کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان
حدیث نمبر: 7694
عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَأَخَذَ حَصِيرًا فَأَحْرَقَهُ فَحَشَا بِهِ جُرْحَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخموں کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی لاتے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور سے خون دھوتی تھیں اور ایک چٹائی لے کر اسے جلا کر اس کی راکھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زخم بھرا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ زخم لگے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7694
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 243، 3037، ومسلم: 1790 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23185»
حدیث نمبر: 7695
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْرَقَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ تَجْعَلُهُ عَلَى جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِوَجْهِهِ قَالَ وَأُتِيَ بِتُرْسٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَتْ عَنْهُ الدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو احد کے دن دیکھا کہ انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اسے جلا کر اس کی راکھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے مبارک کے زخم بھرے اور ڈھال میں پانی لایا گیا تھا، اس سے انھوں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خون صاف کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … راکھ سے زخم جلد خشک ہو جاتا ہے اور خون رک جاتا ہے، اب بھی دیہاتوں میں جسم پر لگنے والے کٹ پر راکھ لگا دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7695
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23217»
حدیث نمبر: 7696
عَنْ مَرْيَمَ ابْنَةِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ أَعِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ قَالَتْ نَعَمْ فَدَعَا بِهَا فَوَضَعَهَا عَلَى بَثْرَةٍ بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبِيرِ وَمُكَبِّرَ الصَّغِيرِ أَطْفِهَا عَنِّي فَطُفِئَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ صحابی رسول سیدنا ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ کی بیٹی مریم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا ذریرہ خوشبو ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ منگوائی اور اسے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان نکلنے والے چھالے پر لگا کر یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ مُطْفِیئَ الْکَبِیرِ وَمُکَبِّرَ الصَّغِیرِ أَطْفِہَا عَنِّی (اے اللہ! بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے، اسے بجھا دے۔) پس وہ چھالہ وہیں بجھ گیا۔
وضاحت:
فوائد: … ذریرہ: یہ ایک خوشبو دار پاؤڈر ہوتا ہے، جو کئی چیزوں کا مرکب ہوتا ہے، اس کو زخموں پر بھی چھڑکا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7696
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رواته من احمد الي منتھاه من رواة الصحيحين الا مريم بنت اياس بن البكير، وقد اختلف في صحبتھا، وأبوھا وأعمامھا من كبار الصحابة، ولأخيھا محمدٍ رؤية، أخرجه الحاكم: 4/ 207، والنسائي في عمل اليوم والليلة : 1031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23529»