حدیث نمبر: 7715
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعُودُهُ وَبِهِ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِشِدَّةٍ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعَشِيِّ وَقَدْ بَرِئَ أَحْسَنَ بُرْءٍ فَقُلْتُ لَهُ دَخَلْتُ عَلَيْكَ غُدْوَةً وَبِكَ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ بِشِدَّةٍ وَدَخَلْتُ عَلَيْكَ الْعَشِيَّةَ وَقَدْ بَرِئْتَ فَقَالَ يَا ابْنَ الصَّامِتِ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَقَانِي بِرُقْيَةٍ بَرِئْتُ أَلَا أُعَلِّمُكَهَا قُلْتُ بَلَى قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ حَسَدِ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ بِسْمِ اللَّهِ يَشْفِيكَ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَكُلِّ عَيْنٍ وَاسْمِ اللَّهِ يَشْفِيكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کے لئے حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی سخت تکلیف تھی کہ اس کی شدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جب میں پچھلے پہر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضر ہوا تو آپ اچھی طرح تندرست ہوچکے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی: میں صبح کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اس وقت تو آپ کو اتنی شدید تکلیف تھی کہ بس اللہ ہی جانتا تھا کہ وہ تکلیف کیسی تھی، اب میں آپ کے پاس پچھلے پہر حاضر ہوا ہوں تو آپ صحت یاب ہوچکے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے صامت کے بیٹے! جبریل علیہ السلام نے مجھے دم کیا ہے، یہ ایسا دم تھا کہ میں صحت یاب ہوگیا ہوں، کیا میں تجھے وہ دم سکھا دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دم کی تعلیم دی: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیکَ، مِنْ حَسَدِ کُلِّ حَاسِدٍ وَعَیْنٍ، بِسْمِ اللّٰہِ یَشْفِیکَ (اللہ کے نام کے ساتھ تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو تجھے ایذا پہنچائے اور ہرحسد والے کے حسد سے اور ہر آنکھ سے، اس اللہ کے نام کے ساتھ جو تجھے شفاء دیتا ہے۔ )ایک روایت میں ہے: ہر حاسد کے حسدسے اور ہر نظر بد سے اللہ کے نام کے ساتھ دم کرتا ہوں جو تجھے شفاء دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 7716
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَمِنْ كُلِّ ذِي عَيْنٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوتے تو سیدنا جبریل علیہ السلام آپ کو یہ پڑھ کر دم کرتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ، مِنْ کُلِّ دَاءٍ یَشْفِیْکَ، مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ، وَمِنْ کُلِّ ذِیْ عَیْنٍ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، وہ تجھے ہر بیماری سے شفا دے، حسد کرنے والے کے شرّ سے، جب وہ حسد کرے اور ہر بری نظر والے سے۔)
حدیث نمبر: 7717
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُقْيَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَرْقِيَ بِهَا مَنْ بَدَا لِي قَالَ قُلْ رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاوَاتِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اللَّهُمَّ كَمَا أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ عَلَيْنَا فِي الْأَرْضِ اللَّهُمَّ رَبَّ الطَّيِّبِينَ اغْفِرْ لَنَا حَوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَايَانَا وَنَزِّلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَكْوَى فَيَبْرَأُ قَالَ وَقُلْ ذَلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ تَعَوَّذْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دم سکھایا اور مجھے حکم دیا کہ میں جسے چاہوں یہ دم کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو رَبَّنَا اللّٰہُ الَّذِی فِی السَّمٰوَاتِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ أَمْرُکَ فِی السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ اللّٰھُمَّ کَمَا أَمْرُکَ فِی السَّمَاء ِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ عَلَیْنَا فِی الْأَرْضِ اللّٰھُمَّ رَبَّ الطَّیِّبِینَ اغْفِرْ لَنَا حُوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَایَانَا وَنَزِّلْ رَحْمَۃً مِنْ رَحْمَتِکَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِکَ عَلٰی مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَکْوٰی (اے ہمارے وہ رب جو آسمانوں میں ہے، تیرا نام مقدس ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین پر جاری ہے، اے اللہ! جس طرح تیرا حکم آسمان میں ہے، اسی طرح زمین پر ہمارے اوپر اپنی رحمت کردے، اے اللہ! پاکبازوں کے رب! ہمارے گناہ معاف کردے اور ہماری خطائیں بخش دے، اپنی رحمت میں سے کچھ حصہ اور اپنی شفاء میں کچھ حصہ اس بیماری پر نازل فرما دے، جو فلاں کے ساتھ ہے۔ پس وہ شفایاب ہو جاتا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دم تین مرتبہ کرنا ہے اور پھر تین بار سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنی ہیں۔
حدیث نمبر: 7718
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَوَّذَ مَرِيضًا قَالَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کے لئے بیماری سے پناہ مانگتے تویہ دعا پڑھتے: أَذْہِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے لوگوں کے رب! یہ تنگی دور کردے، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء صرف وہی ہے جو تو دے، ایسی شفاء دے کہ جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔)
