کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
حدیث نمبر: 7747
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَسَارُوا مَعَهُ نَحْوَ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِشِعْبِ الْخَزَّارِ مِنَ الْجُحْفَةِ اغْتَسَلَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِسْمِ وَالْجِلْدِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلٍ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَمَا يُفِيقُ قَالَ هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ ثُمَّ قَالَ لَهُ اغْتَسِلْ لَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ ذَلِكَ الْمَاءُ عَلَيْهِ يَصُبُّهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِهِ وَظَهْرِهِ مِنْ خَلْفِهِ يُكْفِئُ الْقَدَحَ وَرَاءَهُ فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی جانب لوٹنے کے لئے چلے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جحفہ کے قریب خرار گھاٹی میں پہنچے تو سہل بن حنیف نے غسل کیا ، یہ سفید رنگ اور حسین جسم والے تھے، جلد بھی بہت اچھی تھی، بنوعدی بن کعب قبیلہ والے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں غسل کرتے ہوئے دیکھ کر کہا: میں نے اس جیسا خوبصورت بدن نہیں دیکھا، ایسا بدن تو کسی پردہ نشیں دوشیزہ کا بھی نہیں ہوتا، سہل تو وہیں بے ہوش ہوکر گر پڑے، انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! سہل کا کچھ سوچیں، اللہ کی قسم! یہ نہ تو سر اوپر اٹھاتے ہیں نہ ہوش میں آرہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کو کسی کے نظر لگانے کی تہمت لگاتے ہو؟ انہوں نے کہا: انہیں سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر سخت نالاں ہوئے، اور فرمایا: تم اپنے بھائی کو قتل کرنے سے گریز کیوں نہیں کرتے، جب تم نے انہیں دیکھا تھا اور یہ تمہیں پسند آئے تھے تو تم نے برکت کی دعا کیوں نہ کی تھی؟ پھر آپ نے سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کو غسل کرنے کا حکم دیا، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے اور پاؤں کی انگلیاں اور تہبند کے اندر والا بدن کا حصہ دھو کر ایک پیالہ میں پانی دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس پانی کو سہل کے سر اور پشت پر ڈال دے اور پھر پچھلی جانب سے پیالہ انڈیل دے، اس نے ایسا ہی کیا، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ ایسے چل رہے تھے کہ گویا کہ انہیں کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں نظر زدہ کا علاج بیان ہوا ہے کہ جس کی نظر لگی ہو، اس کو استنجاء اور وضو کروایا جائے، وہ پانی برتن میں ڈال کر جسے نظر لگی ہے، اس کے وجود کے آگے اور پیچھے والے حصے پر انڈیلا جائے تو پھر غسل کروادیا جائے ساری نظر زدگی ختم ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7747
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16076»
حدیث نمبر: 7748
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرِيدَانِ الْغُسْلَ قَالَ فَانْطَلَقَا يَلْتَمِسَانِ الْخَمَرَ قَالَ فَوَضَعَ عَامِرٌ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ مِنْ صُوفٍ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي فَنَزَلَ الْمَاءَ يَغْتَسِلُ قَالَ فَسَمِعْتُ لَهُ فِي الْمَاءِ قَرْقَعَةً فَأَتَيْتُهُ فَنَادَيْتُهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجِبْنِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَجَاءَ يَمْشِي فَخَاضَ الْمَاءَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا قَالَ فَقَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ أَوْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيُبَرِّكْهُ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عامر بن ربیعہ اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما دونوں غسل کرنا چاہتے تھے، پس وہ دونوں کسی اوٹ کی تلاش میں نکلے، سیدنا سہل نے اپنا اونی جبہ اتارا، سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں دیکھا تو انہیں میری نظر لگ گئی، وہ پانی میں غسل کے لئے اترے تو میں نے پانی میں ان کے پھڑ پھڑانے کی آواز سنی، میں ان کے پاس آیا اور تین آوازیں دیں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل کر تشریف لائے اور پانی میں داخل ہوگئے گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: اَللّٰھُمَّ أَذْہِبْ عَنْہُ حَرَّہَا وَبَرْدَہَا وَوَصَبَہَا۔ (اے اللہ! اس سے اس کی حرارت، ٹھنڈک اور تھکاوٹ سب دور کردے۔) اس کے بعد سہل کھڑے ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی یا خود اپنی جان اور مال میں سے کچھ اچھا لگے تو اس کے لئے برکت کی دعا کرے، نظر کا لگ جانا ایک حقیقت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7748
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قوله العين حق صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، مع وھم فيه، امية بن ھند بن سھل مجھول الحال، أخرجه ابن ماجة: 3506 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15790»
حدیث نمبر: 7749
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا أَفْهَمُهُ وَلَا يُخْبِرُنَا بِهِ قَالَ أَفَطِنْتُمْ لِي قُلْنَا نَعَمْ قَالَ إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ أَوْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلَامِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوْ الْجُوعَ أَوْ الْمَوْتَ فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ فَكُلُّ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَيْ رَبِّ أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا أَوْ الْجُوعُ فَلَا وَلَكِنِ الْمَوْتُ فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتُ فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تو چپکے چپکے کچھ کلمات کہتے، نہ میں سمجھ سکا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم سمجھ گئے ہو کہ میں کچھ کلمات کہتا ہوں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسے نبی کی یاد آئی جسے اپنی قوم میں سے کئی لشکر دیے گئے، اس نے اپنی امت پر اتراتے ہوئے کہا: کون ہے جو ان کے ہم پلہ ہو گا؟ یا کون ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے گا؟ یا اس قسم کی بات کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے اِن تین امور میں سے ایک کو اختیار کر: ہم تیری امت پر ان کا دشمن مسلط کر دیں یا بھوک یا موت۔ اس نے اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا: تو اللہ کا نبی ہے، معاملہ تیرے سپر دہے، تو خود اختیار کر لے۔ اس نے نماز شروع کر دی، جب وہ گھبرا جاتے تو نماز کا سہارا لیتے تھے، اس نے نماز پڑھی جتنی کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھی، پھر کہا: اے میرے ربّ: ان پر ان کے دشمن کو بھی مسلط نہیں کرنا اور بھوک کو بھی، چلو موت ہی سہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کر دی، ایک دن میں ان میں سے ستر ہزار افراد مر گئے۔ یہ تھا میرا گنگنانا، جیسا کہ تم دیکھ رہے تھے، میں نے کہا: اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔(اے اللہ! میں تو تیری توفیق سے لڑتا ہوں اور تیری توفیق سے ہی حملہ کرتا ہوں نقصان سے بچنے اور اچھے کام کرنے کی طاقت صرف تیرے ساتھ ہے)
وضاحت:
فوائد: … انسان کبھی بھی اپنی اعلی سے اعلی صلاحیتوں کو اپنے کمال کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ہے، قارون ایک باغی اور نافرمان انسان تھا، لیکن اللہ تعالی نے اسے بے حد و حساب مال و دولت عطا کیا تھا، جب اس نے یہ دعوی کیا کہ {اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ} کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہ میری اپنی فہم و بصیرت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے، تو اللہ تعالی کو اس کا یہ دعوی اتنا ناگوار گزرا کہ اس نے اس کو اور اس کے خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا۔ لہٰذا اگر کسی خاندان یا کسی فرد کو اس کی تعلیمی صلاحیتوں یا سماجی لیاقتوں وغیرہ کے ذریعے عزت ملی ہے تو وہ اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرے اور اس کے سامنے عام انسان کی بہ نسبت زیادہ عاجزی و انکساری کا اظہار کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7749
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 319، والبزار: 2089، والنسائي في الكبري : 10450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19145»