کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: پیٹ کی بیماریوں، اندرونی ورم اور بچوں کی حلق کی تکلیف کا عودِ ہندی کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7685
أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا شِفَاءً لِلذَّارِبَةِ بُطُونُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے پیشاب اور دودھ میں پیٹ کی بیماری کا علاج ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پیٹ کو ایک بیماری لاحق ہوتی ہے جس سے معدہ کا نظام خراب ہوجاتا ہے اور کھانا ہضم نہیں ہوتا، اس کے لئے آپ نے علاج بیان فرمایا ہے کہ اونٹوں کے پیشاب اور اونٹنیوں کے دودھ ملا کر پلائیں تو ایسے مریض تندرست ہوجاتے ہیں، جیسا کہ عکل قبیلہ کے لوگ جب مدینہ منورہ آئے اور انھوں نے اس مقدس شہر کی آب و فضا کو موافق نہ پایا، جس کی وجہ سے ان کے پیٹ بڑھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے یہ علاج تجویز کیا کہ وہ باہر اونٹوں والی جگہ میں چلے جائیں اور اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں، پس انھوں نے ایسے ہی کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے، پھر یہ لوگ مرتد ہو گئے تھے، ان کی مزید تفصیل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7685
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 12976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2677»
حدیث نمبر: 7686
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ قَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا قَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّابِعَةِ صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میرے بھائی کو دست آرہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس نے اسے شہد پلایا اور آ کر کہا: میں نے اسے شہد پلایا، لیکن اس وجہ سے اسہال میں اضافہ ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پس وہ گیا، لیکن پھر اس نے آ کر کہا: جی میں نے اس کو شہد پلایا ہے، لیکن اسہال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اور شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور سہ بار اس نے آ کر کہا: میں نے اس کو شہد پلایا ہے، لیکن اسہال میں اضافہ ہی ہوا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی بار اس سے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس بار جب اس نے اس کو شہد پلایا تو وہ شفایاب ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھٹلا رہا ہے، (یعنی تیرے بھائی کا پیٹ شفا قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا)۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: امام ابن قیم نے (زاد المعاد: ۳/ ۹۷۔۹۸) میں شہد کے بے شمار فوائد ذکر کرنے کے بعد کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے لیے یہ دوا تجویز کی تھی، اس کو بسیار خوری کی وجہ سے بد ہضمی ہو گئی تھی اور پھر دست شروع ہو گئے تھے، اسے شہد پینے کا حکم دیا گیا، تاکہ معدہ اور انتڑیوں سے زائد مواد خارج ہو جائے۔ جب معدہ میں لیس دار مکسچر ٹھہرتا ہے تو وہ اس کی اندرونی جہت کو ڈھانکنے والے ریشوں میں پھنس جاتا ہے، اس طرح معدہ میں فساد اور بگاڑ آ جاتا ہے اور چپچپاہٹ کی وجہ سے وہاں غذا نہیں ٹھہر پاتی۔ ایسی صورت میں سب سے بہترین دوا وہ ہوتی ہے جو مخلوط مواد کو معدہ سے خارج کر دے اور وہ شہد ہے، بالخصوص جب اس کو گرم پانی کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7686
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5684، ومسلم: 2217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11163»
حدیث نمبر: 7687
عَنْ رِبْعِيَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ الْكِلَابِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُلُوا الرُّمَّانَ بِشَحْمِهِ فَإِنَّهُ دِبَاغُ الْمَعِدَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ربیعہ بنت عیاض کلاَبِیْہِ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا: انار اس کی جھلی سمیت کھاؤ، یہ معدہ کے لئے ایسے ہی ہے جس طرح چمڑا رنگنے سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معدہ کی اصلاح کے لئے نسخہ بتایا ہے جو کہ نہایت ہی مفید ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7687
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه البيھقي في الشعب : 5958، وابن عدي في الكامل : 3/ 1098، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23625»
حدیث نمبر: 7688
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَدَاوَوْا مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَالزَّيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا ہے وہ نمونیا بیماری کا علاج عود ہندی اور زیتون کے تیل کے ذریعہ کریں۔
وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُوْا الزَّیْتَ وَادَّھِنُوْا بِہٖ، فَإِنَّہُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُبَارَکَۃٍ۔)) … زیتون کا تیل کھایا کرو اور اسی سے تیل لگایا کرو، کیونکہ وہ بابرکت درخت سے ہے۔ یہ حدیث سیدنا عمر، سیدنا ابو اسید، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت کی گئی ہے۔ ترمذی: ۱/۳۴۰، وابن ماجہ: ۳۳۱۹،صحیحہ: ۳۷۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7688