حدیث نمبر: 7719
عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مَيْمُونَةَ قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أَخِي أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن بن سائب، جو کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے بھتیجے! کیا میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دم کروں؟انھوں نے کہا: جی ضرور کریں، سیدہ نے اس طرح دم کیا: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ فِیکَ أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتی ہیں، ہر اس بیماری سے، جو تیرے اندر ہے، اے لوگوں کے ربّ! تو بیماری کو دور کر دے اور تو شفا دے، تو ہی شافی ہے، بس کوئی شافی نہیں ہے، مگر تو ہی۔)
حدیث نمبر: 7720
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ بَعْضَ أَهْلِهِ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ يَقُولُ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض گھر والوں کو اس دعا کے ساتھ دم کیا کرتے تھے اور ساتھ ہی اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے تھے: اَذْھِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے لوگوں کے رب! تنگی کو دور کردے اور شفاء دے، بے شک تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں ہے کوئی شفا، مگر تیری، ایسی شفا دے، جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔ )
حدیث نمبر: 7721
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي يَقُولُ امْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا يَكْشِفُ الْكَرْبَ إِلَّا أَنْتَ وَفِي رِوَايَةٍ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کیا کرتے اور یہ دعا پڑھتے تھے: اِمْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِکَ الشِّفَاءُ لَا یَکْشِفُ الْکَرْبَ إِلَّا أَنْتَ (اے لوگوں کے ربّ! یہ تنگی دور کردے، شفاء صرف تیرے ہاتھ میں ہے، تکلیف کو تیرے سوا کوئی اور دور نہیں کرسکتا۔ ) ایک روایت میں ہے: بیماری کو ہٹانے والا کوئی نہیں ہے، مگر تو ہی۔
حدیث نمبر: 7722
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الْمَرِيضِ بِسْمِ اللَّهِ بِتُرْبَةِ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض کو دم کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ بِتُرْبَۃِ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِنَا لِیُشْفٰی سَقِیْمُنَا بِاِذْنِ رَبِّنَا (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، ہماری زمین کی مٹی کے ساتھ اور ہمارے ایک کے تھوک کے ساتھ تاکہ ہمارے بیمار کو شفاء ہوئے، ہمارے رب کے حکم کے ساتھ۔)
وضاحت:
فوائد: … اس کا طریقہ یہ ہے کہ دم کرنے والا اپنی انگشت شہادت پر تھوک لگا کر اس کو زمین سے مس کر مٹی لگا لے اور پھر اس انگلی کو زخم یا مریض پر پھیرے اور ساتھ ساتھ یہ دعا بھی پڑھے۔
حدیث نمبر: 7723
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَكِي وَفِي رِوَايَةٍ يَعُودُنِي فَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ وَفِي رِوَايَةٍ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ قُلْتُ بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری تیمارداری کے لئے میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ دم کروں، جو جبریل علیہ السلام نے مجھے کیا تھا؟ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیوں نہیں، ضرور کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: بِاسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیْکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ یُؤْذِیْکَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ہر بیماری سے شفاء دے، جو تجھے تکلیف دیتی ہے اور جو تجھ میں موجود ہے اور ان کی برائی سے تجھے دم کرتا ہوں جو گرہوں میں جادو کی پھونکیں مارتی ہیں اور حسد کرنے والے کے حسد سے تجھے دم کرتا ہوں، جب وہ حسد کرنے لگے۔)
حدیث نمبر: 7724
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ نَعَمْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد ! آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ تو انہوں نے یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ وَ عَیْنٍ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دیتی ہے اور ہر نفس اور نظر کے شرّ سے آپ کو شفاء دے، اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں۔)
حدیث نمبر: 7725
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ إِنِّي اشْتَكَيْتُ فَقَالَ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: ہم سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں بیمار ہوں، جواباً سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا دم نہ کروں؟ انہوں نے کہا: جی ضرور کریں، انھوں نے کہا: تو پھر یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْہِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے اللہ! جو لوگوں کا رب ہے! اے تکلیف دور کرنےوالے! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں کوئی شفاء دینے والا مگر تو ہی، شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔)
حدیث نمبر: 7726
