کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
حدیث نمبر: 7669
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ مِنْ بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ عَلَى الرِّيقِ لَمْ يَضُرَّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ شَيْءٌ حَتَّى يُمْسِيَ قَالَ فُلَيْحٌ وَأَظُنُّهُ قَالَ وَإِنْ أَكَلَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يُصْبِحَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انْظُرْ يَا عَامِرُ مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشْهَدُ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ وَمَا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نہار منہ مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی کھجوروں میں سے سات عجوہ کھجوریں کھائے گا، تو اسے سارا دن شام تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی اور اگر یہی کھجوریں شام کو کھائے گا تو صبح تک اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عامر! ذرا دیکھ لینا جو تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کررہے ہو۔ انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7669
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2047 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1528»
حدیث نمبر: 7670
عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی صبح سات عجوہ کھجوریں کھائے گا، اس دن اسے کوئی زہر اور جادو نقصان نہ پہنچائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7670
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5445، 5768، ومسلم: 2047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1571»
حدیث نمبر: 7671
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْكَمْأَةَ وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے پاس آئے جبکہ وہ کھمبی کا ذکر کر رہے تھے اور بعض کہہ رہے تھے کہ یہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھمبی تو مَنّ میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا بخش ہے اور عجوہ کھجور جنت میں سے ہے، یہ زہر کے لئے شفاء ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7671
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2066، وابن ماجه: 3455 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8666»
حدیث نمبر: 7672
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَنَازَعُونَ فِي الشَّجَرَةِ الَّتِي اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ أَحْسَبُهَا الْكَمْأَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور وہ اس درخت کے بارے میں بحث کررہے تھے کہ جس کے متعلق قرآن پاک میں آتا ہے کہ اسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ دیا گیا ہے اور اس کے لئے کوئی قرار نہیں ہے، بعض نے کہا: ہمارا خیال ہے اس درخت سے مراد کھمبی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھمبی تو مَنّ میں سے ہے، … ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7672
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن دون قصة الشجرة، وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9446»
حدیث نمبر: 7673
عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عجوہ کھجور اور صخرہ جنت سے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7673
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 3456 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15593»
حدیث نمبر: 7674
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَرْفَعُهُ) الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ (أَوْ قَالَ الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ فِي الْجَنَّةِ) شَكَّ الْمُشْمَعِلُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عجوہ کھجور اور صخرہ یا درخت جنت سے ہیں۔ مشمعل راوی کو شک ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7674
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20610»
حدیث نمبر: 7675
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَأَنَا وَصِيفٌ يَقُولُ الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)راوی کہتے ہیں: میں غلام تھا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عجوہ کھجور اور درخت جنت سے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عجوہ کھجور کا معاملہ تو واضح ہے، صخرہ سے کیا مراد ہے، جبکہ دوسری روایت میں درخت کے الفاظ بھی ہیں؟ جواباً چار اقوال پیش کیے جاتے ہیں:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7675
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
حدیث نمبر: 7676
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْكَمْأَةُ دَوَاءُ الْعَيْنِ وَإِنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ يَعْنِي الشُّونِيزَ الَّذِي يَكُونُ فِي الْمِلْحِ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا الْمَوْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھمبی آنکھوں کا بہترین علاج ہے اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ملا کر کھائی جائے یہ موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ ابن بریدہ نے کہا: الْحَبَّۃُ السَّوْدَائُ سے مراد شونیز ہے، (اسی کو کلونجی کہتے ہیں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7676
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 5676، وابن ابي شيبة: 8/ 10 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23326»
حدیث نمبر: 7677
عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي اثْنَيْنِ وَأَرْبَعِينَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْمَقَامِ وَهُمْ خَلْفَهُ جُلُوسٌ يَنْتَظِرُونَهُ فَلَمَّا صَلَّى أَهْوَى فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَثَارُوا وَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنْ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا فَقَالَ رَأَيْتُمُونِي حِينَ فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي أَهْوَيْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الْجَنَّةَ عُرِضَتْ عَلَيَّ فَلَمْ أَرَ مِثْلَ مَا فِيهَا وَإِنَّهَا مَرَّتْ بِي خَصْلَةٌ مِنْ عِنَبٍ فَأَعْجَبَتْنِي فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا لِآخُذَهَا فَسَبَقَتْنِي وَلَوْ أَخَذْتُهَا لَغَرَسْتُهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ حَتَّى تَأْكُلُوا مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ الْكَمْأَةَ دَوَاءُ الْعَيْنِ وَأَنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ الَّتِي تَكُونُ فِي الْمِلْحِ اعْلَمُوا أَنَّهَا دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا الْمَوْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جبکہ میرے سمیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیالیس صحابہ موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کررہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تو مقام ابراہیم اور کعبہ کے درمیان جھکے گویا کہ کوئی چیز پکڑ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے، وہ اٹھنے کے لئے حرکت میں آئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے انہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا، پس وہ بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے دیکھا تھا، جب میں نماز سے فارغ ہوا تو میں کعبہ کے درمیان جھکا تھا، جیسے میں کوئی چیز پکڑ رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ہم نے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت پیش کی گئی، میں نے ایسا دلکش منظر کبھی نہیں دیکھا، انگور کا ایک خوشہ میرے پاس سے گزارا گیا، وہ مجھے بہت پسند آیا، میں جھکا کہ اسے پکڑ لوں، لیکن وہ میرے ہاتھ نہ آیا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تمہارے درمیان اسے لگادیتا حتیٰ کہ تم جنت کا پھل کھاتے۔ جان لو! کھمبی آنکھوں کا علاج ہے اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ہے اور یہ بھی جان رکھو کہ یہ کلونجی جو نمک میں ملا کر کھائی جائے یہ سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7677
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، صالح بن حيان القرشي ضعيف، ولبعضه شواھد، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 5677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23360»
حدیث نمبر: 7678
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي تَمْرِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً (أَوْ قَالَ تِرْيَاقًا) أَوَّلَ بُكْرَةٍ عَلَى الرِّيقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کے بالائی علاقہ والی کھجوریں صبح نہار منہ کھانے سے شفاء ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7678
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2048، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24989»
حدیث نمبر: 7679
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى رِيقِ النَّفَسِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سِحْرٍ أَوْ سُمٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے بالائی علاقہ والی عجوہ کھجور کے بارے میں فرمایا: صبح صبح نہار منہ یہ کھجور کھانا ہر جادو اور زہر کے لئے تریاق ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7679
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25242»
حدیث نمبر: 7680
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنَ السَّلْوَى) وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھمبی مَن (اور ایک روایت کے مطابق سلویٰ) میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7680
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4478، ومسلم: 2049، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1625»
حدیث نمبر: 7681
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَمْأَةٌ فَقَالَ تَدْرُونَ مَا هَذَا هَذَا مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں کھمبی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ مَن میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7681
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1634»
حدیث نمبر: 7682
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالَ سُفْيَانُ السَّامُ الْمَوْتُ وَهِيَ الشُّونِيزُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کلونجی لازمی طور پر کھایا کرو، اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفاء ہے۔ امام سفیان نے کہا: سَام سے مراد موت اور حبّۂ سوداء سے مراد شونیز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7682
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5699، ومسلم: 2215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7285»
حدیث نمبر: 7683
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ قَالَ الْمَوْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلونجی کے بارے میں فرمایا: اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے، ما سوائے سام کے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!سام کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موت۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7683
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7548»
حدیث نمبر: 7684
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ يَعْنِي الْمَوْتَ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کلونجی لازمی طور پر استعمال کیا کرو، اس میں سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔ سَام سے مراد موت اور حبّۂ سوداء سے مراد شونیز یعنی کلونجی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عجوہ کھجور کی خاصیات کے بارے میں مختلف تحقیقات پیش کی جارہی ہیں، اس سے سب سے زیادہ فائدہ اس کو ہو گا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث پر یقین رکھ کر کھائے گا۔ عام طور پر کھجور میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ، کیلوریز، سوڈیم، منگنیشیم، آئرن، فاسفورس، سلفر اور کلورین پایا جاتا ہے۔ یہ سستی ٹانک ہے، عجوہ کھجور نہار منہ زہروں کا تریاق ہے، قولنج کو فائدہ دیتی ہے، گردے اور رحم کے دردوں میں مفید ہے، روزانہ سات عجوہ کھجوریں کھانا کوڑھ سے شفا کا سبب بنتا ہے، دل کے دورے میں سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر کھانی چاہئیں۔ یہ جسم کے ہر حصے کے لیے یکساں مفید ہے، اس کی سکنجبیں اور اس کے ساتھ بادام اور خشخاش کھانا بہت فائدہ دیتا ہے۔ زخموں کو مندمل کرتی ہے، اسہال دور کرتی ہے، یرقان کے لیے اکسیر ہے، پتہ اور جگر کے فعل کو درست کرتی ہے، اس سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں، کھجور کے ساتھ انار کا پانی معدہ کی سوزش اور اسہال میں مفید ہے۔ علاوہ ازیں یہ کئی فوائد اور خاصیات پر مشتمل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7684
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5687 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25581»