حدیث نمبر: 7840
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ فَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ مَكَانَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی ہے اور میرا سر گر پڑا، میں اس کے پیچھے جاتا ہوں، اسے پکڑ کر پھر اس کی جگہ پر لگادیتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے ساتھ شیطان کھیل کرے تو ہر گز لوگوں کو نہ بتائے۔
حدیث نمبر: 7841
۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَأْسِی ضُرِبَ فَرَأَیْتُہُ یَتَدَہْدَہُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((یَطْرُقُ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فَیَتَہَوَّلُ لَہُ ثُمَّ یَغْدُو یُخْبِرُ النَّاسَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر مار دیا گیا ہے، پھر میں نے اس کو دیکھا کہ وہ لڑھکتا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور پھر فرمایا: تم میں سے ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے ہولناکی میں مبتلا کر دیتا ہے اور پھر وہ صبح کو لوگوں کو بتا رہا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آدمی جن خوابوں کو برا اور شیطانی سمجھتا ہے، ان کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے خیال کو دفع کرنے کا جو طریقہ بتلایا، اس پر عمل کرے اور ان کے شرّ سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے۔
حدیث نمبر: 7842
۔حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِیلَ الْجُشَمِیُّ عَنْ شَیْخٍ لَہُمْ یُقَالُ لَہُ جَعْدَۃُ أَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم رَأٰی لِرَجُلٍ رُؤْیَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ فَجَائَ فَجَعَلَ یَقُصُّہَا عَلَیْہِ وَکَانَ الرَّجُلُ عَظِیمَ الْبَطْنِ قَالَ فَجَعَلَ یَقُولُ بِأُصْبُعِہِ فِی بَطْنِہِ ((لَوْ کَانَ ہَذَا فِی غَیْرِ ہَذَا لَکَانَ خَیْرًا لَکَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو اسرائیل جشمی اپنے قبیلے کے جعدہ نامی بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خواب میں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ خواب اس کے سامنے بیان کیا، وہ آدمی بڑے پیٹ والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی انگلی اس کے پیٹ میں لگا کر فرمانے لگے: اگر یہ اس پیٹ کی جگہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں بڑا ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیٹ کے بجائے دوسرے اعضا میں یہ بڑا پن ہوتا، جیسے بازو یا سر وغیرہ، پیٹ بڑا ہونے کی بجائے اس کی ذہانت اور عقل زیادہ ہوتی تو یہ بہتر ہوتا، پیٹ کے بڑا ہونے میں تو کوئی خوبی نہیں ہے، بلکہ یہ تو قابل مذمت چیز ہے، کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، طبیعت میں کاہلی اور سستی آ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 7843
۔عَنْ جَعْدَۃَ مَوْلٰی اَبِیْ اِسْرَائِیْلَ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ یَقُصُّ عَلَیْہِ رُؤْیَا، وَذَکَرَ سِمَنَہُ وَعِظَمَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَوْ کَانَ ہٰذَا فِی غَیْرِ ہٰذَا کَانَ خَیْرًا لَکَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے ابو اسرائیل سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خواب بیان کررہا تھا، اس نے اپنے موٹاپے اور بڑے پیٹ کا ذکر کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اگر تیرا یہ بڑا ہونا دوسرے اعضاء (یا صلاحیت) میں ہوتا تو بہتر تھا۔
حدیث نمبر: 7844
۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَرَاٰی رَجُلًا سَمِیْنًا فَجَعَلَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم یُوْمِی اِلٰی بَطْنِہٖ بِیَدِہٖ وَیَقُوْلُ: ((لَوْ کَانَ ھٰذَا فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الَمْکَانِ لَکَانَ خَیْرًا لَکَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیٹ کی جانب اشارہ کیا اورفرمایا: اگر یہ بڑا پن کسی دوسرے (عضو یا عقلی صلاحیت وغیرہ) میں ہوتا تو بہتر تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایات ضعیف ہے، بہرحال بسیار خوری کی وجہ سے پیٹ کا بڑا ہونا قابل مذمت ہے۔