کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
حدیث نمبر: 7774
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا هَامَّةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ إِنْ يَكُنْ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ الو کی نحوست ہے، نہ بیماری متعدی ہے اور نہ بدشگونی ہے، اگر نحوست ہوتی تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7774
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد، أخرجه ابوداود: 3921 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1502»
حدیث نمبر: 7775
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ قَالَ سُفْيَانُ إِنَّمَا نَحْفَظُهُ عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي الشُّؤْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں۔ سفیان کہتے ہیں: بدشگونی کا لفظ ہم نے صرف سالم سے محفوظ کیا ہے، دوسرے راویوں سے نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7775
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2858، ومسلم: 2225، وانظر الحديثين الآتيين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4544»
حدیث نمبر: 7776
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنْ يَكُ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی کسی چیز میں ثابت ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … علامہ البانی رحمتہ اللہ علیہ قمطراز ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ کسی چیز میں نحوست، بے برکتی اور بد شگونی نہیں ہوتی، کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں یہ نحوست ہوتی تو ان تین چیزوں میں ضرور ہوتی، لیکن وہ تو سرے سے کسی چیز میں نہیں پائی جاتی ہے۔ بعض روایات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ تین چیزوں میں نحوست ہے یا بے برکتی تو صرف تین چیزوں میں ہے۔ در اصل یہ بعض راویوں کا اختصار او رتصرف ہے۔ (صحیحہ: ۴۴۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7776
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5094، ومسلم: 2225 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5575»
حدیث نمبر: 7777
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَالشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ بیماری متعدی ہے، نہ کوئی شگون برا ہے، بس بدشگونی تو تین چیزوں میں ہے: عورت، گھر اور جانور۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7777
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5753، ومسلم: 2225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6405»
حدیث نمبر: 7778
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَفِي الْمَسْكَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور رہائشگاہ میں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7778
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري 2859، 5095، ومسلم: 2226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23224»
حدیث نمبر: 7779
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ شَيْءٌ فَفِي الرَّبْعِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی بدشگونی نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ گھر، گھوڑے اور عورت میں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7779
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14628»
حدیث نمبر: 7780
عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَا إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّمَا الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ قَالَ فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ فَقَالَتْ وَالَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ مَا هَكَذَا كَانَ يَقُولُ وَلَكِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَةُ مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [الحديد: 22] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو حسان اعرج بیان کرتے ہیں کہ بنو عامر میں سے دو آدمی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی اگر ہے تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غضب ناک ہوگئیں اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن اتارا ہے! آپ نے اس طرح نہیں فرمایا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ تو یہ تھے: جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ بدشگونی عورت، گھر اور جانور میں ہے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا فِی کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَأَھَا اِنَّ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔} … نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے، نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حضرت مخمربن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ((لَاشُؤْمَ، وَقَدْ یَکُوْنُ الْیُمْنُ فِي ثَلَاثَۃٍ: فِي الْمَرْاَۃِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ۔)) کوئی نحوست نہیں، البتہ تین چیزوں میں خیر و برکت ہوتی ہے، یعنی بیوی، گھوڑے اور گھر میں۔ (ابن ماجہ: ۱/۶۱۴، ترمذی: ۲/ ۱۳۵،صحیحہ:۱۹۳۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7780
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 2/ 479، والبيھقي: 8/ 140 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26616»