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «التداوي بالعود الھندي منه صحيح، وميمون ابو عبد الله ضعيف، أخرجه الترمذي: 2079، وابن ماجه: 3467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19504»
حدیث نمبر: 7689
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ قَالَ قَتَادَةُ يَلُدُّهُ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمونیا بیماری کے لیے زیتون کے تیل اور ورس بوٹی تجویز کیا کرتے تھے۔ امام قتادہ نے کہا: منہ کی اس جانب سے ان کے قطرے ڈالے جائیں جس جانب بیماری کی شکایت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ذات جنب دو قسم کی بیماری ہوتی ہے ایک یہ ہے کہ پول میں انتڑیوں اور ہڈیوں کے اندر ورم پیدا ہوجاتا ہے اسے حقیقی ذات جنب کہتے ہیں دوسری ذات جنب بیماری یہ ہے کہ پہلو میں غلیظ ہوا پیدا ہوتی ہے جس سے سخت اذیت ہوتی ہے اور درد پیدا ہوتا ہے اس ذات جنب بیماری سے بخار، کھانسی، سانس کی تنگی، گوشت کے اندر تکلیف وغیرہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اس کا علاج زیر شرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ عود ہندی کو اچھی طرح کوٹ کر باریک کرلیا جائے اور زیتون کے گرم تیل میں ملا کر درد والی جگہ پر مل دی جائے یا مریض کو چٹا دی جائے تو بہت مفید ہے اور اس سے اعضاء کو قوت بھی حاصل ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7689
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19542»
حدیث نمبر: 7690
عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أُخْتِ عُكَّاشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جِئْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ أَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ الْعُذْرَةُ وَفِي رِوَايَةٍ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ قَالَ يَعْنِي الْكُسْتَ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَبِيَّهَا فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَكُنِ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَمَضَتِ السُّنَّةُ بِأَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ وَيُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَيُسْتَسْعَطُ لِلْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ لِذَاتِ الْجَنْبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے ایک بیٹے کو لائی جس کے حلق میں دوائی لگا کر زخمی کردیا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں مار کر بچوں کے حلق زخمی نہ کیا کرو ،یہ عود ہندی استعمال کیا کرو، اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، ان میں سے ایک بیماری نمونیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو پکڑ کر اسے گود میں بٹھا لیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیشاب کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا، بچہ ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہ پہنچا تھا۔امام زہری کہتے ہیں: یہی طریقہ رائج ہے کہ بچے کے پیشاب کرنے سے پانی چھڑکا جائے اور بچی کے پیشاب کرنے سے اسے دھویا جائے، حلق میں خرابی کے لئے ناک میں قطرے ڈالے جائیں اور نمونیا بیماری کے لئے منہ میں قطرے ڈالے جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7690
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 1485، 20168، وابوعوانة: 1/ 203، والطبراني في الكبير : 25/ 435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27540»
حدیث نمبر: 7691
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَبْعَثُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ فَقَالَ مَا لِهَذَا قَالَ فَقَالُوا بِهِ الْعُذْرَةُ قَالَ فَقَالَ عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ثُمَّ تُسْعِطَهُ إِيَّاهُ فَفَعَلُوا فَبَرَأَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (اور ایک راوی کی روایت کے مطابق) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ان کے پاس ایک بچہ تھا، جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہو گیا ہے؟ بتایا گیا کہ اس کے حلق میں تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کو تکلیف میں کیوں مبتلا کرتے ہوئے؟ اتنا ہی کافی ہے کہ عود ہندی لو اور اسے پانی میں سات مرتبہ تر کر لو اور اسے حلق میں ڈال دو، ابن ابی عتبہ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے ناک میں ڈالو۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ بچہ صحت یاب ہوگیا۔
وضاحت:
فوائد: … اسلامی طب اور جدید طب میں تجویز بالا دواؤں کے فوائد اور استعمال کی تفصیلات پر مزید مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7691
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 9، والبزار: 3024، والحاكم: 4/ 205، وابويعلي: 1912 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14438»