حدیث نمبر: 7732
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ لِي أَخًا وَبِهِ وَجَعٌ قَالَ وَمَا وَجَعُهُ قَالَ بِهِ لَمَمٌ قَالَ فَأْتِنِي بِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَعَوَّذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَآيَةٍ مِنَ الْأَعْرَافِ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَآخِرِ سُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْجِنِّ وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ فَقَامَ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَشْتَكِ قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرے ایک بھائی کو تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: اس کو جنونی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سامنے بٹھا لیا اور سورۂ فاتحہ، سورۂ بقرہ کی پہلی چار آیات، {وَإِلَہُکُمْ إِلٰہٌ وَاحِدٌ}والی دو آیتیں، آیۃ الکرسی، سورۂ بقرہ کی آخری تین آیتیں، سورۂ آل عمران کی آیت {شَہِدَ اللّٰہُ أَنَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ}، سورۂ اعراف کی آیت {إِنَّ رَبَّکُمْ اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ}، سورۂ مومنون کا آخر {فَتَعَالَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ}، سورۂ جن کی آیت{وَأَنَّہُ تَعَالٰی جَدُّ رَبِّنَا}، سورۂ صافات کی ابتدائی دس آیات، سورۂ حشر کی آخری تین آیات، سورۂ اخلاص اور سورۂ فلق اور سورۂ ناس کے ساتھ دم کیا۔ اور اس دم کے بعد وہ آدمی اس طرح کھڑا ہوا، جیسے اسے تکلیف ہی نہیں تھی۔
حدیث نمبر: 7733
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ (وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّا قَدْ حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ) فَهَلْ عِنْدَكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رُقْيَةٌ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُودِ قَالَ فَقُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَجَاءُوا بِالْمَعْتُوهِ فِي الْقُيُودِ قَالَ فَقَرَأْتُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً (زَادَ فِي رِوَايَةٍ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ) أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ قَالَ فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ قَالَ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا (وَفِي رِوَايَةٍ فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ) فَقُلْتُ لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُلْ (وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ خُذْهُ) لَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ خارجہ بن صلت اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے، انہوں نے ہم سے کہا: ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم اس آدمی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے خیر لے کر لوٹے ہو، تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا دم ہے، ہمارے ہاں ایک مریض ہے، اس کو جنون کی بیماری لاحق ہو گئی ہے اوراس کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، خارجہ کے چچا کہتے ہیں: میں اسے تین دن روزانہ صبح و شام دو دو مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر اپنا لعاب منہ میں جمع کرتا، پھر اس پر پھوہار مار کر دم کرتا رہا، وہ ایسے شفایاب ہوا ، جیسے اس کو رسیوں سے کھول دیا گیا ہو، انہوں نے مجھے انعام کے طور پر سو بکریاں دیں، میں نے کہا: میں یہ وصول نہیں کروں گا، جب تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میری عمر کی قسم! یہ اس کے لئے حرام ہیں، جو باطل دم کے ذریعہ وصول کرے، تم نے توحق دم کے ذریعہ وصول کی ہیں، لے لو۔
وضاحت:
فوائد: … عمر کی قسم اٹھانا، یہ دراصل بات میں تاکید پیدا کرنے کے لیے عربوں کی عادت تھی، اس سے عمر کی وہ تعظیم مراد نہیں ہے، جو اللہ تعالی کی قسم اٹھاتے وقت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 7734
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ) فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ فَقَالُوا إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَضَحِكَ وَقَالَ مَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ لوگ عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے اور ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا، اس قبیلہ والوں نے مہمانی سے انکار کردیا، اسی دوران ان کے سردار کو کسی زہریلی چیزنے ڈس لیا، انہوں نے ان صحابہ کرام سے کہا: کیا تم میں سے کوئی دم کرسکتا ہے یا اس کا علاج کرسکتا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے ہماری مہمانی کرنے سے انکار کردیا ہے، اس لیے ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے، جب تک تم اس کی مزدوری نہ دو گے،پس انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ دینا مقرر کر دیا، دم کرنے والے نے سورۂ فاتحہ پڑھنی شروع کی اور تھوک منہ میں جمع کی اور تھوک کی پھوہار سے دم کیا، وہ آدمی صحت یاب ہوگیا، وہ بکریاں لائے، انہوں نے کہا: یہ بکریاں ہم نہیں لیں گے، یہاں تک کہ ہم ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کرلیں، پس جب انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور دم کرنے والے سے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس سورت سے دم کیا جاتا ہے، یہ بکریاں لے لو اور بیچ میں میرا حصہ بھی مقرر کردو۔
حدیث نمبر: 7735
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَكُنْتُ فِيهِمْ فَأَتَيْنَا عَلَى قَرْيَةٍ فَاسْتَطْعَمْنَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا شَيْئًا فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ فِيكُمْ رَجُلٌ يَرْقِي فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ مَلِكُ الْقَرْيَةِ يَمُوتُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَرَدَّدْتُهَا عَلَيْهِ مِرَارًا فَعُوفِيَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِطَعَامٍ وَبِغَنَمٍ تُسَاقُ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسُقْنَا الْغَنَمَ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْنَاهُ فَقَالَ كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا، سیدنا ابو سعید کہتے ہیں: میں بھی ان میں شامل تھا، ہم ایک بستی میں آئے، ہم نے وہاں کے رہنے والوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے ہمیں کھانا کھلانے سے انکار کردیا، ہمارے پاس بستی والوں میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے گروہ عربٖ! تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جو دم کرلیتا ہو؟ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیسا دم کرنا ہے؟ اس نے کہا: اس بستی کا رئیس موت کی کشمکش میں ہے، پس ہم اس کے ساتھ گئے، میں نے اسے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، میں نے کئی مرتبہ اسے دہرا کر پڑھا، پس اس کو عافیت ہو گئی، اس نے ہمارے لئے کھانا اور بکریاں بھیجیں، جو ہانک کر ہمارے پاس لائی گئیں، میرے ساتھیوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا، ہم اس میں سے کچھ نہیں لیں گے، یہاں تک کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوں، ہم نے بکریاں ہانکیں، حتی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے، جب ہم نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھالو اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلاؤ، تمہیں کس طرح معلوم تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: بس میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ دم کرنے کا ذکر ہے، دیگر احادیث میں دوسری آیات اور احادیث کا ذکر موجود ہے، جیسے سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس وغیرہ، قرآن مجید سارے کا سارا اللہ تعالی کا کلام ہے اور انتہائی بابرکت ہے، البتہ بعض آیات اللہ تعالی کی زیادہ صفات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے زیادہ اثر کر سکتی ہے۔