کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
حدیث نمبر: 7736
حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ قُلْتُ أَنَا ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ قَالَ وَكَيْفَ فَعَلْتَ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ قَالَ وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَقَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقُلْتُ هَذِهِ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ثُمَّ قِيلَ انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ فَقَالَ هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ (وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا يَعْتَافُونَ بَدَلَ يَكْتَوُونَ) وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں سیدنا سعید بن جبیر کے پاس تھا، انہوں نے کہا: تم میں سے کس نے وہ ستارا دیکھا ہے، جو کل ٹوٹا تھا، میں نے کہا: جی میں نے دیکھا تھا، پھر میں نے کہا: یہ میں نے اس لئے نہیں دیکھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، یہ اس وجہ سے کہ مجھے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا تھا (اور میں جاگ رہا تھا)، سیدنا سعید نے کہا: پھر تم نے کیا کیا تھا، میں نے کہا: میں نے دم کیا تھا، انھوں نے کہا: ایسے کیوں کیا تھا؟ میں نے کہا: ایک حدیث کی وجہ سے جو ہم سے شعبی نے بیان کی ہے، انہوں نے سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنی کہ دم نہیں ہے، مگر نظر بد سے یا زہریلی چیز کے ڈسنے سے۔ سعید بن حبیر نے کہا: وہ شخص بہت اچھا کرتا ہے جو اسی پر اکتفا کرتا ہے جو اس نے سنا ہے اس میں اضافہ نہیں کرتا۔پھر انھوں نے کہا: ہم سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے امتیں پیش کی گئی ہیں، میں نے دیکھا ایک نبی ہے اور اس کے ساتھ ایک گروہ ہے، ایک نبی ہے اس کے ساتھ ایک دو آدمی ہیں، ایک نبی ہے اور اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑی جماعت پیش کی گئی، میں نے سمجھا کہ یہ میری امت ہو گی، لیکن اتنے میں مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہیں، اب آپ ذرا کناروں کی جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت تھی، پھر مجھ سے کہا گیا دوسری جانب دیکھیں، اُدھر بھی بہت بڑی جماعت تھی، پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے افراد ہیں جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ لوگوں نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابیت کا شرف پایا ہے، بعض نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا اور بھی کئی اقوال بیان کیے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: یہ کیا ہے جس میں تم مگن ہو؟ انہوں نے اپنی تفصیل بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ خوش نصیب ہیں جو نہ تو داغ لگواتے ہیں، نہ ہی دم کرواتے ہیں،نہ بدشگونی لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں سے ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں شامل ہے۔ ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے بازی لے گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دم سے متعلقہ حدیث سے معلوم ہوا کہ نظر بد اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے دم کروانا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7736
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6541، ومسلم: 220 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2448»
حدیث نمبر: 7737
عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَةٍ فَانْتَهَى إِلَى الْبَابِ تَنَحْنَحَ وَبَزَقَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَهْجُمَ مِنَّا عَلَى شَيْءٍ يَكْرَهُهُ قَالَتْ وَإِنَّهُ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَتَنَحْنَحَ قَالَتْ وَعِنْدِي عَجُوزٌ تَرْقِينِي مِنَ الْحُمْرَةِ فَأَدْخَلْتُهَا تَحْتَ السَّرِيرِ فَدَخَلَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَرَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا قَالَ مَا هَذَا الْخَيْطُ قَالَتْ قُلْتُ خَيْطٌ أُرْقِيَ لِي فِيهِ قَالَتْ فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ آلَ عَبْدِ اللَّهِ لَأَغْنِيَاءُ عَنِ الشِّرْكِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ لِمَ تَقُولُ هَذَا وَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِيهَا وَكَانَ إِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ قَالَ إِنَّمَا ذَلِكَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَيْتِهَا كَفَّ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ زنیب رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب باہر کا کام ختم کرکے گھر آتے تو دروازے تک پہنچ کر کھنکارتے، تاکہ گھر والے کسی ناپسندیدہ حالت پر نہ ہوں،ایک دن وہ آئے تو کھنکارا، میرے پاس ایک بڑھیا تھی، جو مجھے ورم کا دم کررہی تھی، میں نے اسے چار پائی کے نیچے بٹھا دیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور میرے ایک پہلو میں بیٹھ گئے، جب انھوں میری گردن میں ایک دھاگا دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ دھاگا ہے، میرے لئے دم کیا گیا ہے، وہ باندھا ہوا ہے،ا نھوں نے اسے پکڑا اور کاٹ ڈالا اور کہا: عبداللہ کی آل اس شرک سے بے پرواہ ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جھاڑ پھونک، تعویذات اور محبت کے اعمال سب شرک ہیں۔ میں نے کہا: آپ ایسا نہ کہیں، میری آنکھ پھڑکتی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس گئی، جو دم کرتا تھا، جب وہ دم کرتا تھا تو آنکھ پر سکون طاری ہو جاتا تھا، انھوں نے کہا: یہ شیطانی عمل تھا، وہ شیطان اپنے ہاتھ کے ساتھ مارتا تھا تو آنکھ پھڑکنے لگ جاتی تھی، جب تو دم کرواتی تو وہ شیطان ہاتھ روک لیتا تھا، تجھے وہ دعا کافی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (تکلیف دور کردے اے لوگوں کے رب! شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں ہے کوئی شفاء، مگر تیری شفاء،ایسی شفاء دے جو بیماری باقی نہ چھوڑے۔)
