حدیث نمبر: 7750
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ نظر لگ جانے سے دم کیا کروں۔
حدیث نمبر: 7751
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ يَبْكِي فَقَالَ مَا لِصَبِيِّكُمْ هَذَا يَبْكِي فَهَلَّا اسْتَرْقَيْتُمْ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوئے اور ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس بچے کو کیا ہو گیا ہے، یہ کیوں رو رہا ہے، تم اسے نظر کا دم کیوں نہیں کرواتے۔
حدیث نمبر: 7752
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَ كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَيْنِ فَأَصْنَعُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ وَأَقُولُ امْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نظر کا دم کیا کرتی تھی، میں اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ مبارک پر رکھتی اور یہ دعا پڑھتی: اِمْسَحِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ! بِیَدِکَ الشِّفَاءُ لَا کَاشِفَ لَہٗ اِلَّا اَنْتَ۔ (اے لوگوں کے رب! یہ تکلیف دور کردے، شفاء تیرے ہاتھ ہی میں ہے، تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں۔)
حدیث نمبر: 7753
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ قَالَ نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بیٹے نظر زدہ ہوجاتے ہیں، کیا میں انہیں دم کرلیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز تقدیر پر غالب آ سکتی ہوتی تو وہ نظر ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ نظر واقعی اثر کر سکتی ہے۔