حدیث نمبر: 7809
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ السِّتَارَةِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور دیکھا کہ لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے نماز ادا کررہے ہیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں، جن کو مسلمان دیکھتا ہے یا جو اس کے لیے کسی کو دکھائے جاتے ہیں،خبردار! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے روک دیا گیا ہے، رکوع میں اپنے رب کی تعظیم بیان کیا کرو اور سجدہ میں دعائیں کرنے میں کوشش کیا کرو، کیونکہ بہت زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے۔
حدیث نمبر: 7810
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، ما سوائے خوشخبریوں کے۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ خوشخبریاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سے مراد اچھے خواب ہیں، جو آدمی دیکھتا ہے یا اس کے لیے کسی کو دکھائے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7811
عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام کرزکعبیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (آئندہ) نبوت تو ختم ہو گئی ہے، البتہ خوشخبریاں باقی رہ گئی ہیں۔
حدیث نمبر: 7812
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز فجر سے فارغ ہوتے تو فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے رات کو کوئی خواب دیکھا ہے، میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہ رہے گا، صرف اچھے خواب ہی رہ جائیں گے۔
حدیث نمبر: 7813
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ قِيلَ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ (أَوْ قَالَ) الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد نبوت میں سے سوائے مبشرات کے اور کچھ باقی نہ رہے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خوشخبریاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھے خواب۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اچھے خواب مسلمان کے حق میں مستقبل میں کسی نہ کسی خوشخبری کا پیش خیمہ ہیں