کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7656
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ أَوْ إِنْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ دَاءً وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے علاج کے طریقوں میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں ہے یا آگ سے داغ دینے میں ہے جو کہ بیماری کے موافق ہو، البتہ میں داغ لگانے کو پسند نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 7657
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ وَلَا أُحِبُّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، اگر کسی چیز میں شفا ہے، (تو ان تین میں ہے) یعنی سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں یا داغ لگوانے میں جو تکلیف کے علاج کے لئے مناسب ہو اور میں داغ کو ناپسند کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 7658
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ شَرْبَةِ عَسَلٍ وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ وَكَيَّةِ نَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کا داغ لگوانے میں، البتہ میں اپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ظاہری طور پر یہ روایت موقوف ہے، لیکن آخری جملہ دلالت کرتا ہے کہ یہ مرفوع روایت ہے، بہرحال صحیح بخاری اور سنن ابن ماجہ میں یہ پوری روایت مرفوع ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 7659
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ نَسْتَأْذِنُهُ أَنْ نَكْوِيَهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ارْضِفُوهُ إِنْ شِئْتُمْ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے پؤں کی بیماری کی وجہ سے تیمار داری کے لئے حاضر ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم داغ لگا دیں، جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، ہم نے پھر سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب ہم نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو گرم پتھر لگا لو۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں تھے۔
حدیث نمبر: 7660
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَوَانِي أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَمَا نُهِيتُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ کر میرا علاج کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، پس مجھے اس سے منع نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 7661
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رُمِيَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ أُحُدٍ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُوِيَ عَلَى أَكْحَلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کے بازو کی رگ پر تیر لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے بازو پر داغا جائے۔
حدیث نمبر: 7662
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ طَبِيبًا فَقَطَعَ لَهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک معالج کو بھیجا، جس نے ان کی رگ کو کاٹ کر اس کو داغ دیا،ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔
حدیث نمبر: 7663
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَكْحَلِهِ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں تیر لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھل کے ساتھ ان کو داغا، پھر جب اس پر ورم آ گیا تو آپ نے دوسری بار داغا۔
حدیث نمبر: 7664
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ كَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا أَوْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَلْقِهِ مِنَ الذُّبْحَةِ وَقَالَ لَا أَدَعُ فِي نَفْسِي حَرَجًا مِنْ سَعْدٍ أَوْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ یا سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو حلق کی بیماری کی وجہ سے داغ لگایا اور فرمایا: میں اپنے دل میں سعد یا اسعد بن زرراہ کے بارے میں کوئی حرج نہیں چھوڑنا چاہتا۔
حدیث نمبر: 7665
عَنْ جَابِرٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَوَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو داغا تھا۔
حدیث نمبر: 7666
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ أَنَّهُ أَخَذَتْهُ الشَّوْكَةُ فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ بِئْسَ الْمَيِّتُ لَيَهُودُ مَرَّتَيْنِ سَيَقُولُونَ لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ وَلَا أَمْلِكُ لَهُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَأَتَمَحَّلَنَّ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ وَكُوِيَ بِخَطَّيْنِ فَوْقَ رَأْسِهِ فَمَاتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ، جو عقبہ والے دن کے نقیبوں میں سے ایک تھے، سے مروی ہے کہ ان کے چہرے اور جسم پر سرخی چڑھ آئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں کی میت بہت بری ہوتی ہے، یہ بات دو مرتبہ فرمائی،عنقریب یہ یہودی کہیں گے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھی سے تکلیف دور کیوں نہ کرسکے، لیکن سن لو میں اس کے نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا، تاہم میں اس تکلیف کو حتی الامکان دور کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔ پھر آپ نے ان کے لئے حکم دیا تو ان کے سر کے اوپر دو لکیروں کی صورت میں داغ لگایا گیا، لیکن وہ شفایاب نہ ہوسکے اور وفات پا گئے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختار کل نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ اپنے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی موت کی مدت بڑھا سکتے تھے اور اپنی مرضی سے کسی کو شفا دے سکتے تھے، یہ اللہ تعالی کی صفات ہیں۔
حدیث نمبر: 7667
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داغ لگانے سے منع کیا ، لیکن ہم نے داغ لگوائے، پس ہم نہ کامیاب ہوئے اور نہ ہم نے نجات پائی۔
وضاحت:
فوائد: … داغنا فائدہ دیتا ہے، ممکن ہے یہ ایسے زخم ہوں، جو داغنے سے بھی ٹھیک نہ ہوتے ہوں۔
حدیث نمبر: 7668
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے داغ لگوایا یا دم کروایا وہ توکل سے بری ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … علاج معالجہ کے جائز اسباب استعمال کرنا توکل کے منافی نہیں ہے اور دغوانا اور دم کروانا علاج کے جائز اسباب میں سے ہے، دراصل اس حدیث میں توکل کی انتہائی اعلی قسم کو بیان کیا جا رہا ہے، جس میں کسی بیماری میں مبتلا ہونے والا اللہ تعالی کے فیصلے پر راضی ہو کر صبر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جس نے بیماری لگائی ہے، وہی اس کو دور کرنے پر بھی قادر ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَبْعُوْنَ الفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ، وَہُمُ الَّذِیْنَ لَا یَکْتَوُوْنَ وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ ولَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) یعنی: (میری امت کے) ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، (ان کی صفات یہ ہیں کہ وہ اپنے جسم کو) داغتے نہیں ہیں اور نہ دم کرواتے ہیں اور نہ کسی چیز سے برا شگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