں، جس کا منظر نہایت ہی دلربا ہے، کیا تم میرے پیچھے چلو گے؟ وہ قوم کہتی ہے: جی ہاں چلیں گے، وہ انہیں لے کر چلتا ہے اور انہیں سرسبز و شاداب باغیچوں اور حسین منظر حوضوں میں وارد کرتا ہے، وہ ان میں کھاتے پیتے ہیں اور موٹے تازے صحت مند ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں یاد دہانی کراتا ہے، جب میری تم سے ملاقات ہوئی تھی تو تم کس حال میں تھے، پھر تم نے مجھ پر اعتماد کیا، میں نے تم سے عہد کیا تھاکہ میں تمہیں سرسبز وشاداب باغیچوں اور حسین منظر حوضوں میں وارد کروں گا، اگر تم میرے پیچھے چلو گے ، وہ قوم کہتی ہے: کیوں نہیں، ایسا ہی ہوا ہے، وہ کہتا ہے تو اب میں پھر کہتا ہوں: ان باغوں سے بھی زیادہ سرسبز باغ اور حسین منظر حوض اس سے آگے ہیں، میرے پیچھے چلو تو ایک گروہ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے، ہم پیچھے جائیں گے، دوسرا گروہ کہتا ہے اتنا ہی ہمیں کافی ہے، ہم اسی پر مقیم رہنا پسند کرتے ہیں، ساتھ نہیں جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق دنیا میں رہ کر جنت کے حصول کی فکر کرے گا، وہ اس کے باغوں اور حوضوں میں جائے گا اور جو دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتا رہا وہ جنت سے محروم رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7848
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولين يوسف بن مهران، أخرجه البزار: 2407، والطبراني: 12940 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2402 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7849
۔عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((أُتِیتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْہُ حَتَّی جَعَلَ اللَّبَنُ یَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِی ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔)) فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَمَا أَوَّلْتَہُ؟ قَالَ: ((الْعِلْمُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا، میں نے اس سے پیا، یہاں تک کہ دودھ میرے ناخنوں سے پھوٹنا شروع ہو گیا، پھر جو بچ گیا، وہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد علم ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ثابت ہوا خواب میں دودھ پینا یا کسی کو دینا یہ علم دین کی اشاعت ہے اور اس علم دین کو حاصل کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3681، 7006، ومسلم: 2391 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5554 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7850
۔حَدَّثَنِی سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رُؤْیَا رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ قَالَ: ((رَأَیْتُ النَّاسَ قَدْ اجْتَمَعُوا فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَیْنِ وَفِی نَزْعِہِ ضَعْفٌ وَاللّٰہُ یَغْفِرُ لَہُ ثُمَّ نَزَعَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَا رَأَیْتُ عَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَفْرِی فَرِیَّہُ حَتّٰی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے متعلقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں اور ابوبکر کھڑے ہوئے ایک یا دو ڈول کنوئیں سے پانی کے کھینچتے ہیں، ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے، پھر عمر نے ڈول کھینچا ہے، پس وہ بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا، میں نے لوگوں میں سے اتنا قوی کسی کو نہیں دیکھا، (انھوں نے اس قدر ڈول کھینچے کہ) لوگوں نے اپنے اونٹ بٹھا لیے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی طرف اشارہ ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی کمزوری سے مراد ان کی مدت ِ خلافت کا مختصر ہونا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت دس برس سے بھی زیادہ تھی، انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کی خوب خدمت کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7850
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3633، ومسلم: 2393، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4814 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7851
۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ کَانَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ أُرِیَ اللَّیْلَۃَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ نِیطَ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنِیطَ عُمَرُ بِأَبِی بَکْرٍ وَنِیطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ قَالَ جَابِرٌ فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْنَا أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَأَمَّا ذِکْرُ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ نَوْطِ بَعْضِہِمْ لِبَعْضٍ فَہُمْ وُلَاۃُ ہٰذَا الْأَمْرِ الَّذِی بَعَثَ اللّٰہُ بِہِ نَبِیَّہُ صلى الله عليه وآله وسلم۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو ایک خواب دیکھا کہ ایک نیک آدمی ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ وابستہ ہوگئے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وابستہ ہوگئے ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وابستہ ہوگئے ہیں۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم یہ بات سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے کھڑے ہوئے تو ہم نے کہا: نیک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ان کے ساتھ وابستہ یکے بعد دیگرے وابستہ ہونے والوں سے مراد اس دین کے والی اور خلیفے ہیں، جس دین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو مبعوث فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7851
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4636 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14821 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7852
۔عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ قَالَ کَانَ یَقُولُ فِی خِلَافَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَا یَمُوتُ عُثْمَانُ حَتَّی یُسْتَخْلَفَ قُلْنَا مِنْ أَیْنَ تَعْلَمُ ذَلِکَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ کَأَنَّہُ ثَلَاثَۃٌ مِنْ أَصْحَابِی وُزِنُوا فَوُزِنَ أَبُو بَکْرٍ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ صَاحِبُنَا وَہُوَ صَالِحٌ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، یہ آدمی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے بغیر وفات نہیں پائیں گے، ہم نے اس سے کہا: تمہیں کیسے علم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے رات کو خواب دیکھا کہ میرے تین صحابہ کا وزن کیا گیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو یہ وزن میں بڑھ گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وزن کئے گئے تو یہ بھی وزن میں بھاری ہوئے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا وزن کچھ کم نکلا، بہرحال وہ نیک اور صالح ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفۂ راشد تھے، لیکن ان کے دورِخلافت میں جو افراتفری بپا ہوئی تھی، اس کو کم وزن سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7852
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16604 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7853
۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیْفَہُ ذَا الْفَقَارِ یَوْمَ بَدْرٍ وَہُوَ الَّذِی رَأٰی فِیہِ الرُّؤْیَا یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَیْتُ فِی سَیْفِی ذِی الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُہُ فَلًّا یَکُونُ فِیکُمْ وَرَأَیْتُ أَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا فَأَوَّلْتُہُ کَبْشَ الْکَتِیبَۃِ وَرَأَیْتُ أَنِّی فِی دِرْعٍ حَصِینَۃٍ فَأَوَّلْتُہَا الْمَدِینَۃَ وَرَأَیْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللّٰہُ خَیْرٌ فَبَقَرٌ وَاللّٰہُ خَیْرٌ فَکَانَ الَّذِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور انعام دی، یہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن خواب دیکھا تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک شگاف اور رخنہ دیکھا ہے، اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہارے اندر رخنہ پڑے گا (یعنی شکست ہوگی)، میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے، میں نے تاویل کی ہے کہ دشمن لشکر کا بہادر شہید ہوگا، میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ محفوظ رہے گا اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے، اللہ بھلائی والا ہے اور اللہ بھلائی والا ہے ۔ وہی ہوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تعبیریں غزوۂ احد کے موقع پر پوری ہوئیں، گائے ذبح ہونے کی تعبیر اسی غزوہ کے موقع پر ستر صحابۂ کرام کی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7853
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرج أوله الي قوله يوم احد : الترمذي: بعد الحديث: 1561، وابن ماجه: 2808، وأخرج بأطول مما ھنا الحاكم: 2/ 128، والبيھقي: 7/ 41 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2445 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7854
۔عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((رَأَیْتُ فِیمَا یَرَی النَّائِمُ کَأَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا وَکَأَنَّ ظُبَۃَ سَیْفِی انْکَسَرَتْ فَأَوَّلْتُ أَنِّی أَقْتُلُ صَاحِبَ الْکَتِیبَۃِ وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ بَیْتِی یُقْتَلُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا، جیسا کہ سونے والا خواب دیکھتا ہے کہ میں نے ایک مینڈھا اپنے پیچھے بٹھایا ہوا ہے اور میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے، میں نے اس کی تعبیر یہ نکالی ہے کہ دشمن لشکر کا آدمی قتل ہوگا اور میرے گھر والوں میں سے ایک آدمی شہید ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … دشمنوں کا علم بردار طلحہ بن ابی طلحہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں میں سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7854
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 69، والبزار: 2131 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13825 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7855
۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((رَأَیْتُ کَأَنِّی أَتَیْتُ بِکُتْلَۃِ تَمْرٍ فَعَجَمْتُہَا فِی فَمِی فَوَجَدْتُ فِیہَا نَوَاۃً آذَتْنِی فَلَفَظْتُہَا ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرٰی فَعَجَمْتُہَا فَوَجَدْتُ فِیہَا نَوَاۃً فَلَفَظْتُہَا ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرٰی فَعَجَمْتُہَا فَوَجَدْتُ فِیہَا نَوَاۃً فَلَفَظْتُہَا۔)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: دَعْنِی فَلْأَعْبُرْہَا قَالَ: قَالَ: ((اُعْبُرْہَا۔)) قَالَ ہُوَ جَیْشُکَ الَّذِی بَعَثْتَ یَسْلَمُ وَیَغْنَمُ فَیَلْقَوْنَ رَجُلًا فَیَنْشُدُہُمْ ذِمَّتَکَ فَیَدَعُونَہُ ثُمَّ یَلْقَوْنَ رَجُلًا فَیَنْشُدُہُمْ ذِمَّتَکَ فَیَدَعُونَہُ ثُمَّ یَلْقَوْنَ رَجُلًا فَیَنْشُدُہُمْ ذِمَّتَکَ فَیَدَعُونَہُ قَالَ: ((کَذٰلِکَ۔)) قَالَ الْمَلَکُ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ کھجوروں کا ایک ٹوکرا ہے، میں نے اس میں سے کچھ کھجوریں جمع کی ہیں اور منہ میں ڈال لی ہیں، میں نے ان میں ایسی گٹھلی پائی کہ جس سے مجھے تکلیف ہوئی، میں نے وہ کھجوریں منہ سے پھینک دی ہیں، پھر میں نے اور لے لیں اور انہیں جمع کیا ہے، ان میں گٹھلی موجود تھی، انہیں بھی میں نے پھینک دیا ہے، پھر اور لے لیں اور جمع کرکے منہ میں ڈالی ہیں ،ان میں بھی میں نے گٹھلی پائی اور انہیں پھینک دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس کی تعبیر کی اجازت دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر کرو۔ انہوں نے کہا: اس سے مراد آپ کا وہ لشکر ہے جو آپ نے بھیجا ہے وہ صحیح سلامت آئے گا اور مال غنیمت لے کر آئے گا، وہ ایک آدمی سے ملیں گے، وہ انہیں آپ کے ذمہ کا واسطہ دے گا، وہ اسے چھوڑ دیں گے، پھر وہ ایک اور آدمی سے ملیں گے، وہ بھی آپ کے ذمہ کا واسطہ دے گا، وہ اسے بھی چھوڑدیں گے، پھر وہ ایک اور آدمی سے ملیں گے، وہ بھی آپ کے ذمہ کا حوالہ دے گا، وہ اسے بھی چھوڑ دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نے مجھے یہی تعبیر بتلائی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7855
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، أخرجه الدارمي: 2162، والحميدي: 1296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15288 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7856
۔عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((رَأَیْتُ کَأَنِّی اللَّیْلَۃَ فِی دَارِ رَافِعِ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ حَسَنٌ فِی دَارِ عُقْبَۃَ بْنِ رَافِعٍ فَأُوتِینَا بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ أَنَّ لَنَا الرِّفْعَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْعَاقِبَۃَ فِی الْآخِرَۃِ وَأَنَّ دِینَنَا قَدْ طَابَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں، ہمارے پاس ابن طاب کھجوریں لائی گئیں،میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ہمیں دنیا میں رفعت ملے گی اور آخرت میں حسن انجام ملے گا اور ہمارا دین نہایت عمدگی اختیار کر چکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابن طاب، مدینہ منورہ کی کھجوروں کی ایک قسم ہے، جو ابن طاب کی طرف منسوب تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7856
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13219 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7857
۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((رَأَیْتُ امْرَأَۃً سَوْدَائَ ثَائِرَۃَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِینَۃِ حَتّٰی قَامَتْ بِمَہْیَعَۃَ فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَائَہَا نُقِلَ إِلَی مَہْیَعَۃَ وَہِیَ الْجُحْفَۃُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک سیاہ فام عورت کو دیکھا ہے، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، وہ مدینہ سے نکل کر مہیعہ یعنی جحفہ مقام میں ٹھہر گئی، میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ مدینہ کی وبا وہاں منتقل ہو گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7857
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 8038، 8040 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5849 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 7858
۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اُرَانِی فِی الْمَنَامِ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ، فَرَأَیْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا تَرٰی مِنَ الرِّجَالِ، لَہُ لِمَّۃٌ قَدْ رُجِّلَتْ وَلِمَّتُہُ تَقْطُرُ مَائً، وَاضِعًا یَدَہُ عَلٰی عَوَاتِقِ رَجُلَیْنِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ رَجِلَ الشَّعْرِ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ، ثُمَّ رَأَیْتُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَیْنِ الْیُمْنٰی، کَأَنَّ عَیْنَہُ عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ کَأَشْبَہِ مَنْ رَأَیْتُ مِنِ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا یَدَیْہِ عَلٰی عَوَاتِقِ رَجُلَیْنِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: ہٰذَا الْمَسِیحُ الدَّجَّالُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں کعبہ کے پاس ہوں، میں نے ایک گندمی رنگ کا بہت زیادہ حسین، جو ایک آدمی ہوسکتا ہے، دیکھا، اس کے بال کانوں تک تھے، کنگھی کی ہوئی تھی اور اس کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا اور اس کے بال لہردار تھے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں، پھر میں نے ایک اور آدمی دیکھا، اس کے بال سخت گھنگھریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی مانند تھی، یوں سمجھیں کہ لوگوں میں اس کی مشابہت ابن قطن سے پڑتی تھی، یہ بھی دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اور بیت اللہ کا طواف کررہا تھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح دجال ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف خواب تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تعبیر بھی بیان کر دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 7858
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5902، 6999، ومسلم: 169 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6099 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»