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ فَتَفَلَ فِي فِيكَ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدَيْكَ وَيَقُولُ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَقَالَتْ فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرَأَتْ يَدُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محمد بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں تجھے حبشہ کی سرزمین میں لے گئی، واپس آرہی تھی، جب مدینہ کا سفر ایک دورات کا باقی رہ گیا تو میں نے تیرے لئے کھانا پکایا، ایندھن ختم ہوا تو میں اس کی تلاش میں نکلی، اُدھر تو نے ہنڈیا پکڑی جو تیرے بازو پر الٹ کر گر گئی اور بازہ جل گیا، میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! یہ محمد بن حاطب ہے، اس کا بازو زخمی ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے منہ میں لعاب ڈالا اور تیرے سر پر ہاتھ پھیرا اور تیرے لئے دعا کی اور تیرے ہاتھوں پر بھی تھوک کی پھوہار ڈالی اور فرمایا: أَذْہِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (تکلیف دور کردے اے لوگوں کے رب! اور شفاء دے تو ہی شافی ہے، نہیں ہے شفا، مگر وہ شفاء جو تیری طرف سے ہو، ایسی شفاء عطاء کر جو بیماری نہ چھوڑے۔) میری ماں کہتی ہیں: میں ابھی آپ کے پاس سے تجھے لے کر کھڑی نہیں ہوئی تھی کہ تیرا ہاتھ درست ہوچکا تھا۔
حدیث نمبر: 7727
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ انْصَبَّتْ عَلَى يَدِي مِنْ قِدْرٍ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَكَانٍ قَالَ فَقَالَ كَلَامًا فِيهِ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي قَالَ وَكَانَ يَتْفُلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا محمد بن حاطب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بازو پر ہنڈیا میں سے کوئی چیز گر گئی، میری ماں مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر دم کیا: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسْ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی (اس تکلیف کو دور کردے اے لوگوں کے رب! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔) ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلے ہوئے ہاتھ پر تھوک کی پھوہار سی ڈالتے تھے۔
حدیث نمبر: 7728
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ شَيْئًا وَنَفَثَ فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ قُلْتُ لِأُمِّي مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے میری ماں وادی ٔ بطحاء میں موجود ایک آدمی کے پاس لے گئی، یہ مکہ کی ایک وادی ہے، اس آدمی نے کچھ پڑھا اور پھوہار سی مار کر دم کیا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تھا تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا (جس نے مجھے دم کیا تھا)؟ انہوں نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔
حدیث نمبر: 7729
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي كُلِّ مَسْحَةٍ) قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عثمان بن ابو عاص بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، مجھے اتنا شدید درد تھا کہ قریب تھا کہ وہ مجھے ہلاک کردے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس درد والی جگہ پر اپنا دایاں ہاتھ سات مرتبہ پھیرا اور ساتھ ہی ہر بار یہ دعا پڑھ: أَعُوذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ (میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کی برائی سے جو میں پاتا ہوں۔) میں نے ایسے ہی دم کیا اورمجھے جو تکلیف تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو دور کردیا، پھر میں اپنے گھر والوں اور دوسرے لوگوں کو ہمیشہ دم کا یہ طریقہ سکھلاتا رہا۔
حدیث نمبر: 7730
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا يَقُولُ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَكَانَ يَقُولُ كَانَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ دیا کرتے تھے: أُعِیذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ۔ (میں تم کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان،ہر نظر بد اور زہریلی چیز سے) نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹوں سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور سیدنا اسحق علیہ السلام کو ان کلمات کے ذریعہ ہی اللہ تعالیٰ کی پنا میں دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7731
عَنْ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ أَلَمًا فَلْيَضَعْ يَدَهُ حَيْثُ يَجِدُ أَلَمَهُ ثُمَّ لِيَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو تکلیف ہو تو جہاں تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھے پھر سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: أَعُوذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہِ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ۔ (میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور قدرت کے ساتھ ہر اس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں، جس کو میں پاتا ہوں۔)
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں بہت ساری دعاؤں کا ذکر ہے، جن کے ذریعے دم کیا جاتا ہے، ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے، مزید دعائیں اور قرآن مجید کی آیات اور سورتیں ان کے علاوہ ہیں۔