حدیث نمبر: 7807
عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ وَحَدَّثَ بِهِ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبید بن خالد رضی اللہ عنہ ، جو صحابۂ کرام میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ناگہانی موت غضب الٰہی کی گرفت ہے۔ وہ بعض اوقات اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7808
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِفَاجِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی موت مؤمن کے لئے تو باعث ِ راحت ہے اور فاجر کے لئے غضب الٰہی کا سبب ہے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ مؤمن ایسے طرز حیات اختیار کر کے رکھتا ہے کہ وہ ہر وقت موت کے لیے تیار ہوتا ہے، اس لیے اچانک موت اس کے باعث ِ رحمت ٹھہرتی ہے کہ صحت و تندرستی کی حالت میں اعمال خیر میں مصروف تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے پاس بلا لیا، امام غزالی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے موت کی تیاری کررکھی تھی اس کے لئے یہ موت تخفیف کا باعث ہے اور جو تیار نہ تھا اس کے لئے بوجھ ہے۔ (احیاء اعلوم) امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اچانک موت اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے تخفیف ہے۔ (تہذیب)