حدیث نمبر: 7767
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الطِّيَرَةِ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مَنْ حَدَّثَكَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُحَدِّثَهُ مَنْ حَدَّثَنِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ إِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَهْبِطُوا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بدشگونی کے متعلق پوچھا، لیکن انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور کہا: تجھے کس نے یہ بات بتائی ہے؟ میں نے یہ بتانا پسند نہ کیا کہ مجھے کس نے بتائی تھی،پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ بدشگونی اور نہ الوکی نحوست ہے، اگر کسی چیز میں بدشگونی ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی، جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون ہے تو تم وہاں مت جاؤ اور جب تم ایسی زمین میں موجود ہو، جس میں طاعون آ گیا ہو تو پھر وہاں سے باہر نہ جاؤ۔
حدیث نمبر: 7768
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ قَالَ أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا، اس نے شرک کیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہنا اس کا کفارہ ہے: اے اللہ! نہیں ہے کوئی بھلائی ما سوائے تیری بھلائی کے اور نہیں ہے کوئی شگون، ما سوائے تیرے شگون کے۔
حدیث نمبر: 7769
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْعَدْوَى شَيْئًا قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كُلُّ عَبْدٍ طَائِرُهُ فِي عُنُقِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدشگونی اور بیماری کے متعدی ہونے کے بارے میں کچھ فرمایا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ہر آدمی کا شگون اس کی گردن میں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا ایک سیاق یہ ہے:
حدیث نمبر: 7770
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ فَلَا يَصُدَّنَّكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان چیزوں کے متعلق بتائیں جو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تم دل میں محسوس کرو گے، لیکن یہ تمہارے لئے رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ میں نے کہا: ایک چیز یہ بھی تھی کہ ہم کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو۔
حدیث نمبر: 7771
عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام کرزکعبیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں ہی ٹھہرنے دیا کرو۔
حدیث نمبر: 7772
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو یہ وہم لاحق ہوسکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو توکل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 7773
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَبَرِحَ ظَبْيٌ فَمَالَ فِي شِقِّهِ فَاحْتَضَنْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَطَيَّرْتَ قَالَ إِنَّمَا الطِّيَرَةُ مَا أَمْضَاكَ أَوْ رَدَّكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دن باہر نکلا تو اچانک ایک ہرن نمودار ہوا اور وہ بائیں جانب مائل ہوا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چمٹ کرکہنے لگا: اے اللہ کے رسول!آپ نے براشگون لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی وہ ہے، جو کام کرنے پر آمادہ کرے یا واپس لوٹا دے۔
وضاحت:
فوائد: … جب کوئی چیز بائیں سے دائیں طرف کو جاتی تو عرب اس سے نیک شگون لیتے تھے، لیکن اگر کوئی چیز دائیں سے بائیں سمت کو چلی جاتی تو وہ اس سے برا شگون لیتے تھے۔