کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت¤بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
حدیث نمبر: 7754
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ قَالَ أَعْرَابِيٌّ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ كَانَ أَعْدَى الْأَوَّلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ بیماری متعدی ہے ،نہ بد شگونی ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ ہی الو (کی کوئی حقیقت ہے)۔ ایک بدو نے کہا: تو پھر اونٹ جب ریت میں ہرن کی طرح چل رہے ہوتے ہیں (یعنی صحت مند ہوتے ہیں)، لیکن جب خارشی اونٹ اس سے خلط ملط ہوتا ہے تو انہیں بھی خارش لگ جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اچھا یہ بتلاؤ کہ) پہلے اونٹ کو خارش کس نے لگائی؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7754
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5770، 5773، ومسلم: 2220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7609»
حدیث نمبر: 7755
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا ثَلَاثًا فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ النُّقْبَةُ مِنَ الْجَرَبِ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ أَوْ بِذَنَبِهِ فِي الْإِبِلِ الْعَظِيمَةِ فَتَجْرَبُ كُلُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَجْرَبَ الْأَوَّلَ لَا عَدْوَى وَلَا هَامَّةَ وَلَا صَفَرَ خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ فَكَتَبَ حَيَاتَهَا وَمُصِيبَاتِهَا وَرِزْقَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: کوئی بیماری دوسرے تک متعدی نہیں ہوتی۔ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ کے ہونٹ یا دم پر خارش کا پہلا سوراخ نمودار ہوتا ہے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے کا پورا بڑا اونٹ خارش زدہ ہو جاتا ہے (اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیماری متعدی ہے)؟ یہ سن کر آپ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: سب سے پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگائی تھی، نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ کوئی صفر کی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی، موت اور مصیبت اور رزق کو لکھ دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7755
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 6112، وابن حبان: 6119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8325»
حدیث نمبر: 7756
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی چیز کسی کے لئے متعدی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7756
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2143 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4198»
حدیث نمبر: 7757
حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ لَا صَفَرَ فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ الصَّفَرُ الْبَطْنُ قِيلَ لِجَابِرٍ كَيْفَ هَذَا الْقَوْلُ فَقَالَ دَوَابُّ الْبَطْنِ قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ قِبَلِهِ هَذَا الْغُولُ الشَّيْطَانَةُ الَّتِي يَقُولُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ کوئی صفر ہے اور نہ غول۔ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ صفر سے مراد پیٹ ہے، جب ان سے کہا گیا کہ اس قول سے کیا مراد ہے، تو انھوں نے کہا: پیٹ کے کیڑے ہیں، پھر انھوں نے غول کی تعریف نہیں کی، البتہ ابو زبیر نے اپنی طرف سے کہا کہ غول سے مراد وہ چیز ہے، جس کو لوگ چڑیل یا جن کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7757
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15169»
حدیث نمبر: 7758
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غُولَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ کوئی بدشگونی ہے اور نہ غول۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7758
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مسلم: 2222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14401»
حدیث نمبر: 7759
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَذَكَرَ سِمَاكٌ أَنَّ الصَّفَرَ دَابَّةٌ تَكُونُ فِي بَطْنِ الْإِنْسَانِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكُونُ فِي الْإِبِلِ الْجَرِبَةُ فِي الْمِائَةِ فَتُجْرِبُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ بدشگونی ہے، نہ صفر ہے اور نہ الو کی کوئی حقیقت ہے۔ سماک بیان کرتے ہیں کہ صفر سے مراد ایک کیڑا ہے جو انسانی پیٹ میں پیدا ہوتا ہے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سو اونٹوں میں اگر ایک اونٹ کو خارش لگتی ہے، پھر اس کی وجہ سے سب خارش زدہ ہو جاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا پہلے یہ بتاؤ کہ پہلے کو بیماری کس نے لگائی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات بڑی معقول ہے کہ اگر بیماری کی بنیاد اس کے متعدی ہونے پر ہے تو پہلے جاندار کو بیماری کہاں سے لگ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7759
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2425»
حدیث نمبر: 7760
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ قَالَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ بدشگونی ہے، نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ صفر کی کوئی حقیقت ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم ایک خارش زدہ بکری کو دوسری بکریوں میں ڈال دیتے ہیں تو وہ دوسری بھی خارش زدہ ہوجاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ پہلی بکری کو بیماری کہاں سے متعدی ہو کر لگی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7760
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 2333، وابن حبان: 6117، والطبراني: 11764، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3032»
حدیث نمبر: 7761
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أُخْتِ نَمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا نمر رضی اللہ عنہ کے بھانجے سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ صفر ہے اور نہ الو کی نحوست ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، جبکہ درج ذیل باب کی احادیث سے یہ ثابت ہے کہ بیماری متعدی ہو سکتی ہے، جمع و تطبیق کی صورتیں آنے والے باب کے آخر میں پیش کی جائیں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7761
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15818»