حدیث نمبر: 7645
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَقَالَ أَمْثَلُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے کی کمائی کے متعلق سوال کیا گیا،انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور سیدنا ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک صاع جو دینے کا حکم دیا اور ان کے آقاؤں سے مطالبہ کیا کہ انھوں نے اس پر آمدن کی جس مقدار کا تعین کر رکھا ہے، وہ اس میں کمی کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین علاج جو تم کرتے ہو، وہ سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سینگی لگوانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قولی اور فعلی سنت ہے، اس سے جسم کا خراب اور فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم کو راحت ملتی ہے اورخون صاف ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس چیز کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے، دوبارہ اس کا احیاء ہونا چاہئے۔
حدیث نمبر: 7646
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور ٹخنوں کے درمیان سینگی لگوائی۔
حدیث نمبر: 7647
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ تَحْتَجِمُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَالَ وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةً أُسْرِيَ بِي إِلَّا قَالُوا عَلَيْكُمْ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سترہ انیس اکیس مہینہ کی جوتاریخ ہے یہ ایام سینگی لگوانے کے لیے نہایت موزوں اور بہتر ہیں اور فرمایا :معراج کی رات جب مجھے لے جایا گیا تو میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا ہوں انہوں نے یہی کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! سینگی کو لازم پکڑو۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن سینگی لگواتے وقت چاند کی ان تاریخوں کا خیال رکھنا درست ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے:
حدیث نمبر: 7648
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ تم علاج کرتے ہو، اس میں سے بہترین ذریعۂ علاج وہ ہے جو تم سینگی لگوا کر اورعود ہندی استعمال کرکے کرتے ہو اور اپنے بچوں کو گلے میں انگلی مار کر تکلیف نہ پہنچاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … اگر بچے کے حلق کا کوا اتر جائے تو اسے انگلی سے چوکا دے کر اپنی جگہ پر نہ لایا جائے، کیونکہ اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ کوئی دوا دے کر اس کا علاج کر لیا جائے۔
حدیث نمبر: 7649
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور کندھوں کے درمیان یعنی کمر کے اوپر والے حصے پر سینگی لگوائی۔
حدیث نمبر: 7650
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ثَلَاثًا وَاحِدَةً عَلَى كَاهِلِهِ وَاثْنَتَيْنِ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین جگہ پر سینگی لگواتے تھے، کندھو کے درمیان اور گردن کے دونوں جانبوں والی دور رگوں پر۔
حدیث نمبر: 7651
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَفِي الْحِجَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم علاج کرتے ہو، اس میں سے اگر کوئی بہترین طریقۂ علاج ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے۔
حدیث نمبر: 7652
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْحَجَّامَ فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ وَلَا يَعْرِفُهَا قَالَ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ قَالَ هَذَا الْحَجْمُ قَالَ وَمَا الْحَجْمُ قَالَ هَذَا مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے سینگی لگانے والے کو بلوایا، وہ سینگی لگانے کا آلہ لے کر آ گیا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹا دیا اورچھری سے آپ کے جسد اطہر پر بچھنے لگائے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آ گیا، جو بنو جذیمہ کی شاخ بنو فرازہ سے تھا، جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگواتے دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے کیا چھوڑ رکھا ہے کہ یہ آپ کی جلد کاٹ رہا ہے؟ دراصل اسے معلوم نہیں تھا کہ سینگی کیا چیز ہے نہ اس نے کبھی لگتے دیکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سینگی ہے۔ اس نے کہا: سینگی کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ جو علاج کرواتے ہیں، یہ سینگی ان کے بہترین علاج میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 7653
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَادَ الْمُقَنَّعَ فَقَالَ لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِيهِ الشِّفَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مقنع کی تیمار داری کی اور اس سے کہا: میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا، جب تک تو سینگی نہیں لگوائے گا،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سینگی لگوانے سے شفا حاصل ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 7654
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا قَطُّ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ احْتَجِمْ وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ إِلَّا قَالَ اخْضِبْهُمَا بِالْحِنَّاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ جس نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سردرد کی شکایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ سینگی لگاؤ۔ اور جس نے بھی پاؤں میں درد کی شکایت کی ہے، آپ نے اسے مہندی کا لیپ کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 7655
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت طلب کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں سینگی لگائے، یہ ابو طیبہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی تھا یا یہ ابھی نابالغ بچہ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … درج بالا اور دیگر کئی احادیث میں سینگی لگانے کا حکم اور ترغیب دلائی گئی ہے۔