حدیث نمبر: 7781
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، البتہ سب سے بہتر نیک فال ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فال کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سن لے۔
حدیث نمبر: 7782
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا الطِّيَرَةُ قَالَ لَا طَائِرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَقَالَ خَيْرُ الْفَأْلِ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! بدشگونی کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھی بات نیک فال ہے۔
حدیث نمبر: 7783
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْفَأْلَ الْحَسَنَ وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھی فال کو پسند کرتے تھے اور بدشگونی ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7784
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیک فال پکڑتے تھے، بدشگونی نہیں لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھا نام پسند تھا۔
حدیث نمبر: 7785
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا فَأَعْجَبَهُ فَقَالَ قَدْ أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر اچھی آواز سنتے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند آتی تو آواز دینے والے کو کہتے: ہم نے تیرے منہ سے نکلی آواز سے اچھی فال لی ہے۔
حدیث نمبر: 7786
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ وَالْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ الطَّيِّبَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے اور مجھے نیک فال پسند ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک فال سے مراد اچھا کلمہ ہے۔
حدیث نمبر: 7787
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا فَإِنْ كَانَ حَسَنًا رُئِيَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ وَإِنْ كَانَ قَبِيحًا رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ فَإِنْ كَانَ حَسَنَ الِاسْمِ رُئِيَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ وَإِنْ كَانَ قَبِيحًا رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدشگونی نہیں لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بستی میں آنے کا ارادہ فرماتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ کے چہرے پر مسرت نظر آتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے نظر آتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی آدمی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر مسرت دکھائی دیتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت بھی آپ کے چہرے پر نظر آتی۔
وضاحت:
فوائد: … برے شگون سے آدمی طبعی طور پر متاثر تو ہو سکتاہے، لیکن شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عملی طور پر اس سے متاثر نہ ہو اور ارادے کے مطابق اقدام کر دے۔
حدیث نمبر: 7788
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ يَا أُمَّتَاهُ حَدِّثِينِي شَيْئًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطَّيْرُ تَجْرِي بِقَدَرٍ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے اماں جان! مجھے وہ حدیث بتاؤ جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پرندہ تقدیر الٰہی کے مطابق اڑتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی فال لینا پسند تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اچھی فال سے انسان کا حوصلہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اقدام پر مطمئن ہو جاتاہے، حدیث نمبر (۷۷۷۳) کے فوائد میں اچھی فال کی وضاحت کی جا چکی ہے۔