کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
حدیث نمبر: 7692
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِفُ مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةَ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ أَسْوَدَ لَيْسَ بِالْعَظِيمِ وَلَا بِالصَّغِيرِ يُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَيُذَابُ فَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرق النساء کی بیماری کا علاج یہ بیان کیا ہے کہ سیاہ رنگ کا جنگلی مینڈھا لے کر جو کہ درمیانی عمر کا ہو، نہ بڑا ہو اور نہ چھوٹا، اسے ذبح کرکے اس کی سرین کا گوشت تین حصے کرلیا جائے اور اسے پگھلا کر یعنی یخنی بناکر تین دن پیا جائے۔
حدیث نمبر: 7693
عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَتَ مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَنْ تُؤْخَذَ أَلْيَةُ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ لَيْسَتْ بِصَغِيرَةٍ وَلَا عَظِيمَةٍ فَتُذَابَ ثُمَّ تُجَزَّأَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَيُشْرَبَ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى رِيقِ النَّفَسِ جُزْءًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معبد بن سیرین انصار کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ انصاری اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرق النساء کی بیماری کا علاج یہ بتایا ہے کہ عربی مینڈھا لیا جائے، جو نہ تو بہت چھوٹا ہو اور نہ ہی بہت بڑا، اس کے سرین کا گوشت لیا جائے اور اسے پگھلا لیا جائے یعنی یخنی بنالی جائے اور اس کے تین حصے کرلئے جائیں، ہر روز ایک حصہ نہار منہ پی لیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … عرق النساء ایک رگ ہے، جو کولہو سے نکل کر ران میں جاتی ہے اس میں خرابی آنے کی وجہ سے درد ہوتا ہے، جو بہت ہی بے چین کرتا ہے، اس کا علاج کبھی تو اسہال کے ذریعہ یعنی دست آور چیز کھلا کر کیا جاتا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا طریقہ علاج یہ بیان فرمایا ہے کہ دیہاتی اور جنگلی مینڈھا لیا جائے کیونکہ پہاڑوں اور صحرائوں میں چرنے کی وجہ سے اس کا گوشت علاج کے لئے مفید ہوتا ہے اور اس میں چربی اور فضولیات کم ہوتی ہیں اور جڑی بوٹیوں کی اس میں تاثیر ہوتی ہے۔