کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نظر اور اس کے سچ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7743
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ الْعَيْنُ حَقٌّ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگ جانا سچ ہے، نظر کا لگ جانا سچ ہے یہ پہاڑ کو بھی ہلادیتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7743
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 12833، والحاكم: 4/ 215 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2681»
حدیث نمبر: 7744
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگ جانا سچ ہے۔ اور آپ نے گود نے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7744
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2187 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8228»
حدیث نمبر: 7745
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ وَيَحْضُرُ بِهَا الشَّيْطَانُ وَحَسَدُ ابْنِ آدَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگ جانا حق ہے، اس کے ساتھ شیطان حاضر ہوتا ہے اور آدم کے بیٹے کا حسد بھی شامل ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7745
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده منقطع، مكحول لم يسمع من ابي ھريرة، وقوله العين حق صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9666»
حدیث نمبر: 7746
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ بِالرَّجُلِ بِإِذْنِ اللَّهِ حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے حکم سے نظر آدمی کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے، حتیٰ کہ آدمی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتا ہے، پھر اس سے گر جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نظر بد یا بد نظری برحق ہے، بسا اوقات اس کا ضرر بڑا قوی ہوتا ہے۔ بعض طبیعتوں میں ایسے خواص ہوتے ہیں کہ طبیب لوگ ان کی علتوں کو نہیں پہچان سکتے، بلکہ اس معاملے میں کوئی قیاس بھی ان کے لیے معاون ثابت نہیں ہوتا، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عصر حاضر میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ ان کا ہر قسم کا طبی ٹیسٹ اس حقیقت پر دلالت کرتاہے کہ ان میں کوئی بیماری نہیں ہے، ماہر نفسیات کا بھی ان پر کوئی بس نہیں چلتا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو موذی بیماریوں میں مبتلا پاتے ہیں، ایسے لوگ جادو یا نظر بد میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7746
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسنده ضعيف لجھالة محجن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21803»