وضاحت:
فوائد: شارح ابوداود علامہ عظیم آبادیl نے کہا: خطابی کہتے ہیں کہ وہ دم منع ہے، جو غیر عربی زبان میں ہو اور اس چیز کا علم نہ ہو کہ وہ کیا ہے۔ رہا مسئلہ اس دم کا کہ جس کی عبارت کا مفہوم سمجھا جا سکے اور وہ اللہ تعالی کے ذکر پر مشتمل ہو تو وہ مستحب ہو گا اور اس سے برکت حاصل کی جائے گی۔ تمیمہ کی جمع تمائم ہے، ان سے مراد وہ تعویذ ہیں، جو بچوں پر لٹکائے جاتے ہیں اور ان میں اللہ تعالی کے نام ہوتے ہیں نہ کہ اس کی آیات اور نہ منقول دعائیں۔ نہایہ میں کہا: تمائم سے مراد وہ منکے، دانے اور نگینے ہیں، جو عرب لوگ اپنے بچوں پر لٹکاتے تھے، تاکہ وہ نظرِ بد سے بچ سکیں، لیکن اسلام نے ان کے اس خیال کو باطل قرار دیا۔ تِوَلہ کی وضاحت کرتے ہوئے خطابی کہتے ہیں: یہ جادو کی ایک قسم ہے۔ اصمعی نے کہا: اس سے مراد وہ عمل ہے جو عورت کو اس کے خاوند کا محبوب بنا دیتا ہے۔ جبکہ ملا علی قاری نے کہا: یہ جادو کی ایک قسم ہے یا دھاگہ ہے، جس پر جادو والی عبارتیں پڑھی جاتی ہے یا ورق ہے، جس میں جادو کی عبارتیں لکھی جاتی ہیں، مقصد محبت وغیرہ کا حصول ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7737
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه بطوله ابوداود: 3883، وابن ماجه: 3530 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3615»
حدیث نمبر: 7738
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ عَلَى عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً أُرَاهُ قَالَ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ وَيْحَكَ مَا هَذِهِ قَالَ مِنَ الْوَاهِنَةِ قَالَ أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا انْبِذْهَا عَنْكَ فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے بازو پر پیتل کا کڑا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ واہنہ کی وجہ سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیری اس بیماری میں اور اضافہ کرے گا، پھینک دے اس کو، اگر تو اس حال میں مرا کہ یہ تجھ پر ہوگا تو تو کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث درج سیاق کے ساتھ صحیح ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7738
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران، والذي في ھذا الحديث من تصريح الحسن بسماعه من عمران خطأ من مبارك، أخرجه ابن ماجه: 3031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20242»
حدیث نمبر: 7739
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تمیمہ لٹکائے ، اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری نہ کرے اور جو سفید منکے لٹکاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو سکون نہ دے۔
وضاحت:
فوائد: … تمیمہ کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7739
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابويعلي: 1759، وابن حبان: 6086، والطبراني في الكبير : 17/ 820، وابن حبان: 6086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17539»
حدیث نمبر: 7740
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا قَالَ إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا فَبَايَعَهُ وَقَالَ مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گروہ آیا، آپ نے ان میں سے نو آدمیوں سے بیعت لے لی اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نوآدمیوں سے بیعت لے لی ہے اور اس ایک کو چھوڑ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تمیمہ لٹکایا ہوا ہے۔ پس اس بندے نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس تعویذ کو کاٹ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بیعت ے لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھی تمیمہ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7740
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 885، والحاكم: 4/ 219 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17558»
حدیث نمبر: 7741
عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَرِيضٌ نَعُودُهُ فَقِيلَ لَهُ لَوْ تَعَلَّقْتَ شَيْئًا فَقَالَ أَتَعَلَّقُ شَيْئًا وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِّلَ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عیسیٰ بن عبدالرحمن کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، وہ بیمار تھے، ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے اور ان سے کہا: اگر تم شفاء حاصل کرنے کے لئے گلے میں کوئی تعویذ لٹکا لو، انھوں نے کہا: میں کچھ لٹکا لوں، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کچھ لٹکایا وہ اسی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7741
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18988»
حدیث نمبر: 7742
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّشْرَةِ فَقَالَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نشرہ کے متعلق سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطانی عمل ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نشرہ۔ یہ ایک طریقہ علاج تھا یا دم تھا، جس کے ذریعے اس آدمی کا علاج کیا جاتا تھا، جس کو جن لگ جاتے تھے، اس سے وہ صحت یاب ہوجاتا تھا، یہ جادو کے ذریعہ بھی کیا جاتا تھا یا غیر واضح پوشیدہ سا کلام ہوتا تھا، اس لئے اسے آپ نے شیطانی منتر قرار دیا ہے، اگر اس بیماری کا علاج کتاب و سنت کے وظائف سے کیا جائے تو جائز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7742
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3868 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14181»