کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے¤وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7800
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رِجْزٌ أُصِيبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا كَانَ بِهَا وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس طاعون کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عذاب تھا، جو تم سے پہلے لوگوں کو پہنچایا گیا، جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرو اور جب تم کسی زمین میں موجود ہو تو یہ طاعون پڑ جائے تو وہاں سے باہر نہ جاؤ۔
حدیث نمبر: 7801
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ (وَفِي لَفْظٍ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی جانب گئے، جب سرغ مقام تک پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وباء پڑ چکی ہے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے وہاں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون پڑچکا ہے تو اس میں نہ جاؤاور جب تم ایسے علاقے میں موجود ہو، یہاں طاعون پڑ چکا ہو تو پھر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے باہر مت نکلو۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سرغ مقام سے ہی لوٹ گئے، ایک روایت میں ہے: اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔
حدیث نمبر: 7802
عَنْ عِكْرِمَةَ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَقْرَبُوهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ بن خالد مخزومی اپنے باپ سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی زمین میں جب طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے باہر نہ جاؤ اور جب طاعون ایسے علاقے میں پڑ جائے، جس میں تم پہلے سے موجود نہ ہو تو اس علاقے میں نہ گھسو۔
حدیث نمبر: 7803
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضًا عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِفْقَتِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ أَوْ قَالَ إِنَّ بِهَا وَبَاءً شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فروہ بن مسیک مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری ایک زمین ہے،اس کو ابین کہتے ہیں، یہ زرخیز علاقہ ہے اور ہمارا غلہ وغیرہ بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے، لیکن وہ وباء والی ہے اور وہاں سخت وبا پڑتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ وبا کے قریب ہونا ہلاکت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال اگر کسی علاقے میں سکونت اختیار کرنا فضیلت والا عمل نہ ہو، جبکہ اس میں ایسی وبائیں پائی جاتی ہوں، جو واقعی بندے کے جسم پر اثر کرتی ہوں تو اس علاقے کو چھوڑ دینا چاہیے، ایسے علاقے میں رہنے کی وجہ سے آدمی توہم پرستی میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے اور ایسی بیماریوں کو اپنی زمین اور علاقے کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے، نہ کہ اللہ تعالی کی طرف